Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد، راولپنڈی میں ہر قسم کی ٹریفک کا داخلہ تاحکمِ ثانی بند

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کی انتظامیہ نے دونوں شہروں میں پبلک اور کسی بھی قسم کی ہیوی ٹریفک بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس کی اطلاع اتوار کی دوپہر کو ڈی سی اسلام آباد اور ڈی سی راولپنڈی کی جانب سے ایکس اکاؤنٹس پر دی گئی ہے۔
ڈی سی اسلام آباد کی پوسٹ کے مطابق ’وفاقی دارالحکومت میں پبلک اور ہیوی ٹرانسپورٹ کو تاحکم ثانی معطل کیا جا رہا ہے۔ شہریوں سے التماس ہے کہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔‘
اسی طرح ڈی سی راولپنڈی کی پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’راولپنڈی میں ہر قسم کی پرائیویٹ، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ تاحکم ثانی معطل رہے گی۔
پوسٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ’مزید معلومات سے بروقت آگاہ کیا جائے گا۔‘
اگرچہ دونوں پوسٹوں میں اقدام کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم امکان یہی ہے کہ اس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کا اگلا دور ہو سکتا ہے، جس کا اشارہ ملکی و غیر ملکی حکام کی جانب سے دیا جاتا رہا ہے۔

متبادل ٹریفک پلان 

پولیس نے متبادل روٹس کے حوالے سے متبادل ٹریفک پلان بھی جاری کر دیا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے یہ پلان 19 سے تاحکم ثانی نافذالعمل رہے گا جبکہ ریڈ زون اور توسیعی ریڈ زون مکمل طور پر بند کریں گے۔
کورال سے زیرو پوائنٹ تک ایکسپریس وے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔ سری نگر ہائی وے پر بھی مختلف اوقات میں ٹریفک روکی جا سکتی ہے۔ جی فائیو، سکس، سیون اور ایف سکس، سیون آنے جانے والوں کو نائنتھ ایونیو استعمال کرنے کا کہا گیا ہے۔
اسی طرح فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ آنے جانے والی ٹریفک نائنتھ ایونیو کی طرف موڑی جائے گی۔
زیر پوائنٹ سے کورال چوک بند ہونے کی صورت میں سری نگر ہائی وے سے نائنتھ ایونیو استعمال کرتے ہوئے سٹیڈیم روڈ کے ذریعے مری روڈ، چاندنی چوک سے راول روڈ استعمال کرتے ہوئے کورال جایا جا سکتا ہے۔
پارک روڈ سے کلب روڈ بند ہونے کی صورت میں ٹریفک ترامڑی چوک کی طرف موڑی جائے گی جبکہ بہارہ کہو سے راولپنڈی آنے جانے والے شہری کورنگ روڈ، بنی گالہ، لہتراڑ روڈا استعمال کریں گے۔

اسی طرح صدر سے اسلام آباد آنے والے شہری کرنل شیر خان ایونیو میں سے کوئی بھی شاہرہ استعمال کر سکیں گے۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہیوی ٹریفک مالکان دقت سے بچنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے سفر سے گریز کریں جبکہ شہر کے رہائشی سڑکیں بند ہونے کی صورت میں متبادل پلان پر عمل کریں۔
10 اور 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ و ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے تھے تاہم اس کے بعد بھی پاکستان ثالثی کے لیے کوشاں رہا اور بات چیت کے اگلے دور کا امکان ظاہر کیا جاتا رہا۔
کچھ روز سے ایسی خبریں گردش میں تھیں کہ ایک ہفتے تک کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کے ٹرانسپورٹ اڈوں کو بند کیا جا سکتا ہے اور باہر سے آنے والی دوسری گاڑیاں بھی داخل نہیں ہو سکیں گی، جس کے حوالے سے اب تک کوئی ٹھوس اطلاع موجود نہیں تھی تاہم اب انتظامیہ کی جانب سے اعلان کے بعد اس امر کو تقویت ملی ہے کہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں کسی بڑے ایونٹ کی تیاری کی جا رہی ہے۔

پچھلے مذاکرات کے موقع پر بھی شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کر دیا گیا تھا تاہم راستوں کی بندش کے باوجود پرائیویٹ گاڑیوں کا دوسرے راستوں سے اسلام آباد میں آمد کا سلسلہ کسی حد تک جاری رہا۔ انتظامیہ کے اعلانات سے ظاہر ہے کہ اس بار اس سے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
 اسلام آباد میں مذاکرات کا سب سے بڑا اشارہ پچھلے دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس وقت دیا گیا جب انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے تو وہ اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔
جبکہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے تین روز پیشتر کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات ممکنہ طور پر اگلے مرحلے میں وہیں ہوں گے جہاں پچھلی بار ہوئے تھے۔
ان کے مطابق ’پاکستانی اس سارے عمل میں غیر معمولی ثالث ثابت ہوئے ہیں اور ہم اُن کی دوستی اور اس معاہدے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں کو بے حد سراہتے ہیں۔‘
اسی طرح پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کل ہی سہ ملکی دورے سے لوٹے ہیں جبکہ فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا دورہ کیا اور حکام سے ملاقاتیں کی، ان اقدامات کو بھی مذاکرات کے لیے کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

شیئر: