پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ’بیک سٹاپ فیسلٹی‘ کی درخواست کر دی: ذرائع
پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ’بیک سٹاپ فیسلٹی‘ کی درخواست کر دی: ذرائع
بدھ 22 جولائی 2026 5:34
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں پاکستان نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ ایکسچینج سٹیبلائزیشن سپورٹ کی سہولت مانگی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسیلٹی کی درخواست کی ہے، جو منظور ہونے کی صورت میں مالی مشکلات کا شکار ملک کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ خبر پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے۔ یہ درخواست ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ایران جنگ کے حوالے سے مذاکرات میں پاکستان کے کردار نے اس کی سفارتی اہمیت میں اضافہ کیا، جس کے بعد یہ توقع پیدا ہوئی کہ پاکستان امریکہ اور دیگر شراکت داروں سے معاشی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں پاکستان نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ ایکسچینج سٹیبلائزیشن سپورٹ کی سہولت مانگی ہے، جس کی مدت پانچ سال تک ہو سکتی ہے۔
اگر اس سہولت کی منظوری مل جاتی ہے تو اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں گے، روپے پر دباؤ کم ہوگا، اور ملک کی بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر انحصار میں کمی آئے گی۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوگا جب پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سخت مالیاتی اور مانیٹری اصلاحات پر عمل کر رہا ہے۔
امریکی وزارتِ خزانہ نے اس درخواست پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے بھی کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو واشنگٹن میں سکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کی۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق انہوں نے خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث پاکستان کی معیشت کو درپیش خطرات کا ذکر کیا، تاہم بیان میں 10 ارب ڈالر کی درخواست کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’سینیٹر اورنگزیب نے پاکستان کی مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے امریکی تعاون بڑھانے کی درخواست کی، جس کی بنیاد بین الاقوامی سرمایہ جاتی منڈیوں تک بہتر رسائی، زیادہ زرمبادلہ کے ذخائر، اور پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری پر ہو۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، امریکی سرمایہ کاری میں اضافے، اور اہم سٹریٹجک منصوبوں کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس وقت پاکستان 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام میں ہے، جس کے باعث حکومت کو غیر مقبول اقدامات جیسے ٹیکسوں میں اضافہ، سرکاری اخراجات میں کمی، اور مختلف معاشی اصلاحات کرنا پڑ رہی ہیں۔
ایکسچینج سٹیبلائزیشن سہولتیں امریکی وزارتِ خزانہ کی جانب سے شاذ و نادر فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کے ذریعے ڈالر، کرنسی سواپ یا حکومتی ضمانتیں فراہم کر کے کسی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنسی کو سہارا دیا جاتا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو واشنگٹن میں سکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کی۔ (فوٹو: وزارت خزانہ ایکس)
یہ سہولتیں امریکی فیڈرل ریزرو کی مستقل ڈالر سواپ لائنز سے مختلف ہوتی ہیں، جو صرف چند بڑی مرکزی بینکوں کے ساتھ موجود ہیں۔
سن 2025 میں ارجنٹینا کے لیے منظور کی گئی ایسی سہولت 2002 میں یوراگوئے کے بعد پہلی نئی مثال تھی، جبکہ میکسیکو کے ساتھ امریکہ کی مستقل سواپ لائن 1940 کی دہائی سے موجود ہے، جس کا حجم اب 9 ارب ڈالر ہے۔
پاکستان 2023 میں آئی ایم ایف کے 3 ارب ڈالر کے سٹینڈ بائی معاہدے کی بدولت ڈیفالٹ سے بچ گیا تھا۔ بعد ازاں اسے 7 ارب ڈالر کی یکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی اور موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے 1.3 ارب ڈالر کا الگ قرض بھی ملا۔
اس کے باوجود پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی سرکاری مالی معاونت، قرضوں کی تجدید، اور چین و سعودی عرب کے ڈپازٹس پر انحصار کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے پاکستان دوطرفہ مالی معاونت میں تبدیلیوں اور آئی ایم ایف کی قسطوں میں تاخیر کے خطرے سے دوچار رہتا ہے۔ اس کی ایک مثال اپریل میں سامنے آئی، جب پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر واپس کیے، جو اس وقت اس کے مجموعی ذخائر کا تقریباً پانچواں حصہ تھے، جبکہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کی نئی معاونت فراہم کی۔
پاکستان کے مرکزی بینک نے جنوری میں کہا تھا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جو 2021 کے ریکارڈ کے قریب ہوگا۔
واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کی نئی سمت
اگر امریکہ پاکستان کو ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت فراہم کرتا ہے تو یہ نہ صرف مالیاتی تحفظ فراہم کرے گی بلکہ ایک مضبوط سیاسی پیغام بھی ہوگا۔ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر اور پاکستانی روپے پر دباؤ کم ہوگا، جبکہ آئی ایم ایف کی قسطوں اور ہنگامی مالی امداد پر انحصار بھی گھٹے گا۔
اگر امریکہ پاکستان کو ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت فراہم کرتا ہے تو یہ نہ صرف مالیاتی تحفظ فراہم کرے گی بلکہ ایک مضبوط سیاسی پیغام بھی ہوگا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
آئی ایم ایف کی سپورٹ سے کیے گئے اصلاحات نے اگرچہ معیشت کو استحکام دیا ہے، لیکن اس کی سیاسی قیمت بھی ادا کرنا پڑی، جس میں زیادہ ٹیکس، اخراجات میں کمی، اور ترقیاتی و فلاحی منصوبوں کے لیے محدود وسائل شامل ہیں۔
فچ ریٹنگز نے اپریل میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام پر پاکستان کے عمل درآمد نے ملک کی مالیاتی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری نے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی جیسے معاشی جھٹکوں کے خلاف ایک حفاظتی دیوار کا کردار ادا کیا ہے۔
تاہم فچ کے مطابق بنیادی مسائل اب بھی برقرار ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹیں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو تیزی سے کم کر سکتی ہیں۔
پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اب بھی محدود ہے، جس کی وجوہات میں بار بار آنے والے بیرونی مالی بحران، پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال، سیکیورٹی خدشات، منافع کی بیرون ملک منتقلی پر ماضی کی پابندیاں، اور برآمدات کا محدود دائرہ شامل ہیں۔ اسی طرح پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اب بھی کم درجے میں ہونے کے باعث قرض لینا مہنگا اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی محدود ہے۔
پاکستان نے ان مسائل کے حل کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو معاشی تعاون کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب تک یہ تعاون کرپٹو کرنسی، رئیل اسٹیٹ اور معدنیات کے شعبوں تک پھیل چکا ہے۔
پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کے مرکزی کرپٹو کاروبار ورلڈ لبرٹی فنانشل سے منسلک ایک ادارے کے ساتھ سرحد پار ادائیگیوں کے لیے سٹیبل کوائن کا معاہدہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان نے نیویارک میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنزکے ملکیتی روزویلٹ ہوٹل کی دوبارہ ترقی کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر بھی پیش رفت کی ہے، جبکہ ریکوڈک منصوبے سمیت معدنیات کے شعبے میں امریکی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، جہاں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک پہلے ہی 1.25 ارب ڈالر کی مالی معاونت کا اعلان کر چکا ہے۔