Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران نے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے دو جہاز تحویل میں لے لیے  

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں جہازوں کو پاسدارانِ انقلاب کی بحری افواج نے قبضے میں لے کر ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کے روز کہا کہ اس کی بحری افواج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو جہازوں کو قبضے میں لے لیا ہے، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کی غرض سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانیہ میں قائم میری ٹائم سیکیورٹی مانیٹرز نے تصدیق کی کہ تین تجارتی جہازوں نے آبنائے میں گن بوٹس کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی اطلاع دی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ خلیج کی تیل اور گیس صنعت کے لیے ایک بین الاقوامی دروازہ ہے جس پر امریکہ اور ایران کنٹرول کے لیے برسرِ پیکار ہیں۔
پاسداران نے ایک بیان میں کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آج صبح آبنائے ہرمز میں دو خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کی نشاندہی کر کے انہیں روک لیا۔
’ان دونوں جہازوں کو... پاسدارانِ انقلاب کی بحری افواج نے قبضے میں لے کر ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا۔‘
انہوں نے ایک جہاز کی شناخت پاناما کے پرچم بردار کنٹینر شپ ایم ایس این فرانسسکا اور دوسرے کی لائبیریا کے پرچم بردار ایپامینوداس کے طور پر کی۔ ٹریکنگ ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق دونوں جہازوں کی آخری معلوم پوزیشن آبنائے میں عمان کے شمال مشرق میں ایرانی ساحل کے قریب تھی۔
اس سے قبل، برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی مانیٹریو کے ایم ٹی او نے بتایا کہ ایک کنٹینر جہاز نے اطلاع دی کہ اسے عمان کے شمال مشرق میں 15 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ایک کشتی نے نشانہ بنایا، جس سے جہاز کے برج کو نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق الگ واقعے میں، ایک تیسرے جہاز پر بھی فائرنگ کی گئی اور اسے ایرانی ساحل سے آٹھ ناٹیکل میل مغرب میں روک دیا گیا۔
برطانوی سیکیورٹی فرم وینگارڈ ٹیک  نے اس جہاز کی شناخت پاناما کے پرچم بردار کنٹینر شپ یوپوریا کے طور پر کی، جو اس کے مطابق ’آبنائے ہرمز سے باہر کی جانب سفر کر رہا تھا۔‘
امریکی بحریہ ایران کی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ جہازوں کو خلیج میں داخل یا خارج ہونے کے لیے ہرمز کے راستے اجازت لینا ہوگی۔

 

 

شیئر: