Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب میں ’گوبر ٹیکس‘ کی خبروں کی تردید: ’صفائی فیس اور بائیو گیس کا منصوبہ ہے‘

حکام کا موقف ہے کہ یہ کوئی ٹیکس نہیں بلکہ ان مخصوص علاقوں سے فضلہ اٹھانے کی ’سروس فیس‘ ہو سکتی ہے (فائل فوٹو: ٹیک جوس)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ بلدیات ذیشان رفیق نے صوبے میں بھینسوں کے فضلے (گوبر) پر روزانہ کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت کا فی الوقت ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
گزشتہ روز سے مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں نے عوامی سطح پر خاصی بحث چھیڑ دی تھی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت پنجاب نے ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کے تحت گوالا کالونیوں میں فی بھینس 30 روپے روزانہ ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صوبائی وزیر ذیشان رفیق نے جمعے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ فی بھینس 30 روپے وصولی کی خبریں ’درست نہیں‘ ہیں۔ تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ حکومت گوالا کالونیوں میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے اور وہاں سے گوبر اکٹھا کرنے کے لیے اضافی انتظامات ضرور کر رہی ہے۔
وزیرِ بلدیات کے مطابق ’ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت گوبر کو ضائع کرنے کے بجائے اس سے بائیو گیس تیار کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے لیکن اس پر کسی قسم کا ٹیکس لگانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔‘
لاہور سمیت پنجاب بھر کی 168 گوالا کالونیوں میں جہاں مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق لگ بھگ 50 لاکھ بھینسیں موجود ہیں، صفائی کے مسائل ایک عرصے سے درپیش ہیں۔
ابتدائی طور پر لاہور کی ہربنس پورہ اور گجر پورہ گوالا کالونیوں میں صفائی اور فضلے کی منتقلی کے بدلے ’فیس‘ وصولی کا ایک فارمولا زیرِ بحث رہا ہے جسے بعض حلقوں کی جانب سے ’گوبر ٹیکس‘ کا نام دیا گیا۔
حکام کا موقف ہے کہ یہ کوئی ٹیکس نہیں بلکہ ان مخصوص علاقوں سے فضلہ اٹھانے کی ’سروس فیس‘ ہو سکتی ہے جس پر گوالوں نے مبینہ طور پر آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔
پنجاب حکومت پہلے ہی ’ستھرا پنجاب‘ مہم کے تحت صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں میں گھروں سے کوڑا اٹھانے کی مد میں ماہانہ فیس وصول کرنے کا آغاز کر چکی ہے۔
اس سلسلے میں شہری علاقوں میں پانچ مرلے سے دو کنال تک کے گھروں پر 300 سے دو ہزار روپے تک کے بل مقرر کیے گئے ہیں جبکہ دیہی گھریلو صارفین کے لیے یہ فیس 200 سے 400 روپے کے درمیان ہے۔
اس کے علاوہ دکانوں اور تجارتی مراکز کے لیے یہ نرخ 500 سے ایک ہزار روپے تک رکھے گئے ہیں۔

شیئر: