آج کل کی تیز زندگی میں کام اور روزمرہ کے معمولات کے باعث گھر کو سلیقے سے سجانے کے لیے وقت اور توانائی دونوں بہت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گھر میں بے ترتیبی بڑھ جاتی ہے اور اس بات کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آغاز کہاں سے کیا جائے۔
اس مسئلے نے سعید موصلی کے ذہن میں بیت زین کو بنانے کا خیال ڈالا جس کے وہ بانی اور مینیجنگ پارٹنر ہیں۔ یہ کمپنی جگہوں کو ترتیب دینے کے لیے ماہر ہے۔
مزید پڑھیں
-
ریاض میں ھی حب لائف سٹائل فیشن شو کا آغازNode ID: 809281
-
نئے سال کا آغاز اِن لائف سٹائل ٹِپس سے کریںNode ID: 883934
بیت زین کلائنٹس کی ضروریات کو باریکی سے دیکھتی ہے اور پھر باریکی سے منصوبہ بندی کرتی ہے اور تفصیلات پر غور کرتی ہے۔ ان کا ہدف سادہ سا ہے کہ ایک متوازن، پرسکون اور صارف دوست جگہ فراہم کی جائے، سے روزمرہ کی زندگی آسان ہو۔
سعید موصلی کہتے ہیں کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی جگہیں تخلیق کرنی چاہیں جو کھلی، پرسکون اور شاندار زندگی کا دروازہ کھولیں۔‘
سعید موصلی کو بیت زین تخلیق کرنے کا خیال 2017 میں آیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ایک پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے، ہماری کلائنٹ نسرین حکیل نے میری گہری نظر رکھنے اور ہر چیز ترتیب سے رکھنے کی عادت کو دیکھا جس کے بعد انہوں نے مجھے الماریاں اور سامان رکھنے کی جگہیں فراہم کرنے کا کام سونپ دیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے اس پر جھگڑا کرنے کے بجائے اس کے فوائد کو دیکھنا شروع کیا۔ سعودی مارکیٹ خوبصورت جگہوں سے بھرپور ہیں لیکن وہاں رہنے والے انہیں استعمال نہیں کر رہے۔ لہذا میں نے اس مسئلے کے لیے بیت زین بنایا۔‘
آج بیت زین سعودی لائف سٹائل ٹرینڈز میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
موصلی نے کہا کہ ’میں یہ چیز اپنے کلائنٹس میں دیکھتا ہوں۔ لوگوں کو اس بات کی سمجھ آنا شروع ہو چکی ہے کہ لگژری کا مطلب زیادہ ہونا نہیں بلکہ اچھی زندگی گزارنا ہے۔‘
منظم جگہیں، صاف سسٹم اور تخلیق کیے گئے ڈیزائن معیار کی نئی علامت ہیں۔
موصلی کہتے ہیں کہ ’کلائنٹس کے رویوں میں تبدیلی آئی ہے۔ پہلے کلائنٹس ایک مرتبہ صفائی کا سیشن لیتے تھے اب وہ یہ کام مسلسل کروانا چاہتے ہیں۔ ہمارے مستقل کلائنٹس ہیں، بکنگ باقاعدگی سے ہو رہی ہے اور اس بات کا شعور پیدا ہو رہا ہے کہ منظم طریقے سے رہنا مستقل مزاجی کا نام ہے۔‘

کئی کلائنٹس عملی وجوہات کے باعث منظم ہونے کے لیے رابطہ کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ لائف سٹائل کی قدر کرنا شروع کر دیتے ہیں جس میں کلیرٹی، کنٹرول اور آسانی ہو اور وہ یہ سٹینڈرڈ لمبے عرصے تک برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔‘
موصلی سمجھتے ہیں کہ کامیاب ڈیزائن وہ ہے جسے استعمال کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر جگہ قابل استعمال نہیں ہے تو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ کتنی خوبصورت ہے۔‘
خوبصورتی اور آسانی کے علاوہ منظم جگہیں ذہنی صحت پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔
موصلی کہتے ہیں کہ ’جب چیزیں جگہ پر بکھری ہوئی ہوتی ہیں تو دماغ کو بھی بکھرا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن جب سب کچھ منظم ہوتا ہے تو لوگوں کو سکون محسوس ہوتا ہے۔‘
اس وقت الماریوں کی ترتیب اور فالتو سامان نکالنے کی سب سے زیادہ مانگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’الماریوں میں چیزیں زیادہ جلدی بکھر جاتی ہیں۔ لوگ سب سے پہلے اٹھ کر الماری کھولتے ہیں اور جب وہاں چیزیں بکھری ہوئی ہوں تو اس کا اُن کی روزانہ کی زندگی کا اثر پڑتا ہے۔‘
جب کلائنٹس کو ایک چیز میں فائدہ نظر آئے تو وہ پھر اسے اپنے پورے گھر میں پھیلانا چاہتے ہیں۔ کمپنی نے وارڈروب سٹائلنگ سروس بھی فراہم کی ہوئی ہے جسے مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔
گاہکوں کی امید پر پورا اترنے میں سعودی وژن 2030 نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
موصلی نے کہا کہ ’وژن 2030 نے مائنڈ سیٹ تبدیل کر دیا ہے۔ آج کے کلائنٹس زیادہ جاننے والے، شعور والے اور مانگ کرنے والے ہیں۔‘
عالمی چیزوں کو دیکھنے کے بعد کلائنٹس اس بات کی امید کرتے ہیں کہ ایسی جگہیں فراہم کی جائیں جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں۔
زیادہ ڈیمانڈ کے باوجود اس پیشے کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔

موصلی کہتے ہیں کہ ’زیادہ لوگوں کو لگتا ہے کہ اس کام کا مطلب چیزوں کو خوبصورت بنانا ہے بلکہ ایسا نہیں ہے۔ اس کا مقصد ہے کہ جگہوں سے کیسے کام لینا ہے۔ اگر جگہ ٹھیک نہیں ہے تو چیزیں پھر سے بکھر جائیں گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’کچھ لوگ جب اس چیز کا تجربہ کرتے ہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ضرورت ہے کیونکہ اس کا اُن کی روزمرہ کی زندگی سے براہ راست تعلق ہے۔‘
بیت زین اب کمرشل اور آپریشنل سطح پر بھی کام کو بڑھا رہی ہے جس میں دفاتر، ہسپتال اور ویئرہاؤس شامل ہیں۔ ایسی جگہوں پر سامان کو نکالنے کے بجائے کارکردگی دکھانا، ایسے سسٹم تیار کرنا جس میں چیزیں سٹور کی جا سکیں اور ٹریک کی جا سکیں شامل ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’بیت زین صرف سروس نہیں بلکہ تحریک ہے۔‘
ان کا مقصد بین الاقوامی لیونگ سٹینڈرڈز حاصل کرنا ہے اور لوگوں کے گھروں کی زندگی کو تبدیل کرنا ہے۔











