Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

باقر قالیبان کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا، امریکی وفد کی آمد سنیچر کی صبح متوقع

امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں سنیچر کی صبح اسلام آباد پہنچے گا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کا کہنا ہے کہ پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا ہے جبکہ امریکی وفد نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں سنیچر کی صبح پہنچے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایرانی پارلیمان سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں مذاکراتی وفد جمعہ کے روز امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر واشنگٹن تہران کی ’پیشگی شرائط‘ کو قبول کرتا ہے تو مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔
وفد میں اعلیٰ سطح کے سیاسی، فوجی اور معاشی عہدیداران شامل ہیں، جن میں ایرانی وزیر خارجہ، دفاعی کونسل کے سیکریٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور پارلیمنٹ کے کئی اراکین شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد روانہ ہوچکے ہیں۔ ان کی اسلام آباد آمد سنیچر کو علی الصبح متوق ہے۔ ان کے ساتھ صدر ٹرمپ نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ سٹیو وٹکاف اور داماد جیرڈ کشنر بھی ہیں۔
قبل ازیں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ دونوں کی قیادت جنگ بندی مذاکرات کے لیے پاکستان آرہی ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا تھا کہ پیش رفت آسان نہیں ہوگی۔
قوم سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’میری مخلصانہ دعوت پر دونوں ممالک کی قیادت اسلام آباد آ رہی ہے، جہاں قیامِ امن کے لیے مذاکرات ہوں گے۔‘
شہاز شریف نے کہا کہ ’ایک عارضی جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، لیکن اب اس سے بھی زیادہ مشکل مرحلہ درپیش ہے: مستقل جنگ بندی کا حصول اور پیچیدہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ وہ مرحلہ ہے جسے انگریزی میں ‘make or break’ کہتے ہے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ’ہر ممکن کوشش‘ کرے گی۔

 

شیئر: