Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’130 برس کی غلامی‘، پاکستان میں بھٹہ مزدور خاندان کو قید سے نکالنے والے لوگ کون ہیں؟

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نے لاکھوں لوگوں کو چونکا دیا۔ ویڈیو میں ایک امریکی شخص پاکستان کے ایک غریب خاندان کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے جبکہ خاندان کی ایک خاتون اسے گلے لگا کر روتی ہے۔ ویڈیو کے اوپر لکھا تھا کہ ایک خاندان کو غلامی سے آزاد کر دیا گیا۔
پہلی نظر میں یہ صرف ایک جذباتی وائرل ویڈیو لگتی ہے لیکن جب اس ویڈیو کے پیچھے کی حقیقت کو کھوجا گیا تو ایک ایسی دنیا سامنے آئی جس کے بارے میں اکثر لوگ جانتے ہوئے بھی بھولے ہوتے ہیں۔
ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کا نام ایرن ہچنگز ہے جو خود کو سماجی کارکن بتاتے ہیں۔ ان کی مختلف ویڈیوز اور سوشل میڈیا پوسٹس کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ’جوبلی کیمپین‘ نامی ایک تنظیم کے ساتھ مل کر پاکستان میں بھٹہ مزدور خاندانوں کو قرض سے آزاد کرانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔
ایرن ہچنگز نے اپنی ایک ویڈیو کے نیچے تبصرے میں دعویٰ کیا کہ یہ خاندان تقریباً 130 سال سے قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ ان کے مطابق خاندان کے کسی بزرگ نے برسوں پہلے بھٹہ مالک سے قرض لیا تھا لیکن سود، کٹوتیوں اور مسلسل بڑھتے حساب نے اس قرض کو کبھی ختم نہیں ہونے دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل بھی اسی بھٹے پر کام کرتی رہی۔

@whatintheworldfamily

Freeing a family from slavery at a Brick Factory in Pakistan.

Boundless Worship - Josué Novais Piano Worship

پاکستان کے کئی علاقوں میں اس نظام کو پیشگی کہا جاتا ہے۔ غریب خاندان مجبوری میں بھٹہ مالک سے رقم لیتے ہیں، پھر پورا خاندان مزدوری شروع کر دیتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ قرض کم ہونے کے بجائے اکثر بڑھتا ہی رہتا ہے۔ رہائش، کھانا، دوائیں اور دیگر اخراجات بھی اسی حساب میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ یوں بعض خاندان نسلوں تک اسی چکر میں پھنسے رہتے ہیں۔
ایرن ہچنگز کی ویڈیوز دیکھنے کے بعد جب مزید کھوج کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں۔ پروجیکٹ جوبلی کے نام سے باقاعدہ کئی ویڈیوز موجود ہیں جن میں مختلف خاندانوں کی رہائی دکھائی گئی ہے۔ ایک اور شخص، ای مین نامی صارف، بھی اسی منصوبے سے متعلق معلومات شیئر کرتے نظر آتے ہیں۔
ان پوسٹس کے مطابق ایک خاندان کو آزاد کرانے کے لیے صرف قرض ادا نہیں کیا جاتا بلکہ پورا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔ پہلے خاندان کی صورتحال دیکھی جاتی ہے، پھر بھٹہ مالک کے ساتھ رقم طے کی جاتی ہے، اس کے بعد قانونی کاغذات تیار کروائے جاتے ہیں تاکہ خاندان دوبارہ اسی نظام میں نہ دھکیلا جا سکے۔ بعض ویڈیوز اور تبصروں میں بتایا گیا کہ خاندانوں کو چند ماہ کا کرایہ، راشن اور روزگار کے لیے رکشہ تک فراہم کیا جاتا ہے تاکہ وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔
ایرن ہچنگز نے ایک اور تبصرے میں بتایا کہ عام طور پر ایسے خاندانوں کا قرض تین سے چار ہزار ڈالر کے درمیان ہوتا ہے جبکہ بعض کیسز میں یہ رقم اس سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ 14 افراد پر مشتمل ایک خاندان کو آزاد کرانے پر تقریباً سات ہزار ڈالر خرچ ہوئے۔

@eman.mc Replying to @tracylawrencerealty #greenscreen setting families free. #projectjubilie original sound - E-man

جوبلی کیمپین اپنی ویب سائٹ پر خود کو انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور جبری مشقت کے خلاف کام کرنے والی تنظیم قرار دیتی ہے۔ تنظیم کے مطابق وہ دنیا کے مختلف ممالک میں استحصال کا شکار افراد کی مدد کرتی ہے، جبکہ پاکستان میں ان کی توجہ بھٹہ مزدور خاندانوں پر ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ان ویڈیوز نے لوگوں کو صرف جذباتی نہیں کیا بلکہ ایک تلخ حقیقت کی طرف بھی متوجہ کیا۔ وہ حقیقت یہ کہ جدید دنیا میں بھی کچھ خاندان ایسے ہیں جن کے لیے آزادی اب بھی ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔

شیئر: