Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بی آر چوپڑا: سماجی سچائیوں کا بے باک داستان گو

بی آر چوپڑا نے تقسیمِ ہند سے قبل لاہور سے شائع ہونے والے فلمی جریدے ’سینے ہیرلڈ‘ سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا (فوٹو: نیشنل ہیرلڈ)
انڈین سنیما کے اُفق پر بی آر چوپڑا ایک ایسا نام ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز لفظ کی حرمت سے کیا اور اس کا اختتام بصری فنون کی معراج پر کیا۔
بی آر چوپڑا محض ایک فلم ساز نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے مصلح تھے جنہوں نے کیمرے کے لینس کو معاشرے کے ناسوروں کو بے نقاب کرنے کے لیے استعمال کیا۔
آزادی سے قبل پنجاب کے ضلع نواں شہر میں 22 اپریل 1914 کو پیدا ہونے والے بلدیو راج چوپڑا نےعوامی فلاح و بہبود کے محکمے میں کام کرنے والے ولایتی راج چوپڑا کے گھر میں آنکھیں کھولیں۔
وہ بعد میں لاہور منتقل ہو گئے جہاں سے انہوں نے انگریزی زبان میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے لاہور سے شائع ہونے والے فلمی ميگزین ’سینے ہیرالڈ‘ سے اپنے کریئر کی ابتدا کی اور پھر اس کے مدیر بن گئے اور تقسیم ہند تک اسے نکالتے رہے۔
شاید صحافت سے تعلق کی وجہ سے ہی ان کی فلموں میں ایک تجزیہ نگار کی گہرائی اور ایک رپورٹر کی صداقت نظر آتی ہے۔ انہوں نے اداکار اور فلمساز آئی ایس جوہر کے ساتھ ایک فلم ’چاندنی چوک‘ شروع کی لیکن وہ تقسیم کی وجہ سے آگے نہ بڑھ سکی۔
فسادات کی آگ نے انہیں دہلی اور پھر بمبئی ہجرت کرنے پر مجبور کیا، لیکن وہ جہاں بھی گئے اپنے ساتھ کہانیوں کا وہ بیش بہا خزانہ لے کر پہنچے جس نے آگے چل کر ’بی آر فلمز‘ جیسے عظیم ادارے کی بنیاد رکھی۔
بی آر چوپڑا کی زندگی کے چند ایسے گوشے بھی ہیں جو ان کی ثابت قدمی اور فنکارانہ بصیرت کی عکاسی کرتے ہیں۔ بمبئی (اب ممبئی) آمد پر انہوں نے فلم ’کروٹ‘ بنائی جو فلاپ ہو گئی۔ اس کے بعد اشوک کمار کے ساتھ فلم ’افسانہ‘ بنائی جس نے انہیں ایک فلمساز اور ہدایتکار کے طور پر متعارف کرایا۔ انہوں نے تب ’چاندنی چوک‘ پوری کی۔

انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی یش چوپڑا کی تربیت کی اور انہیں فلم ’دھول کا پھول‘ کے ذریعے ہدایت کاری کا موقع دیا (فوٹو: وکیپیڈیا)

بی آر چوپڑا نے سنہ 1955 میں اپنا پروڈکشن ہاؤس ’بی آر فلمز‘ قائم کیا۔ اس کے تحت ان کی پہلی فلم ’ایک ہی راستہ‘ تھی جس میں میناکماری کے ساتھ سنیل دت اور اشوک کمار تھے۔ اس کے بعد انہوں نے اس دور کے سپر سٹار دلیپ کمار کے ساتھ ایک فلم ’نیا دور‘ بنائی جو انتہائی کامیاب رہی لیکن اس کے ساتھ کئی کہانیاں جڑ گئیں۔
فلم نیا دور اور عدالتی معرکہ
فلم ’نیا دور‘ کی تیاری کے دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو فلمی تاریخ کا حصہ بن گیا۔ اس فلم کے لیے پہلے مدھوبالا کا انتخاب کیا گیا لیکن جب شوٹنگ کے لیے بھوپال کے آؤٹ ڈور شیڈول کی بات آئی تو مدھوبالا کے والد نے کچھ نجی وجوہات کی بنا پر انہیں باہر جانے سے روک دیا۔
چوپڑا اصولوں کے پکے تھے، انہوں نے اپنی ہیروئین کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی کا مقدمہ کر دیا۔ اس کیس میں دلیپ کمار نے مسٹر چوپڑا کے حق میں گواہی دی اور یہ دلیپ کمار اور مدھو بالا کے درمیان رنجش کی ایک بڑی وجہ کہی گئی۔ بعد میں اداکارہ وجنتی مالا کو اس فلم میں دلیپ کمار کے مقابلے میں کاسٹ کیا گیا اور فلم نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ بی آر چوپڑا کا ماننا تھا کہ فنکار سے اہم فلم کا سکرپٹ ہوتا ہے۔
اس کے بعد انہوں نے راجندر کمار کے ساتھ ’گمراہ‘ اور سنیل دت کے ساتھ ’ہمراز‘ بنائی۔ فلم ’دھند‘، ’کرم‘، ’پتی پتنی اور وہ‘، ’انصاف کا ترازو‘ اور 'نکاح‘ جیسی فلموں کی ہدایت کاری کی جبکہ ’دھول کا پھول‘، ’وقت‘، ’آدمی اور انسان‘، ’دی برننگ ٹرین‘، ’مزدور‘، ’آج کی آواز‘  اور ’باغبان‘ جیسی فلموں کے پروڈیوسر رہے۔
دلیپ کمار کے ساتھ ان کا رشتہ بہت برادرانہ اور دوستانہ تھا۔ انہوں نے دلیپ کمار کے ساتھ فلم ’داستان‘ بھی بنائی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے فلم ’باغبان‘ کا سکرپٹ بھی دلیپ کمار کے لیے تیار کروایا تھا جو بعد میں امیتابھ بچن کو ملا اور انہوں نے اس میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

فلم ’نیا دور‘ میں کام نہ کرنے پر شروع ہوئی عدالتی جنگ میں دلیپ کمار نے بی آر چوپڑا کا ساتھ دیا (فوٹو: دی انڈین ایکسپریس)

اس سے قبل سنہ 1975 میں بی آر چوپڑا اور ان کے بیٹے روی چوپڑا نے اپنے کمرشل ڈرامے ’ضمیر‘ کے لیے ایک ابھرتے ہوئے سٹار امیتابھ بچن کا انتخاب کیا۔ سیٹ پر اداکارہ سائرہ بانو اور امیتابھ بچن نے ایک مقناطیسی تناؤ پیدا کیا جسے نظر انداز کرنا ناممکن تھا۔
گاسپ کرنے والوں نے سرگوشیاں شروع کر دی تھیں کہ سائرہ سیینئر ہونے کے ناتے شاید بچن سے بڑی لگتی ہیں۔ حقیقت کی جانچ ہوئی تو سائرہ دراصل امیتابھ سے دو سال چھوٹی نکلیں۔
سکرین ڈیوا نے ہر ایک فریم میں خوبصورتی اور ادکاری  کا وہ جوہر دکھایا جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی تھا کہ عمر صرف ایک عدد ہے۔ امیتابھ کے کرشمے اور چوپڑا کی چوکس نظروں کے ساتھ، فلم نے ڈرامہ، رومانس، اور ایک ناقابل فراموش گیت ’زندگی ہنسنے گانے کے لیے ہے‘ پیش کیا۔
پچاس سال بعد یہ گانا اب بھی دلوں کی دھڑکن تیز کر دیتا ہے، اور یہ یاددہانی کرواتا ہے کہ بالی وڈ میں لیجنڈز، گپ شپ اور گلیمر ہمیشہ سے لازم و ملزوم رہے ہیں۔
’مہابھارت‘ اور مذہبی ہم آہنگی
جب بی آر چوپڑا نے ٹی وی کی دنیا میں قدم رکھا تو اس میں ایسا امتیازی نشان بنایا  جو آج تک یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ’مہابھارت‘ بنانے کا بیڑہ اٹھایا تو اس کی تحریر کی ذمہ داری اردو کے نامور ادیب راہی معصوم رضا کو سونپی۔ کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ ایک ہندو اساطیری داستان ایک مسلمان کیوں لکھے گا؟ بی آر چوپڑا نے کمالِ استقامت سے جواب دیا کہ ’ہندوستان کی مٹی کو راہی سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا۔‘ اور ان کی بات اس وقت درست ثابت ہوئی جب یہ سیریل گھر گھر دیکھا گیا اور اس کے مکالمے لوگوں کی زبان پر روانی کے ساتھ چڑھ گئے۔
انہوں نے اس عظیم داستان کو ایک مذہبی قصے کی بجائے انسانی نفسیات اور سیاسی پیچیدگیوں کے تناظر میں پیش کیا، جس نے اسے سرحدوں سے بالاتر کر دیا۔

’مہابھارت‘کا سکرپٹ اردو کے نامور ادیب راہی معصوم رضا نے لکھا جس کے مکالمے آج بھی ہر خاص و عام میں مقبول ہیں (فوٹو: پربھات خبر)

اس سے قبل فلم ’دھول کا پھول‘ کا گیت ’تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا‘ ان کے رواداری کے نظریے کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
بڑے بھائی کی شفقت
بی آر چوپڑا اپنے خاندان کے لیے ایک تناور درخت کی مانند تھے۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی یش چوپڑا کی تربیت کی اور انہیں فلم ’دھول کا پھول‘ کے ذریعے ہدایت کاری کا موقع دیا۔ اگرچہ بعد میں دونوں بھائیوں کے اندازِ فکر جدا ہو گئے کیونکہ یش چوپڑا رومانیت کی طرف مائل ہوگئے اور بی آر چوپڑا سماجی مسائل کی جانب متوجہ رہے، لیکن بی آر چوپڑا ہمیشہ ان کے لیے ایک استاد اور مرشد کا درجہ رکھتے تھے۔
خواتین کے حقوق کے علمبردار
اس دور میں جب فلمیں صرف ناچ گانے اور روایتی عشق و محبت تک محدود تھیں، بی آر چوپڑا نے ’گمراہ‘، ’اتفاق‘ اور ’نکاح‘ جیسی فلموں کے ذریعے معاشرے کے دوہرے معیاروں پر کاری ضرب لگائی۔ فلم ’نکاح‘ کے ذریعے انہوں نے طلاق اور عورت کی خود مختاری جیسے حساس موضوعات پر جو بحث چھیڑی، وہ آج بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اس فلم میں انہوں نے پاکستانی اداکارہ سلمیٰ آغا کو متعارف کرایا جنہوں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری کی ذمہ داری بھی نبھائی اور اس فلم کے گیت بے حد مقبول ہوئے۔

انہوں نے فلم ’نکاح‘ میں پاکستانی اداکارہ سلمیٰ آغا کو متعارف کروایا (فوٹو: سکرول)

بی آر چوپڑا کا سنیما محض تفریح کا سامان نہیں تھا، بلکہ وہ ایک ایسی درسگاہ تھی جہاں ناظرین کو اپنی اقدار پر نظرِ ثانی کرنے کی دعوت دی جاتی تھی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ سنجیدہ موضوعات کو بھی عوامی مقبولیت کے سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ سنہ 2008 میں بی آر چوپڑا وفات پا گئے لیکن ان کی فلموں کی روشنی آج بھی اردو اور ہندی سنیما کے طالب علموں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
بی آر چوپڑا کا کہنا تھا کہ ’فلم وہ نہیں جو صرف پردے پر ختم ہو جائے، بلکہ فلم وہ ہے جو ناظر کے ذہن میں سوالات چھوڑ جائے‘ اور انہوں نے یہی کام کیا۔

شیئر: