میری درخواست پر ایران نے آٹھ خواتین کو پھانسی نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے: صدر ٹرمپ
ایران نے ان خواتین کو پھانسی دینے کے کسی منصوبے کی تردید کی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران نے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار کی گئی آٹھ خواتین کو پھانسی دینے کے مبینہ منصوبے کو روک دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ اقدام ان (ٹرمپ) کی جانب سے رہائی کی اپیل کے بعد کیا گیا تاکہ امن مذاکرات میں پیش رفت ہو سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ شول پر لکھا کہ ’بہت اچھی خبر! مجھے ابھی اطلاع ملی ہے کہ ایران میں آج رات جن آٹھ خواتین مظاہرین کو پھانسی دی جانی تھی، انہیں اب قتل نہیں کیا جائے گا۔ ان میں سے چار کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے گا، جبکہ چار کو ایک ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔‘
’میں اس بات کی بہت قدر کرتا ہوں کہ ایران اور اس کی قیادت نے، بطور صدر امریکہ ، میری درخواست کا احترام کیا اور مجوزہ پھانسی کو روک دیا۔‘
تاہم ایران نے ان خواتین کو پھانسی دینے کے کسی منصوبے کی تردید کی تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جنوری کے مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والی کم از کم ایک خاتون کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے، جبکہ ایک اور خاتون کو ایسے الزامات کا سامنا ہے جن کی سزا موت ہو سکتی ہے اور اسے بھی پھانسی دی جا سکتی ہے۔
صد ٹرمپ نے 21 اپریل کو سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ ان خواتین کی رہائی ایران کے لیے مذاکرات میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ایک کارکن کے اس دعوے کو بھی شیئر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ آٹھ خواتین کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔ اس دعوے میں نام شامل نہیں تھے، تاہم خواتین کی تصاویر دی گئی تھیں۔
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امریکہ، ایران مذاکرات کا مستقبل تاحال غیر واضح ہے۔ اس سے قبل ہونے والا ایک دور کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اسلامی جمہوریہ پر الزام لگاتی ہیں کہ وہ سزائے موت کو معاشرے میں خوف پھیلانے کے لیے استعمال کر رہا ہے، اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ کے پس منظر میں سیاسی قیدیوں کی پھانسیوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
