20 برس تک انڈین پولیس کو ’مسلمان‘ بن کر چکمہ دینے والا نریش کمار کیسے گرفتار ہوا؟
اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔ (فائل فوٹو: جسٹ ڈائل)
تقریباً 20 برس تک انڈین شہر مرادآباد کا ایک ہسٹری شیٹر نریش خاموشی سے پڑوسی ضلع سنبھل میں نئی شناخت اور مذہبی پہچان اختیار کرکے زندگی گزارتا رہا۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ اس نے ’سلطان‘ کے نام سے رہائش اختیار کی، داڑھی بڑھائی، مسجد کے قریب کرائے کا مکان لیا اور باقاعدگی سے نماز ادا کرتا رہا۔ اپنی جعلی شناخت کو مضبوط بنانے کے لیے اس نے آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی اور پین کارڈ سمیت متعدد جعلی دستاویزات بھی حاصل کر رکھی تھیں۔
گذشتہ ہفتے ضلع میں درج ہسٹری شیٹرز کی موجودگی کی جانچ کے لیے جاری ایک معمول کی تصدیقی مہم کے دوران اس کی دوہری زندگی کا انکشاف ہوا، جس کے بعد 58 سالہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مرادآباد، رن وجے سنگھ نے بتایا کہ ’نریش، جو تقریباً دو دہائیوں سے مفرور تھا، سنبھل میں ’سلطان‘ کے نام سے رہ رہا تھا۔ اس کے خلاف درج مقدمات کی موجودہ صورت حال کے بارے میں مزید معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔‘
تھانہ پاکوڑہ کے سٹیشن ہاؤس آفیسر یوگیش کمار کے مطابق سنیچر کو پولیس ٹیم معمول کی گشت پر تھی اور مشکوک افراد و گاڑیوں کی جانچ کے ساتھ ساتھ یاکش ایپ کے ذریعے ملزمان اور ہسٹری شیٹرز کی تصدیق کر رہی تھی۔
ہاشم پور چوراہے پر پولیس کو اطلاع ملی کہ نریش کسی سے ملنے پاکوڑہ آیا ہے اور ڈنگرپور روڈ پر موجود ہے، جہاں سے وہ روانہ ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔ ابتدائی پوچھ گچھ میں اس نے خود کو سلطان ولد جمال الدین، ساکن ناہرتھیر گاؤں، سنبھل بتایا۔
پولیس کے مطابق تلاشی کے دوران اس کے پاس سے اسی نام اور پتے پر مشتمل آدھار کارڈ، پین کارڈ اور ای شرم کارڈ برآمد ہوئے۔ اس کے کرتے کی جیب سے اردو میں لکھا ایک کتابچہ اور ایک دائیں بازو کی تنظیم کے نام سے منسوب لیٹر ہیڈ بھی ملا۔
تاہم مزید تفتیش کے دوران پولیس کو نریش ولد شنکر کے نام سے ووٹر آئی ڈی کارڈ اور آدھار کارڈ بھی ملا، جس پر مرادآباد کے ہاشم پور گوپال گاؤں کا پتہ درج تھا۔
دستاویزات میں تضاد دیکھ کر پولیس نے دوبارہ سختی سے پوچھ گچھ کی، جس پر اس نے اعتراف کیا کہ اس کا اصل نام نریش ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے بتایا کہ اس کے خلاف ڈکیتی اور رہزنی کے متعدد مقدمات درج ہیں اور وہ آٹھ سے نو برس جیل میں بھی رہ چکا ہے۔ اس کے خلاف پاکوڑہ تھانے میں ہسٹری شیٹ بھی کھولی گئی تھی، جس کے باعث پولیس کی جانب سے اس کے گھر بار بار چھاپے مارے جاتے تھے۔
پولیس کی گرفت سے بچنے کے لیے اس نے 20 سے 21 برس قبل اپنا گاؤں اور خاندان چھوڑ دیا، اور سنبھل منتقل ہو کر جعلی شناخت کے ساتھ زندگی گزارنے لگا۔
