Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جدہ کے قریب پرائیویٹ جزیرہ جہاں ’آسمان پگھل کر سہنرے اور نیلے رنگوں میں ڈھل جاتا ہے‘

جدہ کے ساحل سے کچھ فاصلے پر ایک ایسا سیاحتی مقام بھی ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں۔ ’ثول پرائیویٹ ریٹریٹ‘ مملکت کا واحد نجی جزیرہ ہے جسے مکمل طور پر بُک کیا جا سکتا ہے۔ یہ شہر کے شور سے دُور الگ تھلگ ایک پناہ گاہ ہے جہاں انسان بہترین اور پُرسکون وقت گزار سکتا ہے۔
اس جزیرے تک پہنچنا بہت آسان ہے اگرچہ یہ روز مرہ زندگی سے بہت فاصلے پر واقع ہے۔ کشتی پر یہاں جانے کے لیے 40 منٹ لگتے ہیں۔ لیکن یہاں پہنچ کر ایسا لگتا ہے کہ باقی دنیا ہم سے کہیں بہت دور ہے۔
جب ہم اِس جزیرے کے پانیوں میں پہنچے تو رسمی کارروائی میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ یہاں کی ٹیم نے ہمارے جوتوں تک کے سائز پہلے ہی پوچھ رکھے تھے تاکہ ہمارا سنورکلنگ کا سامان پہنچنے سے پہلے تیار ہو۔ بظاہر تو چھوٹی سے بات تھی لیکن اس سے اس توجہ کا پتہ چلتا ہے جس کا تجربہ ہمیں یہاں قیام کے دوران ہوا۔
’ثول پرائیویٹ ریٹریٹ‘ کو جو چیز اصل میں خاص بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اِس میں آپ کے ساتھ کوئی اور نہیں ہوتا بس آپ ہی آپ ہوتے ہیں جیسے اسے آپ کی ذاتی تفریح کے لیے بنایا گیا ہو۔ اِس جزیرے میں ایک وقت میں صرف ایک ہی گروپ آ سکتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ 12 افراد ہونے چاہیں۔۔۔ تین بچے اور نو بڑے۔
 یہاں سمندر کے ساحل پر چھ بڑے ولاز ہیں جس میں آپ کی ذاتی پسند اور پرائیوسی کا ہر طرح سے خیال رکھا گیا ہے۔ قیام کا انتظام مہمانوں کی ضرورت کے عین مطابق کیا جاتا ہے جس کے پیچھے سعودی عرب کی مہمان نوازی اور خلوص کی روایت ’حفاوہ‘ ہے۔
جزیرے پر پہنچنے کے بعد ہمیں اِس کے بارے میں بتایا گیا اور یہاں تاریخ سے واقفیت دلائی گئی۔ ہمیں اِس کے خاص پہلوؤں کے بارے میں تفصیل بتائی گئی جن میں یادگار فیروزی رنگ کا پانی کا قدرتی ذخیرہ بھی شامل ہے۔

یہاں رات کا کھانا بہترین تھا جس میں تازہ سِی فوڈ، باربی کیو کی ڈشیں، طرح طرح کی سالاد اور روزانہ کی بنیاد پر گرِل کیے جانے والے خصوصی کھانے تھے جو بظاہر عام مگر حقیقت میں پُرتعیش مقام پر پیش کیے جاتے تھے۔
ہمارے یہاں آنے سے واپسی تک سٹاف کا پُر خلوص رویہ بہترین تھا۔ لگتا نہیں تھا کہ اُنھوں نے ہماری خدمت کے لیے پہلے سے ریہرسل کر رکھی ہو۔
سمندر نہ ہو تو کسی بھی پرائیویٹ جزیرے کا کیا فائدہ۔ یہاں کا پانی اپنا رنگ بدلتا ہے اور مشاغل میں سنورکلنگ کے علاوہ اور بھی چیزیں ہیں جو آپ کے تجربے کو دو چند کر دیتی ہیں۔
اِس جزیرے کے سپا میں میرا تجربہ پھولوں سے سجے پاؤں کو آرام دینے والی ایک مشق سے شروع ہوا جس کے بعد میرے پاؤں کی تھیریپی کی گئی۔ مساج کا ایسا تجربہ مجھے کہیں اور نہیں ہوا۔

جزیرے پر شام کا وقت بھی یادگار رہا۔ غروبِ آفتاب کے وقت تالاب کے قریب بیٹھنا تو خواب لگتا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آسمان پگھل کر سنہری اور نیلے رنگوں میں ڈھل گیا ہے۔
یہاں ہم نے جو دن گزارے وہ بہترین اور کسی یادگار تجربے سے کم نہیں تھے۔ جب ہم یہاں سے جانے لگے تو دل بھاری تھا۔ جیسے ہم کسی کتاب کو وہ باب بند کر رہے ہوں جسے بند کرنے کو جی نہ چاہے۔ ٹیم کی طرف سے الوداعی جملے اور رویہ جذباتی تھا۔ وہ اس وقت تک ہمارے لیے اپنے ہاتھ ہلاتے رہے جب تک کشتی چلتے چلتے دُور نہیں ہوگئی۔
کچھ مقامات آپ کو متاثر کرتے ہیں جب آپ وہاں ہوتے ہیں۔ کچھ بہت لمبے عرصے تک آپ کی یاد بنے رہتے ہیں۔ ’ثول پرائیویٹ ریٹریٹ‘ وہی تجربہ ہے جس کی یاد میرے ساتھ ساتھ رہے گی۔ یہ وہ جگہ ہے جسے لمحوں نے تشکیل دیا ہے جو آپ کو یاد دلاتے ہیں کہ حقیقی سکون کتنا کم یاب ہوتا ہے۔

شیئر: