Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کسی کی روزی روٹی چل رہی ہے‘، اداکارہ میرا سے متعلق وائرل بحث میں اب تک کیا سامنے آیا

ایک پوڈ کاسٹ میں اداکارہ میرا اور تجزیہ کار ارشاد بھٹی کے درمیان بننے والے تنازع پر سوشل میڈیا پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب میرا کی فلم ’سائیکو‘ کی تشہیر کے سلسلے میں کیا گیا ایک پوڈکاسٹ کلپ وائرل ہوا۔
اس پوڈکاسٹ میں فلم کے مصنف و ہدایتکار شان شاہد بھی موجود تھے۔

انٹرویو اور تنازع کی وجہ

سوشل میڈیا پر ایک کلپ وائرل ہے جس میں اداکارہ  کی ارشاد بھٹی سے حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو ان کی نئی فلم کے بجائے جلد ہی میرا کی ذاتی زندگی کی طرف مڑ گئی۔

ایسے سوالات کے دوران بھی اداکارہ بات چیت کو فلم کی طرف لے جانے کی کوشش کرتی نظر آتی ہیں۔

صورتحال اس وقت مزید متنازع بنتی دکھائی دی جب اداکارہ نرمے لہجے میں بات کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں اور شکریہ ادا کرتے ہوئے رخصت ہو گئیں۔

ارشاد بھٹی کا ردعمل اور معذرت

بعد ازاں ارشاد بھٹی نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے دوستوں اور چاہنے والوں سے معذرت کرتے ہوئے میرا سے بھی معافی طلب کی۔
دوسری جانب میرا نے ایک غیرملکی نشریاتی سے گفتگو میں کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتیں اور وہ پوڈکاسٹ میں اپنی فلم سائیکو کی پروموشن کے لیے گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میں اکیلی عورت ہوں اور جدوجہد کر رہی ہوں، میرا سفر سب کے سامنے ہے۔ میں عورت کارڈ نہیں کھیل رہی لیکن میں عورت ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں ارشاد بھٹی صاحب کو معاف کرتی ہوں، وہ میرے دل کے اب بھی قریب ہیں۔‘ پوڈکاسٹ چھوڑنے کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ ’میں اپنی مرضی سے پوڈکاسٹ سے اُٹھ کر گئی اور میں نے بہت اخلاق سے انہیں خدا حافظ کہا۔‘

میرا نے کہا کہ وہ اس وقت بطور پروڈیوسر اپنی فلم کی تشہیر میں مصروف ہیں اور اپنے کام کا احترام چاہتی ہیں۔ 

انہوں نے خود کو ایک بزنس ویمن قرار دیتے ہوئے عالمی اداکاراؤں انجلینا جولی، مادھوری ڈکشٹ اور عالیہ بھٹ کی مثالیں بھی دیں۔

سوشل میڈیا پر اس معاملے پر رائے دو حصوں میں تقسیم نظر آئی۔ کچھ صارفین نے سوالات کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی خاتون کی ذاتی زندگی پر اس انداز میں گفتگو نہیں ہونی چاہیے، جبکہ بعض نے معذرت کو مثبت قدم قرار دیا۔
تاہم اس تمام بحث کے دوران سب سے زیادہ توجہ ایک اور پہلو نے حاصل کی جو تھا میرا کی بہن کا ایک انٹرویو، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا اور جس میں اداکارہ کی ذاتی زندگی سے متعلق کئی ایسے پہلو سامنے آئے جو عام طور پر کم ہی لوگ جانتے تھے۔
میرا کی بہن کے مطابق، بچپن میں والد کے انتقال کے بعد اداکارہ نے نہ صرف اپنی والدہ بلکہ پورے خاندان کی ذمہ داری سنبھالی اور عملی طور پر گھر کی سربراہ بن گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرا نے اپنے بہن بھائیوں کو بہتر اور محفوظ مستقبل دینے کے لیے کم عمری میں ہی بڑے فیصلے کیے، یہاں تک کہ انہیں برطانیہ بھجوا دیا تاکہ وہ ایک محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
ان کے بقول، 'میرا نے ہمیشہ ہمیں سپورٹ کیا، ہماری ماں کا سہارا بنی رہیں اور ہر طرح سے ہماری پرورش کی۔'

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میرا نے نہ صرف اپنی محنت سے نام بنایا بلکہ اپنے بہن بھائیوں کے لیے بیرونِ ملک گھر تک خریدا، تاکہ ان کی تعلیم اور رہائش کا مسئلہ حل ہو سکے۔

میرا کی بہن نے مزید کہا کہ اداکارہ نہایت مضبوط ارادوں کی مالک ہیں اور جب وہ کوئی فیصلہ کر لیں تو اسے ہر حال میں پورا کر کے رہتی ہیں۔ ان کے مطابق، 'ہم سب بہن بھائی ان کو خوش کرنے کی کوشش کرتے تھے، کیونکہ وہی ہمارے لیے ایک طرح سے والدین جیسی حیثیت رکھتی تھیں۔'
انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ میرا ہمیشہ چاہتی تھیں کہ ان کے بہن بھائی پاکستان آ کر اپنا کیریئر بنائیں، تاہم وقت کے ساتھ ترجیحات بدلتی رہیں۔ اس کے باوجود، ان کے مطابق میرا کی قربانیاں اور خاندان کے لیے کی گئی محنت ایک 'فیری ٹیل' کی طرح محسوس ہوتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرا منفی پبلسٹی کیے جانے پر کبھی کسی سے ناراض نہیں ہوتیں، وہ کہتی ہیں کہ میری وجہ سے کسی کی روزی روٹی چل رہی ہے تو ٹھیک ہے۔
یہ انٹرویو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر میرا کے لیے ہمدردی اور احترام میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی وکیل اور تجزیہ کار ریما عمر نے اپنے یوٹیوب پروگرام میں اس انٹرویو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس انٹرویو کو دیکھنے والوں کو بھی دکھ محسوس ہو رہا تھا، یہ سوالات کم اور ذاتی حملے زیادہ تھے۔‘

 

شیئر: