Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حج 2026: تشریق کا پہلا دن، رمی اور طوافِ افاضہ کا سلسلہ جاری

رمی کے بعد حجاج طواف افاضہ کے لیے مکہ مکرمہ جارہے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
حج 2026 تیزی سے اپنے اختتامی مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آج 11 ذی الحجہ اور ’تشریق‘ کا پہلا دن ہے۔ اس دن حجاج تینوں شیطانوں کو سات، سات کنکریاں مارنے کے بعد اپنے خیموں میں آرام کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق ایام تشریق کا آغاز عید الاضحی کے پہلے دن کے بعد ہوتا ہے، تشریق کے تین دن 11، 12 اور 13 ذوالحج کے ہوتے ہیں۔
تشریق کے دو دن یعنی 11 اور 12 ذوالحج کو حجاج کرام تینوں شیطانوں کو سات، سات کنکریاں مارتے ہیں۔ 
انہیں ایام تشریق کیوں کہا جاتا ہے؟ ماضی میں قربانی کے گوشت کو دھوپ میں خشک کیا جاتا تھا۔ گوشت کو باریک باریک پارچوں کی شکل میں کاٹ کر دھوپ میں خشک کرنے کے عمل کو عربی میں ’تشریق‘ کہا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے ان دنوں کو’ایام تشریق‘ کہا جاتا ہے۔

راستوں میں ہلال الاحمر کے یونٹس، رضا کار اور فرسٹ ایڈ کی ٹیمیں بھی موجود ہیں (فوٹو: بشیر صالح)

ایام تشریق میں رمی کا آغاز چھوٹے شیطان سے کیا جاتا ہے جو منیٰ کی مسجد خیف سے قریب ہے اس کے بعد جمرہ وسطی یعنی درمیانے اور آخر میں جمرہ عقبہ یا کبریٰ (بڑا شیطان) کو سات، سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔
ایام تشریق کے دوسرے اور تیسرے دن بھی رمی کی یہی ترتیب ہوتی ہے۔
وہ حجاج جو جلد رخصت ہونا چاہتے ہیں انہیں اس بات کی اجازت ہوتی ہے کہ تشریق کے دوسرے دن یعنی 12 ذوالحج کی رمی مکمل کرکے غروب آفتاب سے پہلے وادی منیٰ کی حدود سے نکل جائیں۔
جبکہ وہ حجاج جو 12 ذوالحج کے بعد قیام کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے لازمی ہے کہ تیسرے دن کی رمی بھی مکمل کریں اور اس کے بعد منیٰ سے رخصت ہوں۔

 جمرات  پر حجاج کی آمد و رفت کو منظم رکھنے کے راستوں کو جدا کیا گیا (فوٹو: بشیر صالح)

جمرات کمپلیکس پر حجاج کی نقل و حرکت کو منظم رکھنے کے لیے مختلف اداروں کے اشتراک سے تیار کردہ جامع منصوبے پر عمل درآمد جاری ہے۔
جمرات پل کی متعدد منزلیں ہیں جبکہ ہر منزل پر جانے کے لیے راستے جدا ہیں جہاں سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں تاکہ حجاج کی آمد و رفت کے عمل کو منظم رکھا جائے۔
راستوں میں ہلال الاحمر کے یونٹس، رضا کار اور فرسٹ ایڈ کی ٹیمیں بھی موجود ہیں جو جمرات پل پر آنے والے حجاج کو ضرورت پڑنے پر طبی خدمات مہیا کرتے ہیں۔

اہل مکہ کی جانب سے حجاج کو پانی کی ٹھنڈی بوتلیں تقسیم کی جاتی ہیں (فوٹو: بشیر صالح)

جمرات سے منیٰ اور العزیزیہ جانے والے راستوں پر اہلِ مکہ کی جانب سے پانی کی سبیل کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جہاں موجود لوگ حجاج میں پانی کی ٹھنڈی بوتلیں تقسیم کرتے ہیں۔
گرمی کی شدت سے حجاج کو محفوظ رکھنے کے لیے سکیورٹی اہلکار ان پر پانی کی پھوار بھی برسا رہے ہیں، علاوہ ازیں راستوں پر نصب پھوار برسانے والے پولز کے ذریعے سے بھی سارا دن پانی برسایا جاتا ہے جس سے ماحول قدرے خنکی مائل ہو جاتا ہے۔

شیئر: