صدر ٹرمپ کی جانب سے ’ہرمز معاہدے کا مسودہ مسترد‘، امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے
پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک امریکی آئل ٹینکر پر بھی فائرنگ کی (فوٹو: روئٹرز)
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے جمعرات کو کہا ہے کہ انہوں نے مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 50 منٹ پر ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائی بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب صبح سویرے ہونے والے امریکی حملے کے جواب میں کی گئی۔
عرب نیوز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اڈہ کہاں واقع ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ انہوں نے اگر اپنی نام نہاد ’جارحیت‘ کو دوبارہ دہرایا تو زیادہ ’فیصلہ کن‘ جواب دیا جائے گا، اور اس کے نتائج کی ذمہ داری ’جارح فریق‘ پر عائد ہوگی۔
اس سے پہلے ایک امریکی عہدیدار کے مطابق، امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے والے ایرانی ڈرون آپریشن کو نشانہ بناتے ہوئے نئی کارروائیاں کیں۔ یہ کارروائیاں اس وقت ہوئیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں آمد و رفت بحال کرنے کے لیے کوئی معاہدہ طے پا گیا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے ایران کے چار حملہ آور ڈرون مار گرائے اور بندر عباس کی بندرگاہ میں ایک زمینی کنٹرول سٹیشن کو بھی نشانہ بنایا جو پانچواں ڈرون لانچ کرنے والا تھا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اپریل کے اوائل میں نافذ ہوئی تھی۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ایک امریکی آئل ٹینکر پر بھی فائرنگ کی جو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، جس کے نتیجے میں اسے واپس مڑنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق، امریکی فوج نے اس کے بعد بندر عباس کے اطراف میں کھلے علاقوں کو نشانہ بنایا، تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکی فوج نے پیر کے روز جنوبی ایران میں بھی کارروائیاں کیں، جنہیں اس نے دفاعی اقدام قرار دیا، جبکہ ایران نے انہیں جنگ بندی کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا۔
اس سے قبل بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ابھی تک ایران کی معاہدوں کی پیشکشوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے مجوزہ معاہدےکے مسودے کی تفصیلات رپورٹ کیں۔
وائٹ ہاوس میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا’ وہ مشرق وسطی کی جنگ ختم کرنے کے معاہدے کے حوالے سے کسی جلدی میں نہیں۔ اس کے برعکس انہوں نے ہفتے کے آخر میں کہا تھا کہ ڈیل قریب ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعوی کیا کہ’ ایران بہت زیادہ سنجیدہ ہے، وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاہم ابھی تک وہ یہاں تک پہنچے۔ ہم اس سے مطمئن نہیں ہیں لیکن ہو جائیں گے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا’ یا تو معاہدہ ہوجائے گا یا پھر ہمیں’کام مکمل‘ کرنا پڑے گا۔‘ ان کا اشارہ دوبارہ جنگ کی طرف تھا۔