Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مکہ میں انڈیا سے ملنے والے 19ویں صدی کے قرآنِ کریم کے نایاب نسخے کی نمائش

حرا کلچرل ڈسٹرکٹ میں زائرین کو قرآنِ پاک کی تاریخ اور قرآنی خطاطی کے ارتقا کے بارے میں معلومات مہیا کی جاتی ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
مکہ کے حِرا کلچرل ڈسٹرکٹ میں قرآنِ میوزیم میں، انڈیا سے ملنے والے انیسویں صدی کے قرآنِ کریم کے ایک نایاب نسخے کی نمائش جاری ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ نسخہ جامع ہے اور اس کا ڈیزاین ہشت پہلُو ہے۔ اِس نسخے کو باآسانی اٹھایا جا سکتا ہے اور اِس میں جچے تلے فنکارانہ کمال اور جدت کا اِمتزاج ہے۔
نمائش میں رکھا گیا یہ نسخہ، میوزیم کے اُس مشن میں تعاون فراہم کرتا ہے جس کے تحت زائرین کو قرآنِ پاک کی تاریخ اور قرآنی خطاطی کے ارتقا کے بارے میں معلومات مہیا کرنا ہے۔ ساتھ ساتھ حِرا ڈسٹرکٹ کی ثقافتی اور سیاحتی دلچسپی میں اضافہ کرنا اور عالمی سطح پر مکہ کی اہمیت کو تقویت دینا ہے۔
اِس میوزیم میں خانہ کعبہ کے دروازے کا ایک نقش بھی نمائش پر رکھا گیا ہے جس میں فنکارانہ حُسن اور اسلامی تہذیب کے روحانی معانی کا امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔
بابِ کعبہ پر عربی میں قرآنِ کریم کی آیات کی خطاطی کی گئی ہے جس میں انتہائی پیچیدہ طریقے اور منفرد انداز کے ساتھ سجاوٹ کا کام شامل ہے۔
 بیت اللہ کا اصل دروازہ، شاہ خالد بن عبدالعزیز کے دور میں تعمیر ہوا تھا جس میں انتہائی نفاست کے ساتھ مختلف تفاصیل اور اعلٰی درجے کا آرائشی کندہ کاری کی گئی ہے۔ اصل دروازے پر بھی قرآنی آیات منقوش ہیں جو اللہ کے مقدس گھر کی حُرمت کا ایک اظہار ہے۔
کندہ کی گئی آیات، دروازے پر ایک توازن کے ساتھ نمودار ہوتی ہیں جو اِس کام کو سر انجام دینے والوں کے ہُنر کے کمال اور باریک بینی کو نگاہ میں رکھتے ہوئے ڈیزائن تیار کرنے والوں کی مہارت کا پتہ دیتی ہیں۔ اِن کے چاروں طرف پھولوں اور سیدھے خطوط اور شکلوں پر مشتمل ڈیزائن، فنی تخلیق کے امتیازی پہلو کا ثبوت ہے۔

حِرا ڈسٹرکٹ کے اِس میوزیم میں کئی پہلوؤں پر مشتمل نایاب نمونے والی ایک تصویر بھی ہے جس میں قرآنِ کریم کی پہلی وحی کو دکھایا گیا ہے۔ یہ فن پارہ، عربی کی خوش وضع اور شائستہ خطاطی کو اسلام کے تزئینی فن سے منسلک کر دیتا ہے۔
اس نایاب تصویر سے بنانے والوں کی غیر معمولی مہارت اور قرآنِ پاک کو معانی و مطالب کو نئی فنکارانہ جدت سے لوگوں کے سامنے لانے کی قدیم روایت کا بھی اظہار ہوتا ہے۔
اصل نسخہ شاہ عبدالعزیز کمپلیکس وقف لائبریری میں محفوظ ہے جو نایاب اسلامی مسودوں کو حفاظت سے رکھنے کی ذمہ دار ہے۔

اِس میوزیم میں معلوماتی مواد کو جدید اور خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے جس کی وجہ  سے زائرین اور نمائش کو دیکھنے کے لیے دیگر افراد جوق در جوق آ رہے ہیں اور اسلامی ثقافت میں مکہ کے مرکزی کردار کی اہمیت کو مضبوظ بنا رہے ہیں۔
حِرا کلچرل ڈسٹرکٹ، جبلِ حِرا کے پاس ہے جہاں غارِ حِرا واقع ہے جس میں پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اِس مقام کی نہ صرف مذہبی حیثیت بہت گہری ہے بلکہ اس کی تاریخی اہیمت بھی کسی بڑے واقعے سے کم نہیں ہے۔
حِرا ڈسٹرکٹ میں کئی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں جن میں سے نمایاں ’قرآن میوزیم‘ ہے جو تالیف و  تدوینِ قرآن اور اِس کی ترقی کی تاریخ کا شاہد ہے۔ میوزیم میں عربی خطاطی اور فنونِ اسلامی کی انٹرایکٹیو اشیا بھی نمائش کا حصہ ہیں۔

شیئر: