Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

2025 میں 114.1 ارب ڈالرز سکیمنگ کے ذریعے لوٹ لیے گئے: اقوامِ متحدہ

2025 میں صرف دھوکہ دہی (سکیمنگ) کے ذریعے عالمی سطح پر 88.3 ارب سے 114.1 ارب ڈالر تک لوٹ لیے گئے (فوٹو: اے پی)
جنوب مشرقی ایشیا میں قائم جرائم پیشہ گروہ تیزی سے مربوط نیٹ ورکس اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی غیر قانونی معیشت تشکیل دے رہے ہیں جو نہایت تیزی سے پھل پھول رہی ہے اور جس کے اثرات ایشیا سے بہت آگے تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف دھوکہ دہی (سکیمنگ) کے ذریعے 2025 میں عالمی سطح پر 88.3 ارب سے 114.1 ارب ڈالر تک لوٹ لیے گئے۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی جرائم جو پہلے زیادہ تر جنوب مشرقی ایشیا تک محدود تھے، اب دیگر خطوں تک پھیل چکے ہیں، جبکہ عالمی جرائم پیشہ گروہ ایشیا میں منشیات، انسانی سمگلنگ اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت میں بھی ملوث ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جرائم پیشہ عناصر نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے عالمی مالیاتی نظام میں منی لانڈرنگ کر رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر میں لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
بچوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات
رپورٹ کا ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ بچوں کو مصنوعی ذہانت اور آن لائن گیمنگ دونوں سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا میں پھیلے ہوئے متعدد سکیمر کمپاؤنڈز جنسی سمگلنگ اور بچوں سے متعلق قابلِ اعتراض مواد کی خرید و فروخت کے مراکز بن چکے ہیں۔
یو این او ڈی سی کے محقق انشک سم کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ بچوں کی فحش تصاویر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو خفیہ مواصلاتی پلیٹ فارمز کے ذریعے شیئر کی جا رہی ہیں۔
مشرقی ایشیائی جرائم پیشہ گروہ میل ویئر، جنریٹو اے آئی اور ڈیپ فیکس جیسی ٹیکنالوجیز استعمال کرتے ہوئے جنسی بلیک میلنگ اور استحصال میں ملوث ہیں۔ اس رجحان کے باعث نہ صرف آن لائن بلکہ حقیقی دنیا میں بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے خطرات بڑھ رہے ہیں، جن میں لائیو سٹریمنگ کے ذریعے استحصال اور متاثرین کو پھانسنے (گرومنگ) جیسے حربے شامل ہیں۔

بچوں کو مصنوعی ذہانت اور آن لائن گیمنگ دونوں سے شدید خطرات لاحق ہیں (فوٹو: ووکل میڈیا)

رپورٹ کے مطابق، متاثرین کو صرف جنسی صنعت تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ انہیں گھریلو غلامی، جبری بھیک منگوانے اور جبری مشقت جیسے دیگر استحصالی کاموں میں بھی دھکیلا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا، آن لائن گیمنگ اور جوئے کی ویب سائٹس بھی بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہیں۔ رائے شماری کے جائزوں کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا میں سینکڑوں بچے اور نوجوان آن لائن جوئے میں ملوث ہیں، جن میں سے بعض اس کے عادی ہو چکے ہیں۔
منشیات، اسلحے اور جنگلی حیات کی سمگلنگ میں اضافہ
رپورٹ کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا اور قریبی علاقوں میں غیر قانونی منشیات کی سالانہ فروخت 109 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے، جبکہ منشیات کی بڑی کھیپوں کی ضبطگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان میں میتھ ایمفیٹامین، ہیروئن اور کیٹامین شامل ہیں۔
رپورٹ میں انڈونیشیا، ملائیشیا اور فلپائن کے درمیان واقع سولو-سیلیبیز سمندری مثلث کو لاطینی امریکا سے ایشیا تک کوکین کی سمگلنگ کے لیے ایک اہم راستہ قرار دیا گیا ہے، جہاں غیر قانونی سامان کو بعض اوقات قانونی اشیا جیسے چینی اور چائے وغیرہ کے اندر چھپا کر منتقل کیا جاتا ہے۔
یہ علاقہ جنگلی حیات اور چھوٹے ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے۔
ادھر تھائی لینڈ اور ویت نام سے جاپان (جہاں یہ غیر قانونی ہے) اور یورپ کو بھجوائی جانے والی کینابس (چرس) کی سمگلنگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی جرائم پیشہ گروہ ایشیا میں منشیات، انسانی سمگلنگ اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت میں بھی ملوث ہیں (فوٹو: ہمالیہ ٹائمز)

رواں سال کے آغاز میں ملائیشیا کی ریاست صباح میں حکام نے تین ٹن سے زائد میتھ ایمفیٹامین، کیٹامین اور ایکسٹیسی ضبط کی، جو اب تک کی سب سے بڑی کارروائی تھی۔
منی لانڈرنگ اور جدید حربے
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرحد پار مالیاتی اور ٹیکنالوجی نیٹ ورکس ایک ’جرائم پیشہ سروس انفراسٹرکچر‘ کو سہارا دے رہے ہیں، جو عالمی سطح پر منظم جرائم کو ممکن بناتا ہے۔
ان میں کرپٹو کرنسی، خفیہ مواصلاتی پلیٹ فارمز اور جنریٹو مصنوعی ذہانت شامل ہیں، جن کے ذریعے قائل کرنے والے فشنگ پیغامات، ریئل ٹائم ڈیپ فیک ویڈیوز اور جعلی آواز کی کالز تیار کی جاتی ہیں۔ اے آئی سے چلنے والے ٹرانسلیشن پلیٹ فارمز کے ذریعے یہ گروہ بیک وقت کئی زبانوں میں لوگوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
سیٹلائٹ کمیونیکیشن بھی دھوکہ دہی کے ان مراکز کو دور دراز یا سخت نگرانی والے علاقوں میں کام کرنے کے قابل بناتی ہے۔
کارروائیوں کے باوجود جرائم جاری
رپورٹ کے مطابق اس بڑھتے ہوئے جرائم پیشہ نظام سے نمٹنے کے لیے حکام کو مربوط، سرحد پار حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، جس میں ڈیٹا، مواصلات، مالیاتی نظام اور آن لائن مارکیٹس کے خلاف بیک وقت کارروائی کی جائے۔

جنوب مشرقی ایشیا اور قریبی علاقوں میں غیر قانونی منشیات کی سالانہ فروخت 109 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

تھائی لینڈ، چین اور دیگر ممالک میں میانمار، لاؤس اور کمبوڈیا کے سرحدی علاقوں میں قائم بڑے سکیمنگ مراکز کے خلاف کارروائیوں کے بعد جرائم پیشہ عناصر نے اپنی سرگرمیاں دنیا کے دیگر حصوں میں منتقل کر دی ہیں یا انہیں چھوٹے پیمانے پر جاری رکھا ہوا ہے۔
یو این ڈی او سی کے تجزیہ کار سیونگ جے شن کے مطابق، یہ مراکز تباہ تو کر دیے گئے ہیں، لیکن ان کی سرگرمیاں بند نہیں ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ سکیمر مراکز اب ولاز اور دیگر نجی جائیدادوں میں منتقل ہو کر زیرِ زمین کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی مزید مشکل ہو گئی ہے۔

شیئر: