آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، تیل کے عالمی بہاؤ پر کیا اثر پڑے گا؟
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، تیل کے عالمی بہاؤ پر کیا اثر پڑے گا؟
منگل 14 اپریل 2026 12:10
اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے اور آنے والے بحری جہازوں کو روکنا شروع کر دیا ہے یہ ایک ایسا قدم ہے جو یومیہ 20 لاکھ بیرل تیل عالمی منڈیوں میں جانے سے روک دے گا جس سے رسد مزید گھٹ جائے گی۔
اس کے بعد تیل کی منڈیوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کی تفصیل برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔
ناکہ بندی کا اعلان
اسلام آباد میں امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات ناکام ہو جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس کی طرف سے آنے اور جانے والے تمام جہازوں کو روکا جائے گا۔
اس کے جواب میں ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے کہا کہ اگر امریکی جہاز آبنائے ہرمز کے قریب آئے تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا اور سخت جواب دیا جائے گا۔
تیل کے عالمی بہاؤ پر اثرات
کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق ایرانی ترسیل رکنے سے عالمی منڈیوں کا ایک اہم ذریعہ منقطع ہو جائے گا۔ ایران نے مارچ میں ایک اعشاریہ 24 ملین بیرل تیل یومیہ بنیاد پر مارکیٹ میں بھیجا اور اپریل میں اس کی طرف سے ایک اعشاریہ 71 ملین بیرل خام تیل آیا جبکہ 2025 کے دوران اس کی اوسط ایک اعشاریہ 68 ملین رہی۔
تاہم فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے سے پہلے ایرانی پیداوار میں اضافے کے باعث ایران کی برآمد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی۔
ناکہ بندی کی وجہ سے یومیہ 20 لاکھ بیرل تیل عالمی منڈی میں جانا بند ہو جائے گا (فوٹو: اے بی سی)
خلیجی ممالک کا تیل
منگل کومتحدہ عرب امارات میں حمریہ کے مقام سے تیل لے کر روانہ ہونے والا چینی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرا جو امریکہ کے ناکہ بندی کے اعلان کے بعد گزرنے والا پہلا جہاز تھا جبکہ اس وقت کے قریب دو اور جہاز بھی گزرے۔
اسی طرح اتوار کو پاکستان کے دو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جبکہ مالٹا کا ٹینکر واپس مڑتے ہوئے خلیج عمان میں چلا گیا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق سات اپریل تک 172 بلین خام اور ریفائنڈ تیل لے جانے والے 187 جہاز خلیج کے اندر تھے۔
کون سی برآمدات برآمدات زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں؟
جنگ سے پہلے زیادہ تر ایرانی تیل کی برآمد چین کی طرف ہو رہی تھی جو عالمی سطح پر خام تیل درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ پچھلے مہینے امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کے بعد انڈیا اور بعض دوسرے ممالک بھی ایرانی تیل لینے کے قابل ہوئے۔
ایل ایس ای جی اور کیپلر کے اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس ہفتے انڈیا سات سال میں پہلی بار ایران سے اپنی خام تیل کی کھیپ وصول کرنے والا تھا۔
جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی اشیا سے متعلق تجارت آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی تھی اور زیادہ تر کارگو سامان ایشیا کی طرف جاتا تھا اور یہ ایک بڑا درآمدی خطہ ہے۔