’زائرین اور شعرا کی سرزمین‘: فوٹوگرافر شہزادی ریم الفیصل کے لینز میں محفوظ سعودی عرب
’زائرین اور شعرا کی سرزمین‘: فوٹوگرافر شہزادی ریم الفیصل کے لینز میں محفوظ سعودی عرب
اتوار 24 مئی 2026 8:24
حج کی دستاویزی عکس بندی شہزادی ریم کے کریئر کا سب سے اہم کام ہے (فوٹو: عرب نیوز)
’گزشتہ 35 برسوں سے میں بلیک اینڈ وائٹ اینالوگ فوٹوگرافی کرتی آ رہی ہوں اور یہی میرا پورا کیریئر ہے‘
ان الفاظ کے ساتھ شہزادی ریم الفیصل فوٹوگرافی کے فن کے لیے وقف اپنی زندگی پر روشنی ڈالتی ہیں، ایک ایسا سفر جو سائے اور روشنی سے شروع ہو کر رنگ، شناخت اور وابستگی کی گہری جستجو تک پہنچ چکا ہے۔
ان کی تازہ ترین نمائش، جو جدہ میں واقع وصل آرٹ سپیس میں 30 مئی تک جاری ہے، اس سفر میں ایک نئے باب کی نمائندگی کرتی ہے۔
’زائرین اور شعرا کی سرزمین‘ (Land of Pilgrims and Poets) کے عنوان سے یہ نمائش فنکارانہ تحقیق، سفر اور غور و فکر کی دہائیوں کو ایک ساتھ سمیٹتی ہے اور ایمان، ثقافت اور جگہ کی روح جیسے موضوعات کو باہم جوڑتی ہے۔
حج کی دستاویزی عکس بندی، ان کے کریئر کا سب سے اہم کام ہے کیونکہ وہ پہلی خاتون فوٹو گرافر ہیں جنھوں نے حج کوایک منظر کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے تہذیبی ملاقات کے طور پر پیش کیا ہے۔
شہزادی ریم کی نئی کتاب ’سٹیٹس آف لائٹ‘ سات مئی کو شائع ہوئی جو قارئین کو ان کے کام کا ایک مختصر سا نمونہ پیش کرتی ہے۔
شہزادی نے عرب نیوز کو بتایا کہ یہ نئی کتاب ماضی کی کوئی یاد نہیں۔ ’میرا کام حال سے متعلق ہے۔ میں اس جگہ کی روح تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہوں جس کا وجود صدیوں سے ہے، یہ الوہیت اور ابدیت کے بارے میں ہے۔ اور ان سب کے درمیان نور کی لکیر ہے۔
’میں (منظر کشی کے لیے) جس مقام پر بھی ہوں وہاں اُس کی روح کی تلاش میں ہوں جو صدیوں سے یہیں ہے۔ میں الوہیت کی موجودگی کی بات کرتی ہوں۔ یہ لامحدود کا موجود ہونا ہے اور اُن کے مابین روشنی کی ایک پوری لکیر ہے‘۔
شہزادی ریم کی نئی کتاب ’سٹیٹس آف لائٹ‘ سات مئی کو شائع ہوئی (فوٹو: عرب نیوز)
شہزادی ریم الفیصل کے فلسفے میں روشنی وہ مابعد طبیعاتی عُنصر ہے جو وقت، عقیدے اور جغرافیے کو آپس میں جوڑ دیتا ہے۔
’ہم عربی میں (التدبر) کا لفظ بولتے ہیں۔ یہ دراصل قرانی آیات کے بارے میں ایک گہری اور فکر انگیز سوچ ہے جو (قرآنِ پاک) کی ترتیل یا تلاوت سے کہیں آگے بڑھ کر الوہی پیغام کو سمجھنے اور اُسے روز مرہ زندگی پر مُنطبِق کرنے سے متعلق ہے۔ اور یہ بنیادی محرک کے طور میرے کام اور تخلیقی عمل میں کارفرما ہے۔۔۔ یعنی اللہ، نُور السموات والارض ہے (اللہ آسمانوں اور زمینوں کا نُور ہے) اور یہی وجہ ہے کہ میں اِسے روشنی کی مختلف حالتیں کہہ کر پکارتی ہوں۔‘
شہزادی ریم کے ابتدائی کام نے، جو بلیک اینڈ وائٹ پر مبنی تھا، سائے اور روشنی کے مجموعی تاثر اور تصاویر کے اجزائے ترکیبی سے متعلق اُن کی حساسیت کو مزید نکھار دیا۔ لیکن سعودی عرب میں اُن کے کام اور اُسے کیمرے کے پردے پر محفوظ کرنے کی کوشش نے شہزادی کے فوٹوگرافی کے طریقۂ کار میں انقلابی تبدیلی کو مہمیز لگائی۔
’جب میں نے سعودی عرب کے مناظر کو تصویروں میں سجانا شروع کیا، تو نہ جانے کس وجہ سے، میں جب تصویر بناتی تو اُس میں سیاہی اور سفیدی ہی نمایاں ہو جاتے۔ ایسے لگتا تھا جیسے یہ کام میں نہیں کر رہی۔ میرا یہ کام بولتا نہیں تھا، اِس کام میں اظہار کی وہ جھلک نہیں تھی جس کی مجھے تلاش تھی۔ چنانچہ میں رنگین فوٹو گرافی کی طرف چل پڑی۔‘
شہزادی ریم نے ایسے خاندان میں پرورش پائی جس کی جڑیں ثقافت اور فکری زندگی میں گہرائی تک موجود ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
شہزادی ریم الفیصل نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تبدیلی محض تکنیکی نہیں بلکہ فلسفیانہ نوعیت کی تھی۔
’بلیک اینڈ وائٹ فوٹوگرافی کے دوران، شکل اور موجودگی نمایاں رہتی ہے جبکہ رنگین فوٹو گرافی میں آپ کے سامنے کچھ اور آتا ہے۔‘
’سیاہ و سفید فوٹوگرافی میں جگہ اور انسان، سائے اور روشنی کے ذریعے تصویر کا موضوع ہوتے تھے۔ لیکن جب میں نے کلر فوٹوگرافی کی تو رنگ خود ہی موضوع میں بدل گئے۔ اگر آپ میری فوٹوز کو دیکھیں، تو اُن کی بننے میں جگہ یا مقام کے بجائے رنگ زیادہ واضح ہو کر بول رہے ہوتے ہیں۔‘
شہزادی ریم کام کرتی رہیں اور دھیرے دھیرے اُن کے کیمرے کا رُخ مملکت کے طول و عرض کی جانب مُڑ گیا۔ اُس کیمرے کے لینز کی نظریں جب صحراؤں، کوہساروں اور ساحلوں سے ملِیں تو وہ اُنھیں دیکھتا ہی رہ گیا۔ پھر اُس کیمرے نے اِس تنوع اور رنگا رنگی میں یکسانیت کے پہلو تلاش کر لیے۔
مملکت کے وسیع جغرافیے اور ثقافتی نیرنگی کے بارے میں اپنے خیالات بیان کرتے ہوئے شہزادی کا کہنا تھا کہ یہاں کے منظر نامے میں پہلوؤں کے اختلاف باوجود، مختلف علاقے جس طرح دکھائی دیتے ہیں اور جیسی یہاں کی روایات ہیں۔۔۔ یہ ایسے ہے جیسے وحدت کا ایک سلسلہ ہو جس نے سعودی عرب کو باہم جوڑ کے رکھا ہوا ہے۔ حتیٰ کے جزیرۃ العرب کی تاریخ، تجارت اور صحرا نشینی کی میراث ایک جیسی ہے جس نے صدیوں پر پھیلے ہوئے زمانوں میں اس شناخت کی تشکیل کی ہے جس کے نشان افریقہ سے چین اور یورپ تک مل سکتے ہیں۔
شہزادی ریم نے پیرس میں فوٹی گرافی کی تربیت حاصل کی (فوٹو: عرب نیوز)
شہزادی ریم نے ایسے خاندان میں پرورش پائی جس کی جڑیں ثقافت اور فکری زندگی میں گہرائی تک موجود ہیں۔ وہ سعودی عرب کے شاہ فیصل کی پوتی ہیں۔ انھوں نے شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں عربی ادب کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد انھوں نے پیرس میں فوٹی گرافی کی تربیت لی۔ ان کے کیریئر میں کئی مطبوعات اور بین الاقوامی نمائشیں شامل ہیں لیکن اُن کی توجہ شہرت پر نہیں باطنی ارتقا پر ہے۔
’اس نمائش کے لیے میں نے پرنٹر پر کام کرنے سے قبل کئی برس لگائے تاکہ میں جو رنگ چاہتی تھی مجھے مل جائے۔ یہ فکر اور ایک خاص کیفیت کے دقیق ادراک کی بہت بلند سطح ہے‘
’زائرین اور شاعروں کی زمین‘ میں شہزادی ریم کے کیمرے کے تخلیقی لینز کے ذریعے دیکھنے والوں کو نہ صرف سعودی عرب کے منظروں پر نگاہیں مرتکز کرنے کا موقع ملتا ہے بلکہ ایک واسطے کی حیثیت میں روشنی، زبان اور دہائیوں کی عقیدت کا استعمال کرتے ہوئے، غور و فِکر کی دعوت بھی ملتی ہے۔