Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد لینڈ کرنے والا امریکی سی-17: وہ صلاحیتیں جو اسے عام طیاروں سے الگ کرتی ہیں

حال ہی میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا جو غیر یقینی کی صورتحال میں اب دوسرے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
ہم نے دیکھا کہ مذاکرات کے پہلے دور میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی اور وفد کی آمد سے قبل امریکی ایئر فورس کا کارگو جہاز راولپنڈی کی نور خان ایئر بیس پر لینڈ کیا۔
اس جہاز میں امریکی وفد کی سکیورٹی اور پروٹوکول سے متعلق تمام ضروری اشیا کی ترسیل ممکن بنائی گئی جن میں بلٹ پروف گاڑیاں بھی شامل تھیں۔
یہ کارگو جہاز سی 17-A گلوب ماسٹر تھری ہے اور اس کی خصوصیات ایوی ایشن اور جنگی جہازوں میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
اس سے پہلے کہ ہم تفصیل میں جائیں، یہ جاننا ضروری ہے کہ اسلام آباد آنے والا طیارہ دراصل C-17 A ویریئنٹ ہے، جو C-17 گلوب ماسٹر تھری کا ہی بنیادی آپریشنل ماڈل ہے اور اس میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہوتا۔
سی 17  گلوب ماسٹر تھری کو جانیے
امریکی ایئر فورس کی ویب سائٹ کے مطابق سی 17 گلوب ماسٹر تھری ایک جدید فوجی کارگو طیارہ ہے جو دنیا بھر میں فوجی ساز و سامان، فوجیوں اور امدادی سامان کی تیز رفتار ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اسے بوئنگ کمپنی نے تیار کیا ہے اور یہ امریکہ کی فضائی نقل و حمل کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ طیارہ اس قابل ہے کہ نہ صرف بڑے فوجی اڈوں تک سامان پہنچائے بلکہ براہِ راست جنگی یا فرنٹ لائن علاقوں میں بھی لینڈ کر سکے۔ اس کے ذریعے پیراٹروپرز کو فضاء سے اتارا جا سکتا ہے اور زخمی افراد کو فوری طبی امداد کے لیے منتقل بھی کیا جاتا ہے۔

سی17 گلوب ماسٹر تھری بنیادی طور پر فوجی سامان اور فوجیوں کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے (فوٹو: یو ایس ایئر فورس )

مشن
سی 17 کا بنیادی مقصد تیزی کے ساتھ فوجی طاقت کو کسی بھی ممکنہ جنگی علاقے کے قریب پہنچانا اور برقرار رکھنا ہے۔ جدید جنگی ضروریات کے باعث بھاری اور بڑے سائز کے فوجی سازوسامان کی منتقلی کی ضرورت بڑھ چکی ہے جسے یہ طیارہ بخوبی پورا کرتا ہے۔
یہ طیارہ جنگی کارروائیوں کے علاوہ امن مشنز، انسانی امداد اور ہنگامی حالات میں بھی استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسے انتہائی لچکدار طیارہ سمجھا جاتا ہے۔
نمایاں خصوصیات
سی 17 اپنی قابلِ اعتماد کارکردگی اور کم دیکھ بھال کی ضرورت کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی مشن کامیابی کی شرح تقریباً 92 فیصد ہے جبکہ فی فلائٹ گھنٹہ اوسطاً صرف 20 مینٹیننس گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔
یہ طیارہ تقریباً 174 فٹ لمبا اور اس کے پروں کا پھیلاؤ 169 فٹ 10 انچ ہے۔ اس میں چار طاقتور ٹربو فین انجن لگے ہوتے ہیں جنہیں پراٹ اینڈ وٹنی نے تیار کیا ہے۔ ہر انجن 40,440 پاؤنڈ تک تھرسٹ پیدا کرتا ہے۔
اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ چھوٹے اور کچے رن ویز سے بھی اڑان بھر سکتا ہے اور لینڈ کر سکتا ہے، حتیٰ کہ یہ پیچھے کی طرف بھی ٹیکسی کر سکتا ہے۔
اس میں پیچھے کی جانب ایک بڑا ریمپ ہوتا ہے جس سے بھاری سامان جیسے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور ٹرک آسانی سے لوڈ کیے جا سکتے ہیں۔
یہ طیارہ ایک وقت میں 102 پیراٹروپرز کو ان کے مکمل سازوسامان سمیت فضاء سے اتار سکتا ہے۔

یہ طیارہ 3500 فٹ جیسے مختصر رن وے سے بھی آپریٹ کر سکتا ہے (فوٹو: یو ایس ایئر فورس )

کارکردگی اور صلاحیت
سی-17 تقریباً 170,900 پاؤنڈ (77 ہزار کلوگرام سے زائد) وزن کا سامان لے جا سکتا ہے جبکہ اس کا زیادہ سے زیادہ ٹیک آف وزن 585,000 پاؤنڈ ہے۔ یہ بغیر ایندھن بھرے تقریباً 2,400 ناٹیکل میل تک سفر کر سکتا ہے اور اس کی رفتار تقریباً 450 ناٹس (ماخ 0.74) ہوتی ہے۔
یہ 3500 فٹ جیسے مختصر رن وے سے بھی آپریٹ کر سکتا ہے، جو اسے دیگر کارگو طیاروں سے ممتاز بناتا ہے۔
پس منظر
سی 17 نے اپنی پہلی پرواز 15 ستمبر 1991 میں کی جبکہ پہلا تیار شدہ طیارہ 14 جون 1993 کو فراہم کیا گیا۔ 1995 میں اس کا پہلا سکواڈرن مکمل طور پر آپریشنل ہوا۔
ابتدائی طور پر 120 طیارے بنانے کا منصوبہ تھا لیکن اس کی غیر معمولی کامیابی کے باعث تعداد بڑھا کر 223 کر دی گئی۔
عمومی خصوصیات
سی 17 گلوب ماسٹر تھری بنیادی طور پر فوجی سامان اور فوجیوں کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسے بوئنگ کمپنی نے تیار کیا ہے اور اس میں چار پراٹ اینڈ وٹنی ایف117-پی ڈبلیو-100 ٹربوفین انجن نصب ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک 40,440 پاؤنڈ تھرسٹ فراہم کرتا ہے۔
اس کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً 169 فٹ 10 انچ جبکہ لمبائی 174 فٹ اور اونچائی 55 فٹ کے قریب ہے۔ اس کا کارگو کمپارٹمنٹ تقریباً 88 فٹ لمبا، 18 فٹ چوڑا اور 12 فٹ سے زائد اونچا ہوتا ہے، جس میں بھاری اور بڑے سائز کا سامان آسانی سے رکھا جا سکتا ہے۔
یہ طیارہ تقریباً 450 ناٹس کی رفتار سے 28 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتا ہے جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ پرواز کی حد 45 ہزار فٹ ہے۔ ایندھن کی فراہمی کے ساتھ یہ دنیا کے کسی بھی حصے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عملے میں تین افراد ہوتے ہیں جن میں دو پائلٹ اور ایک لوڈ ماسٹر شامل ہیں۔ طبی انخلا کے مشن میں اضافی طبی عملہ بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ طیارہ ایک وقت میں 102 فوجیوں، 36 سٹریچر مریضوں اور 54 چلنے پھرنے کے قابل مریضوں کو منتقل کر سکتا ہے۔
اس کی قیمت تقریباً 202.3 ملین ڈالر (1998 کے حساب سے) ہے اور یہ 1993 سے سروس میں موجود ہے۔

سی 17 طیارہ تقریباً 450 ناٹس کی رفتار سے 28 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتا ہے (فوٹو: یو ایس ایئر فورس)

سی 17 گلوب ماسٹر تھری: وہ صلاحیتیں جو اسے عام طیاروں سے الگ کرتی ہیں
سی 17 گلوب ماسٹر تھری کی سب سے حیران کن صلاحیت اس کی نچلی سطح پر پرواز ہے۔ اپنے بڑے سائز کے باوجود یہ طیارہ پہاڑی علاقوں اور تنگ وادیوں میں انتہائی کم بلندی پر پرواز کر سکتا ہے، جس کا مقصد ریڈار سے بچنا اور حساس علاقوں تک خاموشی سے پہنچنا ہوتا ہے۔ اتنے بڑے جہاز کا اس طرح زمین کے قریب کنٹرول کے ساتھ اڑنا اسے دنیا کے دیگر کارگو طیاروں سے منفرد بناتا ہے۔
ہوا میں ہی تیزی سے نیچے آنے کی صلاحیت
اس طیارے میں ایک ایسی تکنیک بھی موجود ہے جو عام جہازوں میں نہیں ہوتی۔ سی 17 دورانِ پرواز اپنے انجنز کے ریورس تھرسٹ سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے انتہائی تیزی سے نیچے آ سکتا ہے۔ جہاں عام مسافر طیارے آہستہ آہستہ بلندی کم کرتے ہیں، وہیں یہ جہاز ضرورت پڑنے پر بہت کم وقت میں ہزاروں فٹ نیچے آ سکتا ہے، جو خاص طور پر جنگی علاقوں میں فوری لینڈنگ کے لیے اہم ہوتا ہے۔

سی 17 نے اپنی پہلی پرواز 15 ستمبر 1991 میں کی  (فوٹو: یو ایس ایئر فورس)

موس ایک منفرد شناخت
دلچسپ بات یہ ہے کہ سی 17 کو اس کے پائلٹس موس کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔ یہ نام اس آواز کی وجہ سے پڑا جو طیارہ زمین پر فیولنگ کے دوران پیدا کرتا ہے، جو کسی حد تک جانور موس کی آواز سے ملتی جلتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ نام اس طیارے کی شناخت بن گیا اور اسے اڑانے والے خود کو موس ڈرائیورز کہتے ہیں۔
میزائل لانچ پلیٹ فارم  ایک غیر متوقع کردار
سی 17 کی ایک اور حیران کن صلاحیت یہ ہے کہ اسے ایک مخصوص تجربے میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کے لانچر کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ اس تجربے میں طیارے کے اندر سے تقریباً 60 ہزار پاؤنڈ وزنی میزائل کو پیراشوٹ کے ذریعے باہر نکالا گیا، جس کے بعد وہ فضا میں ہی فعال ہو گیا۔ اس کا مقصد دفاعی نظاموں کی جانچ تھا، لیکن اس نے یہ ثابت کیا کہ یہ طیارہ روایتی حدود سے کہیں زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ طیارہ تقریباً 450 ناٹس کی رفتار سے 28 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتا ہے (فوٹو: یو ایس ایئر فورس)

ایک ہی جہاز، کئی کردار
سی 17 کی اصل طاقت اس کی ہمہ جہتی صلاحیت میں ہے۔ ایک ہی مشن میں یہ طیارہ طویل فاصلے طے کر کے مخصوص علاقے میں پہنچتا ہے، وہاں کم بلندی پر حکمت عملی کے تحت پرواز کرتا ہے، ضرورت پڑنے پر فضاء سے فوجی یا سامان گرا سکتا ہے، اور انتہائی مشکل رن وے پر لینڈ کر سکتا ہے۔ یہی امتزاج اسے جدید فضائی آپریشنز کا ایک اہم ستون بناتا ہے۔

شیئر: