ایران میں 2025 کے دوران کم از کم 1639 پھانسیاں، 1989 کے بعد سب سے زیادہ: این جی اوز
رپورٹ کے مطابق ایران جنوری میں احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
دو این جی اوز نے کہا ہے کہ ایرانی حکام نے 2025 کے دوران کم سے کم ایک ہزار چھ سو 39 افراد کو پھانسی کی سزا دی جو کہ 1989 کے بعد سے اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق این جی اوز نے خبردار کیا ہے جنوری میں ہونے والے احتجاج اور امریکہ و اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد سزائے موت کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی اور سزائے موت کی مخالف ناروے اور پیرس کی این اوز ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) اور ای سی پی ایم نے اپنی مشترکہ سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ 2024 میں سزائے موت پانے والے 975 افراد کے مقابلے میں 68 فیصد اضافہ ہوا ہے جس میں 48 فیصد خواتین بھی شامل تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ’اگر اسلامی جمہوریہ اپنے موجودہ بحران سے نکل جاتا ہے تو اس بات کا بہت خطرہ موجود ہے کہ سزائے موت کو جبر کے آلے کے طور مزید وسیع پیمانے پر استعمال کیا جائے گا۔‘
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئی ایچ آر کے لیے سزائے موت کی تصدیق کے لیے دو ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ایران کے سرکاری میڈیا میں ایسے زیادہ تر واقعات رپورٹ نہیں ہوتے اس لیے یہ تعداد 2025 میں سزائے موت پانے والوں کی تعداد کے حوالے سے ’کم سے کم‘ ہو سکتی ہے۔
یہ تعداد روزانہ اوسطاً چار سے زیادہ سزائے اموات کے برابر بنتی ہے۔
رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ 2008 میں آئی ایچ آر کی جانب سے سزائے موت کے واقعات کا پتہ چلانے کے آغاز سے اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے اور انقلاب کے ابتدائی برسوں میں 1989 کے بعد سے بھی سب زیادہ تعداد ہے۔
این جی اوز کی جانب سے متنبہ کیا گیا ہے حکومت کے خلاف جنوری 2026 میں ہونے والے مظاہروں کے دوران بھی سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان کو بھی پھانسی کی سزا کے خطرات لاحق ہیں۔
اس احتجاج کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا تھا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس میں ہزاروں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہوئے۔
آئی ایچ آر کے ڈائریکٹر محمد امیری موغادم کا کہنا ہے کہ ’2025 میں حکام نے اوسطاً چار افراد کو سزائے موت دیتے ہوئے مظاہروں کو روکنے اور اپنی ٹوٹی ہوئی حکمرانی کو طول دینے کی کوشش کی۔‘
28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ و اسرائیل کے خلاف جنگ کے دوران بھی جنوری کے مظاہروں میں شرکت کرنے والے سات افراد کو پھانسی دی۔
ان میں سے چھ کو کالعدم حزب اختلاف کے گروپ پیپلز مجاہدین آف ایران کا رکن قرار دیا گیا جبکہ ایک ایرانی نژاد سویڈش شہری پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام لگایا گیا۔
