پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر اوکاڑہ کی عدالت نے ایک شخص کو قذف کے قانون کے تحت سزا سناتے ہوئے 80 کوڑے مارنے کا حکم دیا ہے۔
محمد بوٹا نامی شخص کو یہ سزا جمعرات کے روز سنائی گئی، جس پر وہ عدالت سے فرار ہو گیا۔
عدالت نے ملزم محمد بوٹا کو سابقہ بیوی پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے، اس کے ساتھ غیروں کے تعلقات اور غیر شرعی بچی کی پیدائش کا الزام لگانے کا مجرم قرار دیا۔
مزید پڑھیں
عدالت نے محمد بوٹا کے خلاف دائمی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے اور اوکاڑہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق ملزم کی سابقہ بیوی نے ابتدائی طور پر مقامی میجسٹریٹ کے پاس قذف کی شکایت درج کروائی تھی، جس کو ابتدائی سماعت کے بعد خارج کر دیا گیا۔
تاہم خاتون نے اس فیصلے کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا۔ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمان کی سربراہی میں بینچ نے 4 جون 2024 کے میجسٹریٹ کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا اور ٹرائل عدالت کو ملزم کو طلب کر کے قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔
اس کے بعد ٹرائل عدالت نے ملزم پر فرد جرم عائد کی اور مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج کے پاس منتقل ہوا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رانا خلیل احمد خان نے سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ سنایا کہ خاتون نے ملزم پر الزام ثابت کر دیا ہے۔

عدالت نے ملزم کو قذف (انفورسمنٹ آف حد) آرڈیننس 1979 کی دفعہ 7 کے تحت حد کی سزا سنائی اور 80 کوڑے مارنے کا حکم دیا۔ عدالت نے فیصلے کی کاپیاں اوکاڑہ ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی بھیج دیں۔
قذف کا قانون کیا ہے اور یہ کب سے نافذ ہے؟
فوجداری مقدمات کے ماہر وکیل ایڈوکیٹ شمیم ملک بتاتے ہیں کہ قذف کا قانون پاکستان میں 1979 میں جنرل ضیا الحق کے اسلامائزیشن پروگرام کے تحت نافذ کیا گیا۔
’اسے باقاعدہ طور پر آفنس آف قذف (انفورسمنٹ آف حد) آرڈیننس 1979 کہا جاتا ہے۔ یہ حدودی آرڈیننسز کا حصہ ہے جو زنا، چوری، شراب نوشی اور قذف جیسے جرائم کے لیے اسلامی حدود کا نفاذ کرتے ہیں۔‘
قذف کا مطلب ہے کسی پاک دامن شخص پر زنا کا جھوٹا الزام لگانا، چاہے وہ الفاظ، تحریر یا اشاروں کی شکل میں ہو۔
شمیم ملک کا کہنا تھا کہ ’قانون کے مطابق اگر کوئی شخص کسی محصن (پاک دامن بالغ) شخص پر زنا کا الزام لگاتا ہے اور چار گواہ پیش نہیں کر سکتا تو وہ قذف کا مرتکب ہوتا ہے۔‘
قذف کی حد کی سزا 80 کوڑے ہیں۔ اس کے علاوہ ملزم کی گواہی کسی بھی عدالت میں قبول نہیں ہوتی۔
قانون کی دفعہ 7 واضح طور پر کہتی ہے کہ قذف کی حد ثابت ہونے پر ملزم کو 80 کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔ یہ سزا عدالت کے حکم پر نافذ ہوتی ہے اور اپیل کی صورت میں اعلیٰ عدالت کی توثیق کے بعد ہی عمل میں آتی ہے۔

سزا پر عمل درآمد کیسے ہو گا اور کون کوڑے مارے گا؟
شمیم ملک کہتے ہیں کہ ’قانون کے مطابق سزا کی تصدیق کے بعد ملزم کو جیل بھیجا جاتا ہے جہاں مجاز حکام سزا نافذ کرتے ہیں۔ عام طور پر جیل کا وارڈر یا عدالت کی طرف سے مقرر کردہ افسر طبی افسر کی موجودگی میں ملزم کی پیٹھ پر کوڑے مارتا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’سزا ایک ہی نشست میں یا طبی حالات کے مطابق مراحل میں دی جا سکتی ہے۔ یہ عمل عوامی جگہ پر نہیں بلکہ جیل کے اندر ہوتا ہے تاکہ انسانی حقوق کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا جا سکے۔ عدالت نے اس کیس میں بھی جیل حکام کو فیصلے کی کاپی بھیج دی ہے تاکہ سزا کی تیار کی جا سکے۔‘
یاد رہے کہ قذف کی حد کی سزائیں پاکستان میں نسبتاً نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ 2006 کے پروٹیکشن آف ویمن ایکٹ نے حدودی قوانین میں کچھ تبدیلیاں کی تھیں۔
تاہم قذف کا آرڈیننس اب بھی نافذ ہے اس سے پہلے اپریل 2024 میں کراچی کی ملیر سیشن عدالت نے ایک شخص فاروق قادر کو اسی قانون کے تحت 80 کوڑوں کی سزا سنائی تھی۔
اس کیس میں بھی ملزم نے سابقہ بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور بچی کی شرعی حیثیت تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا جس کے بعد عدالت نے اسے بھی حد کی سزا دی تھی۔












