Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اقتدار کے ایوانوں میں گونجتی بغاوت کی آوازیں، پاپولسٹ سیاست یا خراب تعلقات؟

مسلم لیگ (ن) کی حکومت سول ملٹری تعلقات کے نازک دور سے گزر رہی تھی (فوٹو: ن لیگ فیس بک)
سیاسی اقتدار کی غلام گردشوں میں مصلحت، خاموشی اور پارٹی لائن کی پیروی کو بقا کا بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے، لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں گاہے بگاہے ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جہاں برسرِاقتدار جماعت کے صفِ اول کے رہنما خود ہی اپنی حکومت کے لیے ’اندرونی اپوزیشن‘ کا روپ دھار لیتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما خواجہ آصف کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کیا گیا ایک بیان اس کی تازہ ترین مثال ہے۔
وفاقی وزیر نے بجلی کی فراہمی کے مقامی ادارے لیسکو پر ایک ٹرانسفارمر کی تنصیب کے بدلے مبصرین اور عوام کے سامنے رشوت ستانی کے کھلے الزامات عائد کیے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا جب ان کی اپنی ہی جماعت وفاق اور صوبے میں حکمران ہے۔ عام آدمی جو روزمرہ زندگی میں محکموں کی مبینہ کرپشن اور مہنگائی سے عاجز ہے، اسے اس بیان میں اپنے جذبات کی عکاسی نظر آئی، بھلے ہی یہ درپردہ اپنی ہی انتظامیہ کی ناکامی کا اعتراف تھا۔
سیاسیات کی استاد ڈاکٹر شفق رشید اس رجحان کو ایک عالمی تناظر میں دیکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پاپولسٹ سیاست پوری دنیا میں لوگوں سے جڑنے کا ایک طریق ہے اور اس کو پاپولسٹ اس لیے ہی کہا جاتا ہے کہ اس کا مقصد لوگوں کے جذبات سے جڑنا ہے۔‘
’جب بھی کوئی حکومت ہوتی ہے تو اس کی اگر اپوزیشن اندر سے ہی ہو رہی ہو تو ایسے سیاستدانوں کو مخالف پارٹی کے کارکنوں سے بھی داد ملتی ہے۔ یہ سیاستدانوں کی اپنی چوائس ہوتی ہے، بعض اوقات اس کے پیچھے غیر جمہوری قوتیں بھی ہوتی ہیں لیکن اکثر یہ ایسے سیاستدانوں کا ایسی سیاست کے ساتھ لگاؤ ہوتا ہے جس میں ان کو سب سے عزیز عوامی پزیرائی ہوتی ہے۔‘

مسلم لیگ (ن) کی مصلحتیں اور اقتدار میں گونجتے باغیانہ سر

مسلم لیگ (ن) کے اندر یہ طرزِ عمل نیا نہیں ہے۔ خواجہ آصف سے قبل خواجہ سعد رفیق بھی گاہے بگاہے ایسے بیانات داغتے رہے ہیں جو بظاہر پارٹی کی سرکاری پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتے تھے لیکن عوامی حلقوں، خاص طور پر مقتدر حلقوں کے خلاف سیاسی بالادستی کے حامی ووٹرز میں بے پناہ مقبولیت حاصل کرتے تھے۔
جب ن لیگ کی حکومت سول ملٹری تعلقات کے نازک دور سے گزر رہی ہوتی تھی، تو سعد رفیق کے کچھ بیانات نے حکومت کے لیے مشکلات تو پیدا کیں، لیکن عوام میں ان کا سیاسی قد کاٹھ بڑھا دیا۔ اسی طرح خواجہ آصف کا لیسکو سے متعلق حالیہ بیان بھی دراصل پارٹی کی کارکردگی سے ہٹ کر براہِ راست ووٹر کے اس غصے سے ناتا جوڑنے کی کوشش ہے جو وہ شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے دور میں محسوس کر رہا ہے۔
سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی اس صورتحال کا گہرا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مختلف سیاسی جماعتوں میں جب بھی بڑے لیڈروں نے پاپولسٹ بیانیہ لیا اس کی ایک وجہ تو ان کی اپنی گھبراہٹ ہوتی ہے۔ جب کسی نہ کسی طرح پارٹی کے اقتدار میں ہوتے بھی ان کی اپنی جگہ مسدود ہو رہی ہوتی ہے، چاہے وہ پارٹی کے اندر گروپ بندی کی شکل میں ہو یا پھر ان کو حالات ایسے نظر آ رہے ہوں جس میں آگے جا کر سیاست میں کوئی تبدیلی واقع ہونے کا امکان ان کے ذہن میں پیدا ہو جائے۔ اور یہ معاملہ آج کا نہیں ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں احمد رضا قصوری اور مختار رانا ایک بڑی مثال ہیں اور وہ بیان بازی بعد میں معاملے کو بہت آگے لے گئی اور وہ تاریخ بن گئی۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی: مصلحت پسندی کے خلاف ’اندرونی مزاحمت‘ کا روایتی رنگ

نوے کی دہائی کے بعد سے دیکھا جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی نے جب بھی اقتدار سنبھالا، اس کی قیادت کو مفاہمت کی سیاست کا طعنہ سننا پڑا۔ آصف علی زرداری کے دورِ حکومت میں جب پارٹی پر مصلحت پسندی کا لیبل لگ رہا تھا، تو اعتزاز احسن جیسے قد آور قانون دان اور رہنما حکومتی پالیسیوں کے برعکس عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے دکھائی دیے۔
انہوں نے عدلیہ کی بحالی کے دور میں اور بعد میں بھی کئی مرتبہ ایسے موقف اختیار کیے جو پی پی پی کی سرکاری لائن سے مختلف تھے، جس کے باعث انہیں حریف جماعتوں کے کارکنوں سے بھی داد ملی۔
اسی دورِ حکومت میں ایک اور بڑا نام شاہ محمود قریشی کا ابھرا، جو اس وقت وزیرِ خارجہ تھے۔ ریمنڈ ڈیوس کیس کے دوران جب وفاقی حکومت امریکی دباؤ کے تحت کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کر رہی تھی، تو شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کر کے یہ پاپولسٹ بیانیہ اپنایا کہ ’امریکی کارندے کو کسی قسم کا سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔‘
یہ بیان اس وقت کے شدید امریکہ مخالف عوامی جذبات کا عین آئینہ دار تھا، جس نے حکومت کو تو مشکل میں ڈالا لیکن قریشی کو عوامی ہیرو بنا دیا۔ میاں رضا ربانی نے بھی ڈرون حملوں اور نجکاری کے معاملات پر پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنایا اور خود کو عوامی حقوق کا محافظ ثابت کیا۔

علی محمد خان اکثر ٹی وی سکرینوں پر آ کر حکومت کی عملی مصلحتوں اور یوٹرنز کے برعکس ایک نظریاتی اور جذباتی بیانیہ اپنایا کرتے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان تحریکِ انصاف: تبدیلی کے دعوے اور اقتدار کے سائے میں اٹھنے والی صدائے احتجاج

پاکستان تحریکِ انصاف نے سنہ 2018 میں جب حکومت بنائی تو اس کا پورا بیانیہ ہی روایتی نظام کے خلاف عوامی غصے پر مبنی تھا۔ تاہم، اقتدار کے مشکل فیصلوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں جب حکومت کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا، تو پارٹی کے اندر سے ہی باغیانہ آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے رکنِ اسمبلی نور عالم خان نے قومی اسمبلی کے فلور پر وہ بیانات دیے جو اس وقت مہنگائی سے پسے ہوئے عام آدمی کی آواز بن گئے۔ انہوں نے اپنی ہی حکومت پر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور احتساب کے دوہرے معیار پر کڑی تنقید کی، جس سے اپوزیشن کو تو سیاسی ایندھن ملا، لیکن عوامی سطح پر ان کے حلقے کے لوگوں نے اس جرات کو خوب سراہا۔
اسی طرح علی محمد خان، جو حکومت کا حصہ اور وزیر تھے، اکثر ٹی وی سکرینوں پر آ کر حکومت کی عملی مصلحتوں اور یوٹرنز کے برعکس ایک نظریاتی اور جذباتی بیانیہ اپنایا کرتے تھے۔ جب عوام میں ’ریاستِ مدینہ‘ کے نعرے پر تنقید ہوتی، تو وہ اپنی ہی حکومت کی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے کہ ’نظام میں خرابیاں ہیں اور ہم ابھی تک عوام کو وہ حق نہیں دے سکے جس کا وعدہ کیا تھا۔‘
یہ اعتراف دراصل مایوس ہوتے ہوئے نظریاتی ووٹر کو سنبھالا دینے کی ایک کوشش ہوتی تھی تاکہ حکومت سے پیدا ہونے والی دوری کو ذاتی پاپولزم کے ذریعے پاٹا جا سکے۔
حکمران جماعتوں کے اندر اٹھنے والی یہ آوازیں بظاہر کسی ایک فرد کی ذاتی رائے یا غصہ دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان کا گہرا تعلق سیاسی بقا اور مستقبل کی صف بندیوں سے ہوتا ہے۔ مجیب الرحمن شامی کے مطابق، جب اقتدار کے ایوانوں میں رہتے ہوئے ایسی باتیں ہوں تو اپنی ذات کو منوانے اور اپنے ہونے کا احساس دلانا ہی ایسی باتوں سے مقصود ہوتا ہے اور پھر ایسے سیاستدان اپنا نعرہ مستانہ بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہی نعرہ مستانہ بعض اوقات پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچاتا ہے، تو بعض اوقات گرتی ہوئی ساکھ کے لیے ایک حفاظتی دیوار کا کام بھی کر جاتا ہے۔

شیئر: