Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بحیرۂ احمر میں ڈوبنے والی کشتی پہ سوار چار تارکین پانچ روز بعد زندہ مل گئے

سمندر کے راستے یورپ جانے کی کوشش میں بے شمار لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں (فوٹو: اے پی)
یورپ جانے کی کوشش میں پانچ روز قبل ڈوبنے والی کشتی میں سوار چار تارکین کو بچا لیا گیا ہے جو مسلسل پانچ دن سمندر میں رہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے لیبیا کے ذرائع اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ تارکین کی کشتی پانچ روز قبل بحیرۂ روم میں لیبیا کے علاقے توبروک کے قریب ڈوب گئی تھی۔
اس کشتی پر سوار 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں سے چھ کی لاشیں بھی نکالی جا چکی ہیں جبکہ 31 ابھی تک لاپتہ ہیں۔
تاہم مذکورہ چار افراد نے پانچ روز پانی میں گزارنے کے باوجود ہار نہیں مانی اور بالآخر ایک کشتی کی نظر میں آ گئے۔
آئی ایم او کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کشتی پر سوار افراد کا تعلق مصر اور سوڈان سے تھا۔
لیبیا کو ایسے تارکین وطن کے لیے ایک ٹرانزٹ روٹ سمجھا جاتا ہے جو سمندر کے راستے غیرقانونی طور پر یورپ کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں تاہم اس سے قبل بھی ایسے بے شمار واقعات ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں لوگ سمندر کی بے رحم موجوں کی نذر ہوئے۔
ایسے کئی واقعات میں پاکستان بھی ہلاک ہو چکے ہیں اور اس خطرناک راستے سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہوتا ہے۔
پچھلے سال کے اواخر تک جمع کیے گئے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس کی 100 میونسپیلیٹیز میں اس وقت نو لاکھ سے زائد مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔

شیئر: