اسرائیلی عوام ایران سے جنگ بندی کے مخالف، عمل درآمد کے سوال پر منقسم: سروے
جنگ کے آغاز سے اب تک بنیامین نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی آئی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ہیبریو یونیورسٹی آف یروشلم کے ایک حالیہ سروے کے مطابق اسرائیل کی قریباً دو تہائی آبادی ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کی مخالفت کر رہی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس حوالے سے رائے عامہ منقسم ہے کہ آیا اسرائیل کو اس دو ہفتوں کی عارضی مہلت کا احترام کرنا چاہیے یا ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دینے چاہییں۔
یہ گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد کیا جانے والا پہلا قومی سروے ہے۔
اگرچہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی حتمی اور بڑے معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے لیکن اس عارضی جنگ بندی نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کو فی الحال روک دیا ہے۔
اس جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر کشیدگی کم نہیں ہوئی ہے جہاں ایرانی حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان لڑائی بدستور جاری ہے۔
سروے کے مطابق 61 فیصد سے زائد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ یہ جنگ بندی حزب اللہ کے ساتھ جاری لڑائی پر لاگو نہیں ہونی چاہیے جو کہ مذاکرات کے دوران ایران کا ایک بنیادی مطالبہ رہا ہے۔
جب اسرائیلیوں سے پوچھا گیا کہ ان کے ملک کو ایران کے بارے میں کیا کرنا چاہیے تو 39 فیصد نے حملے جاری رکھنے کی حمایت کی جبکہ 41 فیصد کا خیال تھا کہ جنگ بندی کا احترام کیا جانا چاہیے اور 19 فیصد نے کسی حتمی رائے کا اظہار نہیں کیا۔
جنگ بندی کے مستقبل کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کے دوران اسرائیلی حکام اس نتیجے پر پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ایران، لبنان اور غزہ میں ان کے دشمنوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہے، اسی لیے اسرائیل مشرق وسطیٰ میں ایک طویل المدتی تنازع کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔
اس فوجی صورتحال کا براہِ راست اثر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی سیاست پر بھی پڑ رہا ہے جنہیں اکتوبر میں ہونے والے انتخابات کا سامنا ہے۔
سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ جنگ کے آغاز سے اب تک بنیامین نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی آئی ہے اور اب صرف 34 فیصد اسرائیلی انہیں بطور وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ جنگ کے آغاز پر یہ شرح 40 فیصد تھی۔
لگ بھگ 1312 افراد پر مشتمل اس سروے سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی عوام جہاں سکیورٹی کے حوالے سے فکر مند ہیں وہیں سیاسی قیادت پر ان کا اعتماد بھی متزلزل ہو رہا ہے۔
