Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ملازمت کا جھانسہ دے کر انسانی سمگلنگ: ایف آئی اے نے حیدرآباد سے ’اہم ملزم‘ کو کیسے گرفتار کیا؟

حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔ (فوٹو: ایف آئی آے ویب سائیٹ)
کراچی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے انسدادِ انسانی سمگلنگ سرکل کی ایک اہم کارروائی میں ایک مبینہ انسانی سمگلر کو گرفتار کر کے ایک منظم نیٹ ورک بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی ایف آئی آر نمبر 118/2026 کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی، جس میں جدید تفتیشی طریقوں اور مصدقہ خفیہ اطلاعات کی مدد سے مفرور ملزم تک رسائی حاصل کی گئی۔
ایف آئی اے کے مطابق ڈائریکٹر کراچی زون کی ہدایات پر ایک خصوصی ٹیم نے حیدرآباد کے علاقے سٹیزن کالونی میں واقع ایک رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، جہاں سے ملزم حازق ہارون میمن کو گرفتار کیا گیا۔
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نہ صرف انسانی سمگلنگ میں ملوث تھا بلکہ ایک منظم نیٹ ورک بھی چلا رہا تھا، جو لوگوں کو بیرون ملک ملازمت کے جھانسے میں پھنسا کر غیر قانونی طریقوں سے منتقل کرتا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک خاص طور پر کمزور معاشی حالات سے دوچار افراد کو نشانہ بناتا تھا۔ ان افراد کو بہتر روزگار، زیادہ تنخواہ اور روشن مستقبل کے خواب دکھائے جاتے، جبکہ بعض کیسز میں ایڈوانس رقم بھی دی جاتی تھی تاکہ متاثرہ خاندان مالی دباؤ کے تحت اپنے پیاروں کو ان ایجنٹس کے حوالے کر دیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزم لڑکیوں کو بھی بیرون ملک بھجوانے میں ملوث تھا، جہاں انہیں استحصال کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
اگرچہ اس کیس میں ایک لڑکی کو بیرون ملک بھیجنے اور استحصال کا عنصر بھی شامل ہے، تاہم حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسانی سمگلنگ کا دائرہ اس سے کہیں وسیع ہے۔ پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کے مختلف طریقے رائج ہیں، جن میں غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوششیں، جسے عام زبان میں ’ڈنکی‘ کہا جاتا ہے، بھی شامل ہیں۔ اس طریقے میں افراد کو خطرناک زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے مختلف ممالک تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے، جہاں اکثر جان کا ضیاع بھی ہو جاتا ہے۔
ایف آئی اے کے انسداد انسانی سمگلنگ سرکل کے انچارچ محمد امجد نے اردو نیوز کو بتایا کہ انسانی سمگلرز جدید دور میں نہایت منظم انداز میں کام کر رہے ہیں۔ یہ نیٹ ورکس نہ صرف مقامی سطح پر سرگرم ہوتے ہیں بلکہ ان کے روابط بین الاقوامی سطح تک پھیلے ہوتے ہیں۔ یہ گروہ جعلی دستاویزات تیار کرتے ہیں، ویزا پراسیسنگ کے نام پر بھاری رقوم وصول کرتے ہیں اور بعض اوقات متاثرین کو غیر قانونی راستوں سے سرحد پار کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق انسانی سمگلرز عموماً سوشل میڈیا، مقامی ایجنٹس اور ذاتی روابط کے ذریعے اپنے شکار تلاش کرتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

حالیہ برسوں میں ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جہاں درجنوں پاکستانی شہری غیر قانونی سفر کے دوران سمندر میں ڈوب کر جان کی بازی ہار گئے۔ اس کے باوجود، غربت، بے روزگاری اور بہتر مستقبل کی خواہش لوگوں کو ایسے خطرناک راستے اختیار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق انسانی سمگلنگ ایک سنگین بین الاقوامی جرم ہے، جس میں ملوث عناصر انسانی جانوں کو محض ایک کاروباری شے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ایف آئی اے نے اس حوالے سے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
ادارے کے مطابق ملک بھر میں انسدادِ انسانی سمگلنگ کے لیے خصوصی یونٹس قائم کیے گئے ہیں، جو ایسے نیٹ ورکس کی نشاندہی اور خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ حالیہ کارروائی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں ایک اہم ملزم کو گرفتار کر کے اس کے نیٹ ورک کے دیگر ارکان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔ توقع ہے کہ اس دوران مزید اہم انکشافات سامنے آئیں گے، جن کی مدد سے اس نیٹ ورک کے دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا جا سکے گا۔ ایف آئی اے کے مطابق دیگر ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر مزید چھاپے بھی مارے جائیں گے۔
دوسری جانب، حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ بیرون ملک ملازمت کے نام پر کام کرنے والے غیر رجسٹرڈ ایجنٹس سے ہوشیار رہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی پیشکش پر یقین کرنے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کریں اور صرف مستند و لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے ذریعے ہی بیرون ملک جانے کے عمل کو آگے بڑھائیں۔
ماہرین کے مطابق انسانی سمگلرز عموماً سوشل میڈیا، مقامی ایجنٹس اور ذاتی روابط کے ذریعے اپنے شکار تلاش کرتے ہیں۔ وہ خاص طور پر ایسے علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں جہاں غربت زیادہ ہو اور لوگوں کو بیرون ملک جانے کے مواقع کم میسر ہوں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نہ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک رہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی آگاہی میں اضافہ کیا جائے۔

شیئر: