Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

واشنگٹن میں ممکنہ اسرائیل، لبنان مذاکرات کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

اسرائیلی وزیرِاعظم نے اپنی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’جلد از جلد لبنان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کرے۔‘ (فوٹو: روئٹرز)
امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان آئندہ ہفتے واشنگٹن میں مذاکرات متوقع ہیں۔ یہ مذاکرات اُس وقت ہونے جا رہے ہیں جب عالمی سطح پر یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اسرائیل کے لبنان پر حملے ایران اور امریکہ کے درمیان نازک جنگ بندی معاہدے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
یہ اعلان ایک طویل عرصے سے جاری تنازع میں ممکنہ طور پر ایک اہم سفارتی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیلی بمباری جاری ہے، جنگ بندی کی شرائط پر اختلافات موجود ہیں، اور بین الاقوامی دباؤ  بڑھ رہا ہے جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا سفارت کاری واقعی جنگ کی سمت بدل سکتی ہے یا نہیں؟
خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق، اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’جلد از جلد لبنان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کرے۔‘
یہ اسرائیلی پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی ہے، کیونکہ اس سے قبل حکام سفارتی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیوں کو ترجیح دے رہے تھے۔
ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ یہ پیش رفت واشنگٹن کے دباؤ کے بعد سامنے آئی، جب سٹیو وٹکوف نے نیتن یاہو سے کہا کہ لبنان میں حملے کم کریں اور مذاکرات کا آغاز کریں۔
لبنان کے سول ڈیفنس کے اداروں اور اسرائیل کے مطابق بدھ کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 254 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب چند گھنٹے قبل ہی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہوئی تھی، جس میں ایران اور پاکستان کے وزیرِاعظم کے مطابق لبنان کا محاذ بھی شامل تھا۔
ایران نے اس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی پر امن مذاکرات سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی ہے اور آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک بند رکھا ہوا ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ یہ جنگ بندی لبنان کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں پر لاگو ہوتی ہے۔

بدھ کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 254 لبنانی شہری ہلاک ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

لبنانی حکومت، فرانس کی حمایت کے ساتھ، کشیدگی کم کرنے کے لیے براہِ راست مذاکرات پر زور دے رہی ہے۔ ایکسیوس کے مطابق اس اقدام کا مقصد ’جنوبی لبنان پر طویل اسرائیلی قبضے کو روکنا‘ اور ممکنہ طور پر ’ایک تاریخی امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا‘ ہے۔
تاہم اسرائیل نے ابتدا میں ان تجاویز کو مسترد کر دیا تھا۔ ایکسیوس کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی کابینہ ابتدا میں حزب اللہ کے خلاف جنگ کو مزید شدت دینے کے حق میں تھے، مگر بعد میں انہیں امریکی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
نیتن یاہو نے مذاکرات کو بڑے اہداف کے ساتھ جوڑا ہے۔ ایکسیوس کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات ’حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیل و لبنان کے درمیان پرامن تعلقات قائم کرنے‘ پر مرکوز ہوں گے۔
یہ مذاکرات واشنگٹن میں شروع ہونے کی توقع ہے، جہاں دونوں ممالک کے وفود کی قیادت امریکہ میں تعینات سفیر کریں گے۔
لبنان کی نمائندگی:
لبنان کی نمائندگی کے لیے کئی نام زیرِ غور ہیں، تاہم امکان ہے کہ لبنان کی نمائندگی سفیر ندا حمادہ معوض کریں گی، جو پہلے ورلڈ بینک کے ڈویلپمنٹ ڈیٹا گروپ میں منیجر رہ چکی ہیں اور حکومتی تبادلوں کے بعد ایک نئی اور تکنیکی تقرری خیال کی جاتی ہیں۔
لبنانی میڈیا کے مطابق وہ کارپوریٹ خدمات کے علاوہ وزیرِاعظم کے ساتھ اقتصادی بحالی کی پالیسیوں پر بھی کام کر چکی ہیں، جن میں جنگ کے بعد لبنان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔
ان کا پروفائل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لبنان سیاسی مذاکرات کے ساتھ ساتھ اقتصادی استحکام اور عالمی روابط کو بھی آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
اسرائیل کی نمائندگی:
اسرائیل کی نمائندگی سفیر یخیئیل لیٹر کریں گے، جو ایک تجربہ کار سیاسی شخصیت ہیں اور نیتن یاہو کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔
امریکہ میں اسرائیلی سفارت خانے کے مطابق لیٹر مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، وہ سابق وزیرِاعظم ایریل شیرون کے مشیر اور اس وقت کے وزیرِ خزانہ بنیامین نیتن یاہو کے چیف آف سٹاف کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا پس منظر تعلیمی پالیسیوں اور سرکاری اداروں سے بھی منسلک رہا ہے۔
لیٹر کے بیانات میں امریکہ کے ساتھ سٹریٹجک ہم آہنگی اور سخت سکیورٹی مؤقف واضح نظر آتا ہے۔ ان کی تقرری اور نیتن یاہو سے قربت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ اسرائیل کا مذاکراتی مؤقف اس کی موجودہ فوجی حکمت عملی کے ساتھ تقریباً ہم آہنگ رہے گا۔

 

شیئر: