Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیو آر کوڈ کا کڑا: اب رش کے دوران عازمِ حج راستہ نہیں بھٹک سکے گا

وزارتِ حج و عمرہ کی جانب سے ہر برس عازمین حج کے لیے بہتر اور جدید سہولیات کی فراہمی پر توجہ دی جاتی ہے جس کا مقصد رب تعالی کے مہمانوں کے تحفظ اور فراہم کی جانے والی خدمات کو یقینی بنانا ہے۔
ماضی میں بھی عازمین حج کو مخصوص کڑا فراہم کیا جاتا تھا جس پر ان کے ادارے کی تفصیلات فراہم کی جاتی تھیں تاہم اس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں ہوتی گئیں۔
اب جبکہ مصنوعی ذہانت کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ وزارتِ حج و عمرہ نے بھی عازمین حج کی سہولت اور سکیورٹی کو یقینی بناتے ہوئے رواں برس فراہم کیے جانے والے کڑے میں جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا ہے۔
روایتی کڑا اور سمارٹ کڑا 
ماضی میں فراہم کیے جانے والے کڑے میں بہت محدود معلومات ہوتی تھیں کیونکہ چھوٹے سے پلاسٹک کے اس کڑے پر تفصیلات کو درج کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا تھا۔ اس پر عازم حج کا نام، پاسپورٹ نمبر اور مختصر ایڈریس درج ہوتا تھا۔
وزارتِ حج و عمرہ کی یہ روایت رہی ہے کہ حج کے اختتام کے فوراً بعد تمام متعلقہ ادارے جامع رپورٹس تیار کرتے ہیں جن میں مختلف امور کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ ان رپورٹس کی بنیاد پر آئندہ حج کے لیے تجاویز پر غور کیا جاتا ہے تاکہ خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
رواں برس وزارت کی جانب سے جو سمارٹ کڑا عازمین کو فراہم کیا جا رہا ہے اس میں موجود کیو آر کوڈ میں مکمل تفصیلات فراہم کی گئی ہیں جن میں عازم حج کا نام، ملک اور پاسپورٹ کی تفصیلات، حرمین شریفین کے علاوہ مشاعر مقدسہ میں ان کے رہائشی خیموں کے بارے میں بھی مکمل معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

دنیا بھر سے عازم حج مکہ مکرمہ پہنچ رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

سمارٹ کڑے کی بدولت یہ سہولت حاصل ہو گئی ہے کہ اگر عازمِ حج مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں اپنے عارضی قیام کے دوران اپنی رہائش گاہ بھول جائے تو فوری رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔
یہ بات عام طور پر دیکھنے میں آتی ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے زیادہ تر عازمین پہلی بار حج کے لیے آتے ہیں، تو ان کے لیے یہ مقامات نئے ہوتے ہیں۔
نتیجتاً وہ حرم شریف یا مسجدِ نبوی سے واپسی پر اپنی رہائشی عمارتوں کا راستہ بھول سکتے ہیں تاہم اب یہ مسئلہ اس سمارٹ کڑے کے ذریعے حل ہو گیا ہے۔

عازمین کے لیے منیٰ میں انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)

اس میں موجود کیو آر کوڈ کو سکین کرتے ہی تمام ضروری معلومات حاصل ہو جاتی ہیں جن میں رہائشی پتہ بھی شامل ہے۔
اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے دنیا بھر سے آنے والے عازمین کو بہتر سے بہتر خدمات کی فراہمی اور ان کی سیفٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔

شیئر: