Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد، راولپنڈی میں ہر قسم کی ٹریفک کا داخلہ تاحکم ثانی بند، ’عوام تعاون کریں‘

اسلام آباد میں کچھ روز سے خصوصی تیاریاں دکھائی دے رہی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کی انتظامیہ نے دونوں شہروں میں پبلک اور کسی قسم کی ہیوی ٹریفک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس کی اطلاع اتوار کی دوپہر کو ڈی سی اسلام آباد اور ڈی سی راولپنڈی کی جانب سے ایکس اکاؤنٹس پر دی گئی ہے۔
ڈی سی اسلام آباد کی پوسٹ کے مطابق ’وفاقی دارالحکومت میں پبلک اور ہیوی ٹرانسپورٹ کو تاحکم ثانی معطل کیا جا رہا ہے۔ شہریوں سے التماس ہے کہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔‘
اسی طرح ڈی سی راولپنڈی کی پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’راولپنڈی میں ہر قسم کی پرائیویٹ، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ تاحکم ثانی معطل رہے گی۔
پوسٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ’مزید معلومات سے بروقت آگاہ کیا جائے گا۔‘
اگرچہ دونوں پوسٹوں میں اقدام کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم امکان یہی ہے کہ اس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک دور ہو سکتی ہے، جس کا اشارہ ملکی و غیر ملکی حکام کی جانب سے دیا جاتا رہا ہے۔
10 اور 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکہ و ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے تھے تاہم اس کے بعد بھی پاکستان ثالثی کے لیے کوشاں رہا اور بات چیت کے اگلے دور کا امکان ظاہر کیا جاتا رہا۔

کچھ روز سے ایسی خبریں گردش میں تھیں کہ ایک ہفتے تک کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کے ٹرانسپورٹ اڈوں کو بند کیا جا سکتا ہے اور باہر سے آنے والی دوسری گاڑیاں بھی داخل نہیں ہو سکیں گی، جس کے حوالے سے اب تک کوئی ٹھوس اطلاع موجود نہیں تھی تاہم اب انتظامیہ کی جانب سے اعلان کے بعد اس امر کو تقویت ملی ہے کہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں کسی بڑے ایونٹ کی تیاری کی جا رہی ہے۔
پچھلے مذاکرات کے موقع پر بھی شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کر دیا گیا تھا تاہم راستوں کی بندش کے باوجود پرائیویٹ گاڑیوں کا اسلام آباد میں آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ انتظامیہ کے اعلانات سے ظاہر ہے کہ اس بار اس سے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
 اسلام آباد میں مذاکرات کا سب سے بڑا اشارہ پچھلے دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس وقت دیا گیا جب انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے تو وہ اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔

جبکہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے تین روز پیشتر کہا تھا امریکہ اور ایران کے مذاکرات ممکنہ طور پر اگلے مرحلے میں وہیں ہوں گے جہاں پچھلی بار ہوئے تھے۔
ان کے مطابق ’پاکستانی اس سارے عمل میں غیر معمولی ثالث ثابت ہوئے ہیں اور ہم اُن کی دوستی اور اس معاہدے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں کو بے حد سراہتے ہیں۔‘
اسی طرح پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کل ہی سہ ملکی دوسرے سے لوٹے ہیں جبکہ فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا دورہ کیا اور حکام سے ملاقاتیں کی، ان اقدامات کو بھی مذاکرات کے لیے کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

شیئر: