Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: کفایت شعاری مہم کے باوجود سرکاری گاڑیاں سڑکوں پر، ’ہزاروں کا ریکارڈ غائب‘

کچھ ویڈیوز میں یہ بھی دیکھا گیا کہ سرکاری گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو سیاہ ٹیپ سے چھپایا گیا ہے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت کی جانب سے عالمی توانائی بحران کے تناظر میں کفایت شعاری پالیسی کے تحت دفتری اوقات کے بعد سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے تاہم اس کے باوجود سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں ان احکامات کی کھلی خلاف ورزیاں دکھائی دے رہی ہیں۔
متعدد ویڈیوز میں شہریوں نے نشاندہی کی ہے کہ سرکاری گاڑیاں نہ صرف ذاتی کاموں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں بلکہ چھٹی کے دنوں اور رات گئے بھی سڑکوں پر دیکھی جا رہی ہیں۔
بعض ویڈیوز میں یہ گاڑیاں شاپنگ مالز، تفریحی مقامات اور مصروف شاہراہوں پر کھڑی یا چلتی ہوئی نظر آتی ہیں جس پر صارفین کی جانب سے شدید تنقید سامنے آ رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کچھ ویڈیوز میں یہ بھی دیکھا گیا کہ سرکاری گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو سیاہ ٹیپ سے چھپایا گیا ہے تاکہ  کارروائی سے بچا جاسکے۔
سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ یہ عمل نہ صرف حکومتی احکامات کی خلاف ورزی ہے بلکہ عوامی وسائل کے غلط استعمال کی واضح مثال بھی ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی واضح ہدایات دے چکے ہیں کہ سرکاری گاڑیوں کا غیر ضروری استعمال مکمل طور پر بند کیا جائے۔
بڑھتی ہوئی شکایات کے بعد حکومت نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے نگرانی کا نظام مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکام کے مطابق سرکاری گاڑیوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے سیف سٹی کیمروں سے مدد لی جائے گی جبکہ تمام گاڑیوں میں ٹریکرز نصب کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ دفتری اوقات کے بعد کسی بھی سرکاری گاڑی کے استعمال کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے تاہم اگر کسی سرکاری کام کے لیے استعمال ناگزیر ہو تو مجاز اتھارٹی سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا۔

کوئٹہ میں مقررہ اوقات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پولیس کی جانب سے کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں (فائل فوٹو؛ ویڈیو گریب)

حکومت کا کہنا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
اسی سلسلے میں محکمہ لائیو اسٹاک کے ایک افسر سے سرکاری گاڑی واپس لے کر ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ کفایت شعاری پالیسی پر عملدرآمد میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب سرکاری گاڑیوں کے حوالے سے محکمہ ایکسائز کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ صوبے میں مجموعی طور پر 14 ہزار 304 سرکاری گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں تاہم تصدیقی عمل کے دوران تین ہزار 762 گاڑیوں کا ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق مختلف محکموں کی درجنوں گاڑیاں ریکارڈ سے غائب پائی گئی ہیں جس پر وزیراعلیٰ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
حکام کے مطابق اس معاملے کی چھان بین کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو نہ صرف ان گاڑیوں کا سراغ لگائے گی بلکہ ذمہ داروں کا تعین بھی کرے گی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ کفایت شعاری اقدامات کے نتیجے میں اب تک قریباً ڈیڑھ ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

اس کے ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ سابق گورنرز، سابق وزرائے اعلیٰ، سابق وزراء، سابق اراکین اسمبلی، ریٹائرڈ افسران اور دیگر غیر مجاز افراد کے زیر استعمال سرکاری گاڑیاں فوری طور پر واپس لی جائیں گی۔
کفایت شعاری پالیسی کے تحت مزید اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ حکومت اور تاجر تنظیموں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق صوبے بھر میں مارکیٹس اور شاپنگ سینٹرز رات آٹھ بجے بند کیے جا رہے ہیں جبکہ کوئٹہ میں شادی ہالز رات گیارہ بجے اور دیگر اضلاع میں رات دس بجے تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور ایندھن کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔
کوئٹہ میں مقررہ اوقات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پولیس کی جانب سے کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں اور مختلف علاقوں میں اہلکار دکانیں اور مارکیٹیں بند کراتے نظر آتے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ کفایت شعاری اقدامات کے نتیجے میں اب تک قریباً ڈیڑھ ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے اور ان پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ عوامی وسائل کے ضیاع کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

شیئر: