حج 2026 تیزی سے اپنے اختتامی مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آج 11 ذی الحجہ اور ’تشریق‘ کا پہلا دن ہے۔ اس دن حجاج تینوں شیطانوں کو سات، سات کنکریاں مارنے کے بعد اپنے خیموں میں آرام کریں گے۔
مزید پڑھیں
-
حج 2026: یوم النحر کو جمرہ عقبہ پر رمی کے مناظر
Node ID: 904734
تفصیلات کے مطابق ایام تشریق کا آغاز عید الاضحی کے پہلے دن کے بعد ہوتا ہے، تشریق کے تین دن 11، 12 اور 13 ذوالحج کے ہوتے ہیں۔
تشریق کے دو دن یعنی 11 اور 12 ذوالحج کو حجاج کرام تینوں شیطانوں کو سات، سات کنکریاں مارتے ہیں۔
انہیں ایام تشریق کیوں کہا جاتا ہے؟ ماضی میں قربانی کے گوشت کو دھوپ میں خشک کیا جاتا تھا۔ گوشت کو باریک باریک پارچوں کی شکل میں کاٹ کر دھوپ میں خشک کرنے کے عمل کو عربی میں ’تشریق‘ کہا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے ان دنوں کو’ایام تشریق‘ کہا جاتا ہے۔

ایام تشریق میں رمی کا آغاز چھوٹے شیطان سے کیا جاتا ہے جو منیٰ کی مسجد خیف سے قریب ہے اس کے بعد جمرہ وسطی یعنی درمیانے اور آخر میں جمرہ عقبہ یا کبریٰ (بڑا شیطان) کو سات، سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔
ایام تشریق کے دوسرے اور تیسرے دن بھی رمی کی یہی ترتیب ہوتی ہے۔
وہ حجاج جو جلد رخصت ہونا چاہتے ہیں انہیں اس بات کی اجازت ہوتی ہے کہ تشریق کے دوسرے دن یعنی 12 ذوالحج کی رمی مکمل کرکے غروب آفتاب سے پہلے وادی منیٰ کی حدود سے نکل جائیں۔
جبکہ وہ حجاج جو 12 ذوالحج کے بعد قیام کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے لازمی ہے کہ تیسرے دن کی رمی بھی مکمل کریں اور اس کے بعد منیٰ سے رخصت ہوں۔

جمرات کمپلیکس پر حجاج کی نقل و حرکت کو منظم رکھنے کے لیے مختلف اداروں کے اشتراک سے تیار کردہ جامع منصوبے پر عمل درآمد جاری ہے۔
جمرات پل کی متعدد منزلیں ہیں جبکہ ہر منزل پر جانے کے لیے راستے جدا ہیں جہاں سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں تاکہ حجاج کی آمد و رفت کے عمل کو منظم رکھا جائے۔
راستوں میں ہلال الاحمر کے یونٹس، رضا کار اور فرسٹ ایڈ کی ٹیمیں بھی موجود ہیں جو جمرات پل پر آنے والے حجاج کو ضرورت پڑنے پر طبی خدمات مہیا کرتے ہیں۔

جمرات سے منیٰ اور العزیزیہ جانے والے راستوں پر اہلِ مکہ کی جانب سے پانی کی سبیل کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جہاں موجود لوگ حجاج میں پانی کی ٹھنڈی بوتلیں تقسیم کرتے ہیں۔
گرمی کی شدت سے حجاج کو محفوظ رکھنے کے لیے سکیورٹی اہلکار ان پر پانی کی پھوار بھی برسا رہے ہیں، علاوہ ازیں راستوں پر نصب پھوار برسانے والے پولز کے ذریعے سے بھی سارا دن پانی برسایا جاتا ہے جس سے ماحول قدرے خنکی مائل ہو جاتا ہے۔












