Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ’غیر معمولی‘ لوگ ہیں: صدر ٹرمپ کی تعریف   

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی جانب سے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر مکمل بریفنگ دی گئی۔
ٹروٹھ سوشل پر ایک پوسٹ میں اسلام آباد مذاکرات کے حوالے تفصیلات بیان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ‘مجھے نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، اور جیرڈ کشنر کی جانب سے اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات پر مکمل بریفنگ دی گئی ہے، جو پاکستان کی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی مہربان اور انتہائی قابل قیادت میں ہوئی۔ یہ دونوں غیر معمولی لوگ ہیں اور مسلسل میرا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ میں نے انڈیا کے ساتھ ایک ایسی تباہ کن جنگ کو روک کر 30 سے 50 ملین جانیں بچائیں۔ میں ہمیشہ یہ سن کر ان کی قدر کرتا ہوں، انسانی ہمدردی کے اس درجے کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’ایران کے ساتھ ملاقات صبح سویرے شروع ہوئی اور پوری رات جاری رہی، تقریباً 20 گھنٹے۔ میں اس کی تفصیلات میں جا سکتا ہوں اور بہت کچھ بیان کر سکتا ہوں جو حاصل ہوا، لیکن اصل بات صرف ایک ہے، ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر تیار نہیں ہے، کئی اعتبار سے جن نکات پر اتفاق ہوا وہ ہمارے فوجی آپریشنز کو جاری رکھ کر مکمل کرنے سے بہتر تھے، لیکن یہ سب اس کے مقابلے میں بے معنی ہیں کہ جوہری طاقت ایسے غیر مستحکم، مشکل اور غیر متوقع لوگوں کے ہاتھ میں دی جائے۔ وقت گزرنے کے ساتھ میرے تین نمائندے، جیسا کہ توقع تھی، ایران کے نمائندوں محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی، اور علی باقری کے ساتھ کافی دوستانہ اور احترام کے رشتے میں آگئے، لیکن اس سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ سب سے اہم معاملے پر سخت موقف پر قائم رہے، اور جیسا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے، شروع سے اور برسوں پہلے بھی، کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات صبح سویرے شروع ہوئے اور تقریباً 20 گھنٹوں تک جاری رہے۔ ان کے مطابق کئی نکات پر پیش رفت ہوئی، تاہم سب سے اہم مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے، جس پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ کچھ معاملات میں اتفاق رائے حاصل ہوا جو فوجی کارروائی جاری رکھنے سے بہتر تھا، لیکن یہ سب اس حقیقت کے سامنے بے معنی ہیں کہ ایران جوہری صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وفد اور ایرانی نمائندوں — محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور علی باقری — کے درمیان مذاکرات کے دوران خوشگوار ماحول رہا، تاہم ایران نے بنیادی مسئلے پر کسی قسم کی لچک نہیں دکھائی۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

شیئر: