Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں دو بہنوں اور کزن نے ایک ہی نوجوان سے شادی کر لی، قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ گئے

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے ضلع امروہہ میں دو بہنوں اور ان کی کزن نے ایک ہی نوجوان سے شادی کر لی (فائل فوٹو: ایکس)
انڈیا کی ریاست اترپردیش کے ضلع امروہہ میں دو بہنوں اور ان کی کزن نے ایک ہی نوجوان سے شادی کر لی، جس کے بعد اس شادی کی قانونی حیثیت اور سماجی پہلوؤں پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 20 سالہ سروج، جو بی ٹیک کے دوسرے سال کی طالبہ ہیں، ان کی 19 سالہ بہن ساوتری رانی اور 18 سالہ کزن سنتوش کھڑک ونشی، حسن پور کے گاؤں دھتوریا کی رہائشی ہیں۔ تینوں سوشل میڈیا کے لیے ویڈیوز بناتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 20 سالہ وکاس کھڑک ونشی عرف وکی، جو قریبی گاؤں شیام پوری کا رہائشی ہے، گذشتہ چھ ماہ سے ان کے ساتھ بطور کیمرہ مین کام کر رہا تھا۔ تینوں خواتین کا کہنا ہے کہ وہ ویڈیوز میں اکثر ان کے شوہر کا کردار بھی ادا کرتا تھا۔
یہ شادی اس وقت منظرِ عام پر آئی جب چمنڈا ماتا مندر میں ہونے والی تقریب کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ 
ویڈیوز میں وکاس کو تینوں خواتین کی مانگ میں سندور بھرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
 پولیس کے مطابق شادی کے وقت ان کے خاندان کا کوئی فرد تقریب میں موجود نہیں تھا۔
سروج نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ وہ تینوں بچپن سے ایک ساتھ پلی بڑھی ہیں اور جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے اہل خانہ ان کی الگ الگ شادیاں کرنا چاہتے ہیں تو وہ پریشان ہو گئیں۔
ان کے مطابق ’ہم بچپن سے ایک ساتھ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے الگ رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ جب احساس ہوا کہ شادی کے بعد ہم جدا ہو جائیں گے تو ہم نے ایک غیر معمولی فیصلہ کرنے کا سوچا۔‘
دوسری جانب وکاس کھڑک ونشی کا کہنا تھا کہ وہ تینوں کے مضبوط تعلق سے آگاہ تھا، اسی لیے اس نے ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے رضامندی سے یہ فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بار بار کہتی تھیں کہ شادی کے بعد بھی ایک ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ ہم نے باہمی رضامندی سے یہ فیصلہ کیا ہے اور امید ہے لوگ ہمارے انتخاب کا احترام کریں گے۔‘
اس شادی کے بعد اس کی قانونی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
الہ آباد ہائی کورٹ کے وکیل انوراگ پانڈے نے کہا ہے کہ ہندو میرج ایکٹ کسی ہندو شخص کو ایک وقت میں ایک سے زیادہ شریکِ حیات رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔
ان کے مطابق ’ایسی شادی قانون کی نظر میں کالعدم ہوتی ہے اور اس سے قانونی ازدواجی رشتہ قائم نہیں ہوتا۔‘
دوسری جانب چمنڈا ماتا مندر کی انتظامیہ نے اس شادی سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
مندر کے منتظم شیوچرن داس کے مطابق شادی کے وقت مندر میں تزئین و مرمت کا کام جاری تھا، اس لیے وہاں کوئی پنڈت موجود نہیں تھا۔ 
حسن پور کے سرکل آفیسر پنکج تیاگی نے بتایا کہ ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پولیس نے چاروں افراد اور ان کے اہل خانہ سے بات کی۔
ان کے مطابق چاروں نے بتایا کہ وہ بالغ ہیں اور اپنی مرضی سے اس تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ پولیس کو اب تک اس معاملے میں کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے والدین نے کوئی اعتراض درج کرایا ہے۔
پنکج تیاگی نے کہا کہ اگر مستقبل میں کوئی شکایت موصول ہوتی ہے یا کسی قابلِ دست اندازی جُرم کے شواہد سامنے آتے ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ 

شیئر: