20 برس تک پولیس کو ’سلطان‘ بن کر چکمہ دینے والا نریش کمار کیسے گرفتار ہوا؟
20 برس تک پولیس کو ’سلطان‘ بن کر چکمہ دینے والا نریش کمار کیسے گرفتار ہوا؟
ہفتہ 4 اپریل 2026 18:48
اشتہاری ملزمان کی موجودگی کی جانچ کے لیے جاری تصدیقی مہم کے دوران ملزم کو گرفتار کیا گیا (فائل فوٹو: جسٹ ڈائل)
قریباً 20 برس تک انڈین شہر مُرادآباد کا ایک اشتہاری ملزم نریش کمار خاموشی سے پڑوسی ضلع سنبھل میں نئی شناخت اور مذہبی پہچان اختیار کرکے زندگی گزارتا رہا۔
اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ اس نے ’سلطان‘ کے نام سے رہائش اختیار کی، داڑھی بڑھائی، مسجد کے قریب کرائے پر مکان حاصل کیا اور باقاعدگی سے نماز ادا کرتا رہا۔
اپنی جعلی شناخت کو مضبوط بنانے کے لیے اس نے آدھار کارڈ (شناختی کارڈ)، ووٹر آئی ڈی اور پین کارڈ سمیت متعدد جعلی دستاویزات بھی حاصل کر رکھی تھیں۔
گذشتہ ہفتے ضلعے میں درج اشتہاری ملزمان کی موجودگی کی جانچ کے لیے جاری ایک معمول کی تصدیقی مہم کے دوران اس کی دُہری زندگی کا انکشاف ہوا، جس کے بعد 58 سال کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مُرادآباد، رن وجے سنگھ نے بتایا کہ ’نریش، جو قریباً دو دہائیوں سے مفرور تھا، سنبھل میں ’سلطان‘ کے نام سے رہ رہا تھا۔ اس کے خلاف درج مقدمات کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں مزید معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔‘
تھانہ پاکوڑہ کے ایس ایچ او (سٹیشن ہاؤس آفیسر) یوگیش کمار کے مطابق سنیچر کو پولیس کی ٹیم معمول کے گشت پر تھی اور مشکوک افراد و گاڑیوں کی چیکنگ کے ساتھ ساتھ یاکش ایپ کے ذریعے ملزمان اور اشتہاریوں کی تصدیق کر رہی تھی۔
ہاشم پور چوراہے پر پولیس کو اطلاع ملی کہ نریش کمار کسی سے ملنے پاکوڑہ آیا ہے اور ڈنگرپور روڈ پر موجود ہے، جہاں سے وہ روانہ ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔ ابتدائی پوچھ گچھ میں اس نے خود کو سلطان ولد جمال الدین، ساکن ناہرتھیر گاؤں، سنبھل بتایا۔
پولیس کے مطابق تلاشی کے دوران اس کے پاس سے اسی نام اور پتے پر مشتمل آدھار کارڈ (شناختی کارڈ)، پین کارڈ اور ای شرم کارڈ برآمد ہوئے۔ اُس کے کُرتے کی جیب سے اردو میں لکھا ایک کتابچہ اور ایک دائیں بازو کی تنظیم کے نام سے منسوب لیٹر ہیڈ بھی برآمد ہوا۔
پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف ڈکیتی اور رہزنی کے متعدد مقدمات درج ہیں اور وہ آٹھ سے نو برس جیل میں بھی رہ چکا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
تاہم مزید تفتیش کے دوران پولیس کو نریش کمار ولد شنکر کے نام سے ووٹر آئی ڈی کارڈ اور آدھار کارڈ بھی ملا، جس پر مُرادآباد کے ہاشم پور گوپال گاؤں کا پتہ درج تھا۔
دستاویزات میں تضاد دیکھ کر پولیس نے دوبارہ سختی سے پوچھ گچھ کی، جس پر اس نے اعتراف کیا کہ اس کا اصل نام نریش کمار ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے بتایا کہ اس کے خلاف ڈکیتی اور رہزنی کے متعدد مقدمات درج ہیں اور وہ آٹھ سے نو برس جیل میں قید بھی کاٹ چکا ہے۔ اس کے خلاف پاکوڑہ تھانے میں ہسٹری شیٹ بھی کھولی گئی تھی، جس کے باعث پولیس کی جانب سے اس کے گھر بار بار چھاپے مارے جاتے تھے۔
پولیس کی گرفت سے بچنے کے لیے اس نے 20 سے 21 برس قبل اپنا گاؤں اور خاندان چھوڑ دیا، اور سنبھل منتقل ہو کر جعلی شناخت کے ساتھ زندگی گزارنے لگا۔