کیا تصاویر میں بنائے گئے ہاتھ کے اشاروں سے فنگر پرنٹس کاپی کیے جا سکتے ہیں؟
کیا تصاویر میں بنائے گئے ہاتھ کے اشاروں سے فنگر پرنٹس کاپی کیے جا سکتے ہیں؟
جمعرات 21 مئی 2026 10:14
ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیلفی میں ’وکٹری سائن‘ بنانا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ہیکرز تصاویر سے فنگر پرنٹس چرا سکتے ہیں۔(فوٹو: گیٹی امیجز)
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سیلفی لیتے وقت ’وکٹری سائن‘ یعنی دو انگلیوں سے اشارہ بنانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ہیکرز تصاویر سے فنگر پرنٹس چرا کر لوگوں کے فون، بینک اکاؤنٹس اور ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا تکنیکی طور پر ممکن تو ہے، لیکن عملی طور پر اس کے امکانات بہت کم ہیں۔
ویب سائٹ یورو نیوز کے مطابق ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دھوکے باز سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر سے لوگوں کے فنگر پرنٹس کی اعلیٰ معیار کی کاپیاں تیار کر سکتے ہیں اور پھر انہیں ہیکنگ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل فرانزک کی ماہر اور یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن سے تعلق رکھنے والی سارہ مورس کے مطابق ایسا صرف انتہائی مخصوص حالات میں ممکن ہو سکتا ہے۔
’اس کے لیے درست روشنی، اعلیٰ معیار کا کیمرہ، زیادہ ریزولوشن، انگلی کا درست زاویہ اور کیمرے سے انتہائی کم فاصلہ ضروری ہوتا ہے۔
ان کے مطابق ’عام طور پر سیلفی لیتے وقت ہاتھ کیمرے سے کافی دور ہوتا ہے، اس لیے فنگر پرنٹ کی اتنی واضح تفصیل حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔‘
یونیورسٹی آف لوزان سے تعلق رکھنے والے ڈیجیٹل فرانزک سائنس کے ماہر فرینک بریٹنگر نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’اچھی کوالٹی کی تصاویر سے کچھ حساس معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں لیکن ان معلومات کو دوبارہ استعمال کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔‘
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ ہونے کے بعد ان کا معیار کم کر دیتے ہیں، جو اضافی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر اصل تصویر میں تفصیلات واضح نہ ہوں تو جدید الگورتھمز بھی فنگر پرنٹس کی درست نقل تیار نہیں کر سکتے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے تیزی سے بدلتی دنیا میں آن لائن مواد شیئر کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔(فوٹو: یورو نیوز)
سارہ مورس کے مطابق اگرچہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کے ذریعے بائیومیٹرک معلومات نکالنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، تاہم اس مقصد کے لیے درکار سافٹ ویئر عام طور پر دستیاب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’جہاں تک میری معلومات ہیں، یہ کوئی عام سافٹ ویئر نہیں اور نہ ہی میں نے عملی طور پر اسے استعمال ہوتے دیکھا ہے۔‘
ماہرین نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے تیزی سے بدلتی دنیا میں آن لائن مواد شیئر کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
وائرل ویڈیو میں بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ لوگ تصاویر میں اپنی انگلیوں کو واضح انداز میں نہ دکھائیں اور حساس معلومات کو دھندلا کرنے کے لیے فلٹرز استعمال کریں۔
تاہم سارہ مورس کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ احتیاط مکمل طور پر ضروری نہیں کیونکہ بائیومیٹرک معلومات نکالنے والی ٹیکنالوجی ابھی عام دستیاب نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بائیومیٹرک معلومات عموماً فون جیسی ڈیوائسز میں محفوظ ہوتی ہیں، اس لیے ہیکرز کو صرف فنگر پرنٹ ہی نہیں بلکہ اصل ڈیوائس تک رسائی بھی درکار ہوتی ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ صارفین سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کرتے وقت پس منظر اور ذاتی معلومات کے حوالے سے محتاط رہیں۔(فوٹو: گیٹی امیجز)
فرینک بریٹنگر نے کہا کہ ’اگر کسی کے پاس آپ کا فنگر پرنٹ ہو بھی تو وہ صرف تصویر دکھا کر بینک یا فون تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا، اس کے لیے مزید کئی مراحل درکار ہوتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی شخص فنگر پرنٹ سے محفوظ فون ہیک کرنا چاہے تو اسے اصل فون بھی درکار ہو گا جبکہ جدید سینسرز زندہ اور مصنوعی انگلی میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ صارفین سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کرتے وقت پس منظر اور ذاتی معلومات کے حوالے سے محتاط رہیں۔