جازان: مملکت کا اہم اور دلکش سیاحتی مقام
جازان اپنی قدرتی رنگا رنگی اور ماحولیاتی زرخیزی کی وجہ سے بہت نمایاں حیثیت رکھتا ہے جس کے باعث اسے سعودی عرب کے جنوب میں واقع سب سے اہم سیاحتی منزل کا درجہ حاصل ہے۔
اس کی ایک وجہ یہاں سیاحت اور سرمایہ کاری کا مربوط ہونا بھی ہے جس سے طرح طرح کے دلکش مقامات اور یہاں کی جغرافیائی ہم آہنگی کا پتہ چلتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق جازان کے پہاڑی علاقے اس رنگار رنگی کا نمایاں پہلو ہیں اور اُن کی سب سے خاص بات حیران کر دینے والا قدرتی حُسن ہے جہاں اِن پہاڑوں کی سبز چوٹیاں دھند کی آغوش سے جلوہ نمائی کرتے ہوئے، گاہ آنکھوں کے سامنے اور گاہ آنکھوں سے اوجھل ہوتی رہتی ہیں۔
یہاں فلک بوس پہاڑوں پر دل میں سما جانے والے جمال آفریں نظارے، ماحولیاتی اور جغرافیائی تنوع کو انتہائی پُرکشش انداز میں لوگوں کے سامنے لے آتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یہ مقام سیاحوں کی من پسند منزل بن چکی ہے جہاں نظر پڑتے ہی دل میں اتر جانے والے پارک بھی ہیں جو اِس پہاڑی علاقے میں بنائے گئے ہیں اور قدرتی آبشاریں بھی ہیں جو دل و جان میں جوش و ولولہ بھی پیدا کرتی ہیں اور مہم جوئی کو بھی مہمیز لگاتی ہیں۔
اس علاقے میں گورنریٹ بھی قدرتی ماحول کی دلکشی کو بڑھاتے اور سرمایہ کاری کے امکان میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ الدائر، بنی مالک، العارضہ، العیدابی اور فیفاء کے گورنریٹ جوسطحِ بحر سے 2000 سے 3000 میٹر تک کی بلندی پر واقع ہیں، کئی مشہور پہاڑی سلسلوں کا ایک حصہ ہیں۔

یہ بلند علاقے دل موہ لینے والے مناظر اور دلپسند لینڈ سکیپ کے علاوہ معتدل آب و ہوا کے لیے بہترین مقامات ہیں۔ یہاں گھنے جنگل بھی ہیں جہاں کثرت سے پودے دیکھنے کو ملتے ہیں اور جانوروں کی بھی بہتات ہے۔
ان جنگلوں میں انواع و اقسام کے پرندے بھی پائے جاتے ہیں اور ایسے دیہات بھی ہیں جہاں لوگ آباد ہیں۔ یہاں سیڑھی دار زرعی کھیت بھی ہیں جو مختلف فصلیں پیدا کر رہے ہیں۔
اس کے برعکس کچھ دیگر علاقوں میں ناہموار زمینں ہیں جہاں آسمان سے باتیں کرتی پہاڑوں کی چوٹیاں ہیں۔ کہیں عمودی ڈھلانیں ہیں جو کوہ پیمائی اور مہم جُوئی کے شوقین افراد اور تاریخ اور قدرتی مقامات سے محبت رکھنے والوں کو اپنی طرف مائل کیے رکھتی ہیں۔

یہاں ہزاروں برس پہلے لکھی گئی تحریریں بھی ملتی ہیں اور وہ گاؤں بھی ہیں جہاں رہنے کی جگہیں، روایتی پتھروں سے بنائی گئی تھیں اور جو اب بھی اپنی مستند تعمیری خصوصیات کے ساتھ محفوظ ہیں۔
’سعودی وژن 2030‘ میں طے شدہ نصب العین کے تحت اِن علاقوں کی ترقی کو قیادت کی مستقل توجہ مل رہی ہے تاکہ سیاحت کو فروغ ملتا رہے، زرعی منصوبے چلتے رہیں، انفراسٹرکچر تعمیر ہوتا رہے اور ماحولیات پر سرمایہ کاری بڑھتی رہے جس سے مقامی معیشت متنوع بن جائے۔