Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپین میں غیرقانونی تارکین کو قانونی حیثیت دینے کے اقدامات، ’پاکستانیوں کو بھی فائدہ ہوگا‘

سپین کی حکومت نے منگل کے روز اس سال کے آغاز میں اعلان کردہ تارکینِ وطن کے لیے عام معافی (امیگریشن ایمنسٹی) کے ایک منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کے تحت سپین میں غیرقانونی طور پر رہنے اور کام کرنے والے لاکھوں افراد قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکیں گے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ پالیسی یورپ کے زیادہ تر ممالک کے موجودہ رجحان سے بالکل مختلف ہے، جہاں حکومتیں مہاجرین کی آمد کم کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے برعکس بھی سمجھا جا رہا ہے۔
ہسپانوی وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے اس اقدام کو ’انصاف کا تقاضہ اور ایک ضرورت‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ پہلے ہی اس 50 ملین آبادی والے ملک میں رہ رہے ہیں اور کام کر رہے ہیں، انہیں برابر کے حالات میں رہنا چاہیے اور ٹیکس ادا کرنا چاہیے۔
پیڈرو سانچیز نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ہم حقوق کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ذمہ داریوں کا پورا کرنا بھی ضروری ہے۔‘
وہ لوگ جو کچھ مخصوص شرائط پوری کریں گے، ایک سال کا رہائشی اجازت نامہ اور ورک پرمٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکیں گے۔
امیگریشن وزیر الماسائز کے مطابق درخواستیں 20 اپریل سے ذاتی طور پر اور جمعرات سے آن لائن دی جا سکیں گی، جبکہ آخری تاریخ 30 جون ہوگی۔
اہلیت کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار یکم جنوری سے پہلے سپین آیا ہو اور یہ ثابت کرے کہ وہ کم از کم پانچ ماہ سے ملک میں رہ رہا ہے۔ یہ ثبوت ’سرکاری یا نجی دستاویزات‘ کے ذریعے دیا جا سکتا ہے۔ حکومت کے مطابق درخواست دہندہ کا مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں ہونا چاہیے۔
ایک سال بعد، جن لوگوں کو یہ عارضی اجازت ملے گی وہ دوسرے ورک یا رہائشی اجازت ناموں کے لیے بھی درخواست دے سکیں گے۔
حکومتی اندازوں کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ افراد اس عام معافی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ ایک تھنک ٹینک کے مطابق سپین میں تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار ایسے تارکینِ وطن موجود ہیں جو قانونی حیثیت کے بغیر رہ رہے ہیں۔

درخواست گزار کے لیے ضروری ہے کہ وہ یکم جنوری سے پہلے سپین آیا ہو اور کم از کم پانچ ماہ سے ملک میں رہ رہا ہو (فوٹو: روئٹرز)

حالیہ برسوں میں سپین کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس میں تقریباً ایک کروڑ افراد ایسے ہیں جو ملک سے باہر پیدا ہوئے ہیں، یعنی ہر پانچ میں سے ایک شخص غیر ملکی ہے۔ ان میں زیادہ تر کولمبیا، وینزویلا اور مراکش سے آئے ہیں، جو غربت، تشدد یا سیاسی عدم استحکام سے بچ کر آئے۔
یہ تارکینِ وطن سپین کی معیشت کے اہم شعبوں جیسے زراعت، سیاحت اور سروسز سیکٹر میں کام کر رہے ہیں۔
یہ سوال بہرحال اب بھی موجود ہے کہ حکومت اتنی بڑی تعداد میں درخواستوں کو مختصر وقت میں کیسے نمٹائے گی؟
امیگریشن افسروں کی یونین نے زیادہ وسائل کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حکومت اس چیلنج کے لیے تیار نہیں ہے۔
درخواستیں سپین بھر میں 60 سوشل سکیورٹی دفاتر، 371 ڈاک خانوں اور 5 امیگریشن دفاتر میں دی جا سکیں گی۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سپین نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو عام معافی دی ہو۔ اس سے پہلے 1986 سے 2005 کے درمیان چھ مرتبہ ایسا کیا جا چکا ہے، جن میں قدامت پسند حکومتیں بھی شامل تھیں۔
اپوزیشن جماعت پاپولر پارٹی نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے غیر پائیدار قرار دیا ہے، حالانکہ ماضی میں اس جماعت نے بھی دو بار اسی طرح غیر قانونی مہاجرین کو قانونی حیثیت دی تھی۔
سانچیز حکومت نے اس اقدام کو ایک ایسے حکومتی فرمان کے ذریعے تیزی سے منظور کیا جو امیگریشن قوانین میں ترمیم سے متعلق ہے۔ اس طریقے سے حکومت پارلیمنٹ کو نظرانداز کرنے میں کامیاب ہو گئی، جہاں اس کے پاس اکثریت نہیں ہے اور جہاں اس سے پہلے بھی ایمنسٹی دینے کی ایک کوشش تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔
وزیرِ امیگریشن الما سائز نے کہا کہ پورپی یونین کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک سپین اس پالیسی کے ذریعے اپنی ترقی کا سفر جاری رکھ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری خوشحالی کا براہِ راست تعلق امیگریشن کو بہتر طور پر منظم کرنے اور غیر ملکی کارکنوں کی شراکت سے ہے۔ یہ لوگ معیشت کو بڑھانے، روزگار پیدا کرنے اور فلاحی نظام کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔‘

سپین میں اس وقت ہزاروں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں (فوٹو: پاکستان قونصل خانہ، سپین)

سپین میں اس وقت ہزاروں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔ بارسلونا میں پاکستان کے قونصل جنرل مراد علی وزیر کے مطابق صرف کاتالونیا کے شمال مشرقی علاقے میں تقریباً 15 ہزار پاکستانی شہری بغیر اجازت مقیم ہیں۔
قانونی رہائش کے لیے درکار کریکٹر سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے قونصل خانے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
سپین میں مقیم پاکستانی طالب علم حسین ڈار نے کہا کہ ’مجھے توقع نہیں تھی کہ یہ ملک اتنا اچھا ہو گا؛ موسم، لوگ، ثقافت سب۔‘
انہوں نے کہا کہ اجازت نامہ ملنے کے بعد وہ کام کر سکیں گے، ٹیکس ادا کریں گے اور سپین کی معیشت میں حصہ ڈالیں گے۔ اس کے علاوہ وہ برسوں بعد اپنے خاندان سے بھی مل سکیں گے۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’ویوا سپین! ویوا پیڈرو سانچیز! ہمیں وہ بہت پسند ہیں۔‘

 

شیئر: