Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ڈیجیٹل تقدیر پر اپنا کنٹرول‘، وہ وجہ جس نے فرانس کو مائیکروسافٹ سے دور کر دیا

لینکس ایک مفت اور اوپن سورس سسٹم ہے جسے مختلف ضروریات کے مطابق اپنی مرضی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے (فوٹو: وائرڈ)
فرانس نے امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ’مائیکروسافٹ ونڈوز‘ کو بتدریج ترک کر کے ’لینکس‘ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
فرانسیسی حکومت کے مطابق سرکاری اداروں کے کچھ کمپیوٹرز، جو اس وقت ونڈوز پر چل رہے ہیں، انہیں اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم ’لینکس‘ پر منتقل کیا جائے گا۔
لینکس ایک مفت اور اوپن سورس سسٹم ہے جسے مختلف ضروریات کے مطابق اپنی مرضی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
فرانس کے وزیر ڈیوڈ امیئل نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس اقدام کا مقصد اپنی ڈیجیٹل تقدیر پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔‘
ان کے مطابق حکومت اب اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ اس کے ڈیٹا اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر مکمل اختیار نہ ہو۔
اگرچہ اس منتقلی کے لیے کوئی حتمی ٹائم لائن یا مخصوص ’لینکس‘ ڈسٹری بیوشنز کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اس عمل کا آغاز فرانسیسی حکومت کی ڈیجیٹل ایجنسی (ڈی آئی این یو ایم) سے ہوگا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ بھر میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر انحصار کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ پہلے ہی یورپی کمیشن کو ہدایت دے چکی ہے کہ وہ ایسے شعبوں کی نشاندہی کرے جہاں غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کیا جا سکے۔
فرانس اس سے قبل بھی اسی پالیسی کے تحت اقدامات کر چکا ہے۔ حکومت نے چند ماہ پہلے ’مائیکروسافٹ ٹیمز‘ کا استعمال ترک کر کے مقامی طور پر تیار کردہ ’ویژیو‘ کو اپنانے کا اعلان کیا تھا، جو اوپن سورس ویڈیو ٹول جِٹسی پر مبنی ہے۔
حکام کے مطابق حکومت اپنے ہیلتھ ڈیٹا پلیٹ فارم کو بھی رواں سال کے اختتام تک ایک محفوظ اور مقامی پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ تمام اقدامات ’ڈیجیٹل خودمختاری‘ کے تصور کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد قومی سطح پر ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

شیئر: