Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی صرف اسی لیے زندہ ہیں کہ مذاکرات پر تیار ہوئے: صدر ڈونلڈ ٹرمپ

مذاکرات میں شرکت کے لیے ایرانی اور امریکی وفود پاکستان پہنچ چکے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی آج صرف وجہ سے زندہ ہیں کہ وہ مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔
ان کا یہ بیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ و ایران کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا جو آج سے شروع ہو رہے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر نے جمعے کی رات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ایرانیوں کو اس بات کا احساس نہیں کہ ان کے پاس کوئی کارڈ موجود نہیں، سوائے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو استعمال کرتے ہوئے قلیل مدتی بھتہ لینے کے، اور آج وہ مذاکرات کرنے کی وجہ سے ہی زندہ ہیں۔‘
اس سے تھوڑی دیر قبل ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ واشنگٹن نے اس سے قبل ایران کے اثاثہ جات پر پابندیاں ختم اور لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔
لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ پر مارچ کے اوائل سے اسرائیلی حملوں میں اب تک دو ہزار کے قریب افراد مارے جا چکے ہیں۔
محمد باقر قالیباف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مذاکرات تب تک شروع نہیں ہوں گے جب تک وعدوں کو پورا نہیں کیا جاتا۔‘
اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ لبنان ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ وہ اس میں شامل ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق قالیباف نے ایک اور بیان میں کہا کہ ایران معاہدے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ واشنگٹن کی جانب سے بقول ان کے ایک ’حقیقی معاہدہ‘ پیش کیا جائے اور ایران کو اس کے حقوق دیے جائیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران کے مطالبات پر فوری طوری پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا ہے۔
پاکستان روانگی سے قبل انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر ایران نے ہمارے ساتھ کھیل کھیلنے کی کوشش کی تو وہ مذاکراتی ٹیم کو زیادہ ہمدرد نہیں پائیں گے۔‘

شیئر: