Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سمارٹ واچ کے نیچے جلنے والی سبز لائٹ کا راز کیا ہے اور صحت سے اس کا کیا تعلق ہے؟

اگر آپ سمارٹ واچ استعمال کرتے ہیں تو آپ نے یقیناً کبھی نہ کبھی اسے کلائی سے اتارتے وقت غور کیا ہوگا کہ اس کے نچلے حصے میں ایک یا دو سیکنڈ کے لیے سبز رنگ کی روشنی (گرین لائٹ) چمکتی ہے۔
چاہے آپ کے پاس لاکھوں روپے مالیت کی مہنگی ’ایپل واچ‘ ہو یا پھر کوئی سستی فٹنس بینڈ، قریباً تمام ہی سمارٹ واچز میں یہ سبز لائٹ لازمی موجود ہوتی ہے۔
لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ لائٹ ہمیشہ سبز ہی کیوں ہوتی ہے، نیلی، پیلی یا کوئی اور رنگ کیوں نہیں؟
ٹیکنالوجی کی خبروں سے متعلق ویب سائٹ ‘بی جی آر‘ کے مطابق اس کے پیچھے چھپی سائنس اور وجہ انتہائی دلچسپ ہے جس کا تعلق براہِ راست آپ کے دل کی دھڑکن اور خون کے رنگ سے ہے۔
سمارٹ واچ آپ کی نبض کیسے ماپتی ہے؟
سمارٹ واچز آپ کی نبض یعنی دل کی دھڑکن کو ماپنے کے لیے ایک خاص سائنسی طریقہ کار استعمال کرتی ہیں جسے ’فوٹو پلیتھسموگرافی‘ کہا جاتا ہے۔
جب آپ کا دل دھڑکتا ہے اور جسم میں خون پمپ کرتا ہے تو آپ کی جلد کے نیچے موجود خون کی باریک رگیں پھیلتی اور سکڑتی ہیں۔
سمارٹ واچ آپ کی جلد پر سبز روشنی ڈالتی ہے اور یہ ریکارڈ کرتی ہے کہ کتنی روشنی جذب ہوئی اور کتنی واپس پلٹ کر آئی۔ اس حساب کتاب سے گھڑی آپ کو بتاتی ہے کہ آپ کا دل ایک منٹ میں کتنی بار دھڑک رہا ہے۔
لیکن لائٹ صرف ’سبز‘ ہی کیوں؟
اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ آپ کے خون کا رنگ ’سرخ‘ ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ خون میں ہیموگلوبن (آئرن سے بھرپور مالیکیولز) ہوتا ہے جو آکسیجن ملنے پر سرخ نظر آتا ہے۔

سمارٹ واچز دل کی دھڑکن کو ماپنے کے لیے ایک خاص سائنسی طریقہ کار استعمال کرتی ہیں (فوٹو: ٹیک جرنل ڈاٹ کام)

سائنسی اصول کے مطابق سرخ رنگ کی اشیاء سبز روشنی کو سب سے زیادہ اور تیزی سے جذب کرتی ہیں۔
جب دل کے دھڑکنے سے رگوں میں خون کا بہاؤ بڑھتا ہے تو وہ سمارٹ واچ کی زیادہ سے زیادہ سبز روشنی کو چوس لیتی ہیں اور جب بہاؤ کم ہوتا ہے تو روشنی کم جذب ہوتی ہے۔
سبز لائٹ کی وجہ سے سمارٹ واچ کے سینسرز کے لیے خون کے اس اتار چڑھاؤ کو سمجھنا انتہائی آسان ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ سبز روشنی دیگر رنگوں کے مقابلے میں جلد کے بہت زیادہ اندر تک نہیں جاتی۔ بظاہر یہ ایک خامی لگتی ہے لیکن سمارٹ واچ کے لیے یہی سب سے بڑا فائدہ ہے کیونکہ اسے صرف جلد کی اوپری سطح کا ڈیٹا چاہیے ہوتا ہے تاکہ وہ دل کی دھڑکن کی بالکل درست معلومات فراہم کر سکے۔
پھر کچھ گھڑیوں کے نیچے سرخ لائٹ کیوں جلتی ہے؟
اگر آپ کے پاس ایپل واچ یا کوئی اور جدید سمارٹ واچ ہے تو آپ نے بعض اوقات اس کے نیچے سرخ رنگ کی روشنی (ریڈ لائٹ) بھی چمکتی دیکھی ہو گی۔

اکثر سمارٹ واچز میں ہلکی جلتی بجھتی روشنیاں دکھائی دیتی ہیں (ٹیک جرنل ڈاٹ کام)

سرخ لائٹ کا کام دل کی دھڑکن ماپنا نہیں بلکہ آپ کے خون میں آکسیجن کی مقدار معلوم کرنا ہوتا ہے۔
اس عمل کو ’پلس آکسیمیٹری‘ کہا جاتا ہے جس میں سرخ اور انفرا ریڈ لائٹس کا استعمال ہوتا ہے۔
یہاں سائنس تھوڑی مختلف ہو جاتی ہے۔
خون میں موجود ہیموگلوبن میں آکسیجن کی مقدار جتنی زیادہ ہو گی، وہ اتنی ہی زیادہ انفرا ریڈ لائٹ جذب کرے گا اور سرخ لائٹ کو واپس پلٹائے گا۔
اس کے برعکس آکسیجن کم ہونے کی صورت میں وہ سرخ لائٹ زیادہ جذب کرے گا۔
سمارٹ واچ اسی جذب ہونے والی روشنی کا تناسب دیکھ کر بتاتی ہے کہ آپ کے خون میں آکسیجن کتنے فیصد ہے۔
اگر آپ کی سمارٹ واچ میں خون کی آکسیجن چیک کرنے والا فیچر موجود نہیں ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کے نیچے صرف سبز لائٹ والے سینسرز لگے ہیں، سرخ اور انفرا ریڈ والے نہیں۔

 

شیئر: