Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا، امریکی وفد کی آمد سنیچر کی صبح متوقع

ایران  کے پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا ہے جبکہ امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں سنیچر کی صبح پہنچے گا۔۔
پاکستان کے وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گیا۔
ایرانی وفد کا استقبال نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے کیا۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اس تنازع کے پائیدار اور دیرپا حل کے لیے فریقین کے درمیان سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایرانی پارلیمان سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں مذاکراتی وفد جمعہ کے روز امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچا۔
وفد میں اعلیٰ سطح کے سیاسی، فوجی اور معاشی عہدیداران شامل ہیں، جن میں ایرانی وزیر خارجہ، دفاعی کونسل کے سیکریٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور پارلیمنٹ کے کئی اراکین شامل ہیں۔
 
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر واشنگٹن تہران کی ’پیشگی شرائط‘ کو قبول کرتا ہے تو مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا
دوسری جانب امریکی نائب صدر مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد روانہ ہوچکے ہیں۔ ان کی اسلام آباد آمد سنیچر کو علی الصبح متوق ہے۔ ان کے ساتھ صدر ٹرمپ نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکاف اور داماد جیرڈ کشنر بھی ہیں۔
قبل ازیں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ دونوں کی قیادت جنگ بندی مذاکرات کے لیے پاکستان آرہی ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا تھا کہ پیش رفت آسان نہیں ہوگی۔
قوم سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’میری مخلصانہ دعوت پر دونوں ممالک کی قیادت اسلام آباد آ رہی ہے، جہاں قیامِ امن کے لیے مذاکرات ہوں گے۔‘
شہاز شریف نے کہا کہ ’ایک عارضی جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، لیکن اب اس سے بھی زیادہ مشکل مرحلہ درپیش ہے: مستقل جنگ بندی کا حصول اور پیچیدہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ وہ مرحلہ ہے جسے انگریزی میں ‘make or break’ کہتے ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ’ہر ممکن کوشش‘ کرے گی۔

 

شیئر: