امن مذاکرات، گیند اب ایران کے کورٹ میں ہے: جے ڈی وینس
امن مذاکرات، گیند اب ایران کے کورٹ میں ہے: جے ڈی وینس
منگل 14 اپریل 2026 6:00
پاکستان میں مذاکرات کی ناکامی کے بعد صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اپنی ریڈلائنز واضح کر دی ہیں اور اب یہ تہران پر منحصر ہے کہ وہ قدم اٹھائے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو فاکس نیوز کو انٹرویو میں نائب امریکی صدر نے یہ بھی کہا ’میرا خیال ہے کہ گیند اب ایران کے کورٹ میں ہے کیونکہ ہم نے بہت کچھ میز پر رکھ دیا ہے۔ درحقیقت ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہماری ریڈلائنز کیا ہیں۔‘
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’خاص طور پر دو چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں امریکہ کے صدر کا کہنا ہے کہ ان پر لچک کا کوئی مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔‘
انہوں نے آگے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس میں دو نکات شامل ہیں، پہلا ایران کی یورینیم پر امریکہ کے کنٹرول سے متعلق ہے اور دوسرا ایک ایسا تصدیقی نظام یقینی بنانا ہے کہ ایران مستقبل میں ایٹمی ہتھیار نہ بنا سکے۔
نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایرانیوں کے حوالے سے ایک بات تو یہ ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے نہیں جا رہے تاہم ہمارے لیے دوسری بات یہ ہے کہ ایک ایسا میکانزم بنائیں کہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ ایسا نہیں ہونے جا رہا ہے۔‘
جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا کہ پچھلے ہفتے امریکہ و ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے حوالے سے واشنگٹن یہ توقع کرتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دے گا جس کو اس کی فوج نے مؤثر طور پر بند کر رکھا ہے۔
امریکہ اور ایران کے وفود 10 اور 11 اپریل کو اسلام آباد پہنچے تھے (فوٹو: وزیراعظم آفس)
خیال رہے نائب صدر جے ڈی وینس نے دو روز قبل اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی جبکہ ایران کی جانب سے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف وفد کے سربراہ کی حیثیت سے مذاکرات میں شریک ہوئے تھے۔
تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہو گئے تھے اور ڈی جے وینس نے واپس روانہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب دنیا کے زیادہ تر ممالک نے اپیل کی ہے کہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے اور تنازع کو سفارتی طور پر حل کیا جائے۔
اسلام آباد میں مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔