اقوامِ متحدہ نے جمعرات کو عالمی اوسط درجۂ حرارت میں اضافے کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اس سال اور اس کے بعد اگلے چار برسوں تک درجۂ حرارت ریکارڈ سطح کے قریب یا اس کے برابر رہنے کا امکان ہے۔
اب تک ریکارڈ کیے گئے 11 گرم ترین سال 2015 کے بعد ہی آئے ہیں، اور اقوامِ متحدہ کے موسمیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ رجحان جاری رہے گا، جبکہ 2031 سے پہلے ایک اور گرم ترین سال اس فہرست میں شامل ہونے کا امکان ہے۔
ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کے مطابق اس بات کا 75 فیصد امکان موجود ہے کہ 2026 سے 2030 کے درمیان پانچ سال کا اوسط درجۂ حرارت صنعتی دور سے پہلے (1850-1900) کی اوسط سے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی اہم حد کو عبور کر جائے گا۔
مزید پڑھیں
یہ پیش گوئی ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب مغربی یورپ ایک ’ہیٹ ڈوم‘ یعنی گرم ہوا کے دباؤ میں جھلس رہا ہے، جس کے باعث برطانیہ اور فرانس میں مئی کے درجۂ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔
ادارے نے کہا کہ ’آنے والے پانچ برسوں میں عالمی اوسط درجۂ حرارت ریکارڈ سطح کے قریب یا اس کے برابر رہنے کا امکان ہے۔‘
ادارے نے مزید کہا کہ ’86 فیصد امکان ہے کہ 2026 سے 2030 کے درمیان کسی ایک سال میں درجۂ حرارت 2024 کا ریکارڈ توڑتے ہوئے نیا ریکارڈ قائم کرے گا۔‘
2027 پر ایل نینو کا اثر
ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کے مرکزی مصنف لیون ہرمانسن کے مطابق، 2026 کے اوآخر میں ایل نینو کے آنے کی پیش گوئی ہے، جس سے یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ اس کے بعد والا سال یعنی 2027 نیا ریکارڈ قائم کرنے والا سال ثابت ہوگا۔‘

گزشتہ ایل نینو نے 2023 کو تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال بنانے میں کردار ادا کیا، جبکہ 2024 تقریباً 1.55 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کے ساتھ سب سے گرم سال بن گیا۔
ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے جو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں کے سمندری درجۂ حرارت کو بڑھاتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، فضائی دباؤ اور بارشوں کے نظام میں تبدیلی آتی ہے۔
یہ عموماً ہر دو سے سات سال کے درمیان ظاہر ہوتا ہے اور تقریباً 9 سے 12 ماہ تک جاری رہتا ہے۔
1.3 سے 1.9 ڈگری تک اضافہ
2015 کے پیرس ماحولیاتی معاہدے کا مقصد عالمی حدت کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 2 ڈگری سے نمایاں طور پر کم، اور ترجیحی طور پر 1.5 ڈگری سے نیچے رکھنا تھا۔
یہ اہداف 1850-1900 کے اوسط درجۂ حرارت کے مقابلے میں طے کیے گئے ہیں، جب انسان نے بڑے پیمانے پر کوئلہ، تیل اور گیس جلانا شروع نہیں کیا تھا، جن سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ موسمیاتی تبدیلی کی بڑی وجہ ہے۔

ڈبلیو ایم او کے مطابق، 2026 سے 2030 کے دوران درجۂ حرارت سالانہ 1850 سے 1900 کے درمیان رہنے والے اوسط درجۂ حرارت سے 1.3 سے 1.9 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
ادارے نے مزید کہا کہ 91 فیصد امکان ہے کہ 2026 سے 2030 کے درمیان کم از کم ایک سال ایسا ہوگا جب درجۂ حرارت عارضی طور پر 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کر جائے گا۔
اسی طرح 75 فیصد امکان ہے کہ پورے پانچ سال کی اوسط میں بھی یہ حد عبور ہو جائے گی۔












