سعودی پروجیکٹ: یمنی علاقے سے ایک ہزار 696 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ہٹایا گیا
جمعرات 9 اپریل 2026 18:54
اب تک حضر موت گورنریٹ میں 14 ہزار دھماکہ خیز مواد کو ہٹایا جا چکا ( فوٹو: ایکس اکاونٹ)
سعودی عرب کے مسام پروجیکٹ کی ایمرجنسی ٹیموں نے ایگزیکٹیو مائن ایکشن سینٹر المکلا برانچ کے تعاون سے غیل بن یمین ڈسٹرکٹ سے ایک ہزار 696 باردودی سرنگوں اور پھٹنے سے رہ جانے والے آرڈیننس کو ہٹایا ہے۔
ایگزیکٹیو مائن ایکشن سینٹر کے مطابق اس میں مختلف اقسام کے گولے، بارودی سرنگیں اور راکٹ شامل ہیں۔ جنوری کے وسط سے اب تک حضر موت گورنریٹ میں یہ ساتویں کارروائی ہے۔
مسام پرجیکٹ کی ٹیمیں، چوبیس گھنٹے بارودی سرنگوں، پھٹنے سے رہ جانے والے آرڈیننس اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ہٹانے کے لیے کام کرتی ہیں تاکہ یمن میں شہریوں کو خطرات سے بچایا جا سکے۔
حالیہ کارروائی کے بعد حضر موت گورنریٹ میں17 جنوری سے اب تک 14 ہزار 109 بارودی سرنگوں، آئی ای ڈیز اور پھٹنے سے رہ جانے والے آرڈیننس کو ہٹایا جا چکا ہے۔
یاد رہے دھماکہ خیز مواد اور بارودی سرنگوں کو بلا تفریق زمین میں بچھایا گیا تھا، جو عام لوگوں، خاص طور پر بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد کے لیے سنگین خطرہ بن رہا تھا۔

سعودی عرب، اپنے انسانی ہمدری کے ونگ شاہ سلمان مرکز کے ذریعے یمنی علاقوں میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ منصوبہ شہریوں کی سیفٹی کے ساتھ یمنی شہریوں کو محفوظ اور با وقار ماحول میں رہنے کے قابل بناتا ہے۔
