Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اٹلی کے قریب تارکین کی کشتی الٹنے سے 71 افراد لاپتہ، 32 کو بچا لیا گیا

رواں برس خراب موسم کے باعث حادثات میں کم سے کم 683 افراد ہلاک ہو چکے ہیں (فوٹو: فائل فوٹو: روئٹر)
اٹلی کے ساحل کے قریب لیبیا سے یورپ جانے والی تارکین وطن کشتی الٹ گئی جس کے نتیجے میں 71 افراد لاپتہ ہو گئے جبکہ الٹی کشتی پر سوار 32 افراد کو بچا لیا گیا جن میں سے دو دم توڑ چکے تھے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق واقعہ اتوار کو ایسٹر کے موقع پر پیش آیا۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ کشتی اس وقت دو تجارتی کشتیوں کی نظر میں آئی جب وہ وہاں سے گزر رہی تھیں اور ان کے عملے نے اپنے طور پر امدادی کارروائی کی۔
سمندری سفر پر نظر رکھنے والے نگران اداروں کا کہنا ہے کہ متاثرین کو اٹلی کے کوسٹ گارڈز کی کشتی میں منتقل کرنے کے بعد جزیرۂ لیمپیڈوسا لے جایا گیا۔
اٹلی کی وزارت داخلہ کی جانب سے واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے جبکہ کوسٹ گارڈ نے بھی تبصرے کے لیے بھجوائی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
ایسٹر کے موقع پر اٹلی کے طول و عرض میں چھٹی ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بچ جانے والے افراد نے بتایا کہ کشتی میں مجموعی طور پر 105 افراد سوار تھے جن میں سے 71 لاپتہ ہو گئے ہیں۔
سی واچ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں ایک الٹی ہوئی کشتی سے درجن بھر کے قریب افراد کو چمٹے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے قریب ایک تجارتی جہاز پہنچتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس برس بحیرۂ روم خراب موسم کی وجہ سے بہت متاثر ہوا ہے جس کے باعث شمالی افریقہ سے سفر بہت متاثر ہوا اور وہ لوگ جو اس کے باوجود سفر پر نکلنے میں کامیاب ہوئے ان کو سنگین نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے اندازہ لگایا ہے کہ اس برس بحیرۂ روم کے وسطی حصے میں کم سے کم 683 افراد ہلاک ہوئے جو کہ 2014 کے بعد سے اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

شیئر: