Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جازان کی قدیم جھونپڑیاں ’ذہین فنِ تعمیر‘ کی علامت

جھونپڑی کا بنیادی ڈھانچہ اراک، اثل اور سدر کی لکڑیوں سے بنایا جاتا ہے (فوٹو: کے ایس اے ڈائریکٹری)
جازان کی قدیم روایتی جھونپڑیاں جنہیں ’نباتاتی شاہکار‘ کہا جاتا ہے، جو ماحولیاتی ضروریات کا ایک فطری اور ذہین حل پیش کرتی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ جھونپڑیاں ماحول دوست فنِ تعمیر کی بہتیرن مثال ہیں۔ ان میں قدرتی طور پر ہوا کا اخراج اور مقامی سطح پر میٹیریل کے استعمال سے انہیں جدید تعمیر میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
یوں تو تہامہ کی ساحلی پٹیوں سے بحیرۂ احمر کے ساحل تک یہ جھونپڑیاں دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن جازانی جھونپڑیاں اپنے بڑے سائز کی وجہ سے سب سے ممتاز ہیں۔
ہیریٹج کمیشن کی ہیڈ آف ہینڈی کرافٹس دالیا الیحییٰ کہتی ہیں کہ ’اس بات کا ابھی تک علم نہیں ہے کہ یہ کب اور کیسے تعمیر کیے گئے لیکن ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ جازان ریجن میں تہامہ کے لوگوں نے انہیں پرانے زمانے سے تعمیر کیا ہوا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جھونپڑیوں کو بنانے کا سلسلہ ایسا ہے جو کبھی نہیں رکا۔ اس سے خاندانوں کی ترقی کی تاریخ اور نسلوں کی ارتقاء ثابت ہوتی ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ فن تعمیر مسلسل تجربات کا پروڈکٹ ہیں۔‘
ان جھونپڑیوں کی دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک العُشہ قسم ہے جو زیادہ عام ہے جس کی فرش گول اور چھت مخروطی قسم کی ہے جبکہ دوسری قسم العریش ہے جس کی چھت گول ہوتی ہے۔
جازان ریجن کے منفرد ماحولیاتی اور جغرافیائی ماحول نے العشہ ڈیزائن کو ایجاد کرنے میں معاونت فراہم کی جس کا مقصد سخت موسم کو فن تعمیر کے ذریعے نرم کرنا تھا۔
دالیا الیحییٰ کہتی ہیں کہ ’ڈیزائن کو سخت درجہ حرارت اور نمی کا مقابلہ کرنے کے لیے  بنایا گیا تاکہ قدرتی طور پر ٹھنڈک ملے۔‘

جازانی جھونپڑوں کے بارے میں ایک غلط فہمی ہے کہ یہ کمزور سی چیز ہیں (فوٹو: فلکر)

ان کی گول شکل ہر سال آنے والے ریت کے طوفانوں سے بچنے کے لیے بنائی گئی جبکہ اس سے موسلادھار بارش کے بعد پانی کی نکاسی بھی ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ گھاس سے بنائی جانے والی چھت سے بارش کا پانی نہیں ٹپکتا اور سورج کی تپتی دھوپ اندر داخل نہیں ہوتی۔
تہامہ میں رہنے والے افراد ان جھونپڑوں کو مکمل طور پر مقامی میٹیریل سے بناتے آئے ہیں جسے ریجن کے قدرتی ماحول سے لیا گیا ہے۔
اس کا بنیادی ڈھانچہ اراک، اثل اور سدر کی لکڑیوں سے بنایا جاتا ہے جبکہ اندرونی حصوں کو مٹی کے گارے سے تعمیر کیا جاتا ہے جن پر پلاسٹر کی کوٹنگ کی جاتی ہے اور پھر انہیں رنگ لگایا جاتا ہے جسے روایتی طور پر ’نورا آرٹ‘ کہتے ہیں۔

الیحییٰ کہتی ہیں کہ ’یہ جھونپڑیاں بنیادی طور پر رہائش، سونے اور روزمرہ کے کام کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔‘
جازانی جھونپڑیوں کے بارے میں ایک غلط فہمی ہے کہ یہ کمزور سی چیز ہیں لیکن یہ ’ذہین فن تعمیر‘ کی علامت ہیں جو پائیداری میں اپنے وقت کے مطابق ایک جدید چیز مانی جاتی ہیں۔

 

شیئر: