Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں اوسط عمر 74 سے بڑھ کر 79.9 برس ہوگئی

مملکت کے صحت نظام میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔(فوٹو :عکاظ)
عالمی یوم صحت کے موقع پر ہیلتھ سیکٹر ٹرانسفارمیشن پروگرام نے مملکت کے صحت نظام میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان میں سب سے اہم  سعودی عرب میں لوگوں کی اوسط عمر 74 برس سے بڑھ کر 2025 کے اخر تک 79.9 برس تک پہنچ جانا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق اس کامیابی سے مملکت اپنے وژن 2030 کے ہف کے قریب پہنچ گئی ہے، جس میں اوسط عمر 80 سال کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
 بیان میں کہا گیا کہ’ صحت کے شعبے میں پیش رفت کی بنیادی وجہ کلینکل ٹرائلز میں تیز رفتار توسیع اور جدت ہے، جو 2023 سے 2025 کے دوران بڑھ کر 51.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔‘
تحقیقی ماحول میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جہاں کلینکل ٹرائلز(طبی تجربات) سپانسر کرنے والی کمپنیوں کی تعاد میں بھی 36 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ٹرائل سائٹس تعداد 13 تک پہنچ گئی ہے۔
ہیلتھ سیکٹر ٹرانسفارمیشن پروگرام کے سی ای او ڈاکٹر خالد الشیبانی نے کہا کہ’ علم و تحقیق میں سرمایہ کاری اب انسانی صحت میں ٹھوس نتائج کی صورت میں سامنے آرہے ہیں جو معیار زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ مملکت کے وژن 2030 سے بھی ہم آہنگ ہیں۔‘

خیال رہے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ہر برس 7 اپریل کو عالمی یوم صحت کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس کا مقصد ترجیحی صحتی مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔
رواں برس اس دن کا مرکزی خیال مشترکہ کوششوں کا فروغ اور سائنسی و اختراعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سب کے لیے پائیدار صحت مند مستقبل کی تعمیر کے لیے توجہ مبذول کرنا ہے۔

 

شیئر: