Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’علاج مشکل تھا‘، نشے کے عادی افراد کے لیے قائم بحالی مراکز میں تشدد کی شکایات، حقیقت کیا ہے؟

ملک میں ایسے کئی بحالی مراکز موجود ہیں جو مریضوں کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کر رہے ہیں (فوٹو: ڈان)
اسلام آباد کے سیکٹر ڈی 13 کے رہائشی محمد جاوید نے ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے اپنے 25 سالہ بیٹے زوہیب اختر کو علاج کی غرض سے ترلائی میں واقع ’مائنڈ ہیلتھ‘ نامی ایک ری ہیب (بحالی مرکز) سینٹر میں داخل کروایا۔
تاہم، داخلے کے تقریباً 20 روز بعد انہیں سینٹر سے ایک کال موصول ہوئی جس میں انہیں یہ بتایا گیا کہ ان کے بیٹے کو تیز بخار ہے اور وہ فوری طور پر ہسپتال پہنچیں۔محمد جاوید جب بتائے گئے ہسپتال پہنچے تو وہاں ان کا بیٹا دم توڑ چکا تھا۔
انہوں نے اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے ہسپتال میں اپنے بیٹے کے جسم پر تشدد کے متعدد واضح نشانات دیکھے۔
وہ بعدازاں جب تفصیلات معلوم کرنے ہسپتال سے ترلائی میں قائم اس ری ہیب سینٹر پہنچے تو وہاں تالا لگا ہوا تھا اور تمام عملہ غائب تھا۔
یہ واقعہ اسلام آباد کے ایک ایسے ری ہیب سینٹر میں پیش آیا جہاں ایک نوجوان کو ذہنی تناؤ کے علاج کے لیے داخل کروایا گیا تھا، لیکن مبینہ طور پر وہاں اس کی پراسرار موت واقع ہو گئی۔ واقعے کے بعد اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں ایف آئی آر درج کی گئی اور اب اس معاملے کی تفتیش جاری ہے۔
تاہم یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں سے بھی کبھی کبھار ایسی خبریں سامنے آتی ہیں جہاں ری ہیب سینٹرز میں زیرِ علاج افراد کی حالت غیر ہو جاتی ہے یا پھر مبینہ تشدد اور بدانتظامی ان کی جان لے لیتی ہے۔
یوں اس پورے منظرنامے میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ پاکستان اور بالخصوص اسلام آباد میں قائم یہ ری ہیب سینٹرز کس طرح کام کرتے ہیں؟ ان کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے کیا قواعد موجود ہیں اور کیا وفاقی دارالحکومت میں غیر قانونی مراکز بھی چل رہے ہیں؟
پاکستان کے مختلف صوبوں اور خاص طور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کام کرنے والے ری ہیب سینٹرز کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ قانونی طور پر فعال رہنے کے لیے متعلقہ ’ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی‘ سے رجسٹریشن  اور لائسنس حاصل کریں۔
اگر صرف  اسلام آباد کی بات کی جائے تو یہاں ’اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی‘ (آئی ایچ آر اے) اپنے طے شدہ قواعد کے تحت ان مراکز کو کام کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

ملک کے مختلف شہروں میں قائم ری ہیب سینٹرز میں زیرِ علاج افراد پر مبینہ تشدد کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں (فوٹو:اے این)

آئی ایچ آر اے کسی بھی سینٹر کی عمارت، بنیادی ڈھانچے، سکیورٹی پروٹوکولز کے علاوہ انسانی وسائل یعنی وہاں موجود کوالیفائیڈ عملے بشمول رجسٹرڈ سائیکاٹرسٹ اور کلینیکل سائیکالوجسٹ کی موجودگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے منظوری دیتی ہے۔
اسلام آباد میں ایسے کئی بحالی مراکز موجود ہیں جو تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں اور وہاں سے لوگ صحت یاب بھی ہو رہے ہیں تاہم دوسری جانب ایسے غیر قانونی مراکز کا جال بھی موجود ہے جو بغیر کسی این او سی اور تربیت یافتہ عملے کے چلائے جا رہے ہیں۔ 
اُردو نیوز نے اس بارے میں مزید جاننے کے لیے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے سی ای او ڈاکٹر زعیم ضیا سے گفتگو کی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی ری ہیب سینٹرز سمیت صحت کے شعبے سے وابستہ تمام کلینکس، ہسپتالوں اور دیگر طبی اداروں کو ریگولیٹ کرنے کی مجاز ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آئی ایچ آر اے نے اگرچہ فی الحال ان سینٹرز کو باقاعدہ ’لائسنس‘ جاری کرنا شروع نہیں کیا، لیکن رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ ہماری ٹیمیں موقع پر جا کر جانچ پڑتال کرتی ہیں اور تسلی ہونے کے بعد ہی کام کی اجازت دی جاتی ہے۔‘
اُن سے جب یہ پوچھا گیا کہ غير رجسٹرڈ یا غیر قانونی سینٹرز کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے، تو انہوں نے بتایا کہ جب بھی ہمارے پاس کسی ایسے سینٹر کی شکایت آتی ہے جو بغیر رجسٹریشن کے چل رہا ہو، تو ہماری انفورسمنٹ ٹیم وہاں وزٹ کرتی ہے اور ضوابط کی خلاف ورزی پر سینٹر کو سِیل کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے شکایات کے طریقۂ کار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آئی ایچ آر اے کا اپنا آن لائن پورٹل موجود ہے جہاں شہری شکایت درج کروا سکتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا اور فیلڈ میں موجود ٹیموں کے ذریعے بھی معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم شکایت موصول ہونے پر معاملے پر باقاعدہ سماعت کرتے ہیں، تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں اور ادارہ اگر واقعی غیر قانونی پایا جائے تو اسے مستقل طور پر بند کر دیا جاتا ہے۔‘

ری ہیب سینٹرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ ’ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی‘ سے رجسٹریشن  اور لائسنس حاصل کریں (فوٹو:کوشش کلینک)

انہوں نے مزید بتایا کہ ’صرف گزشتہ چار ماہ کے دوران ہم نے اسلام آباد میں مختلف نوعیت کے تقریباً 2600 طبی اداروں کا معائنہ کیا، جن میں سے 375 کو سِیل کیا گیا۔ ساتھ ہی ہم آن سپاٹ رجسٹریشن بھی کر رہے ہیں اور اس عمل کے تحت 200 اداروں کو موقع پر ہی رجسٹر کیا گیا ہے۔‘
ترلائی میں نوجوان کی مبینہ ہلاکت کے واقعے سے متعلق آئی ایچ آر اے کا کہنا ہے کہ ’پولیس نے چونکہ ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے، اس لیے اتھارٹی پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور اب یہ تعین کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ سینٹر کس حیثیت میں کام کر رہا تھا۔‘
بحالی کا عمل اور اندرونی ماحول
ان مراکز میں علاج کے طریقۂ کار اور اندرونی ماحول کا جائزہ لینے کے لیے ہم نے اسلام آباد کے ’نیو لائف ری ہیب سینٹر‘ کے چیف ایگزیکٹو کفایت حسین خان سے گفتگو کی ہے۔
ان کے مطابق کسی باقاعدہ اور معیاری سینٹر میں داخلے سے قبل مریض کے خون اور شوگر سمیت تمام ضروری طبی معائنے کیے جاتے ہیں، اور رپورٹس درست آنے پر ہی اسے ایڈمٹ کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ ایسے سینٹرز بھی ہو سکتے ہیں جو بغیر کسی ٹیسٹ کے مریض کو داخل کر لیتے ہوں۔ نشے سے چھٹکارا تو ممکن ہے، لیکن اگر مریض کسی اور سنگین بیماری میں مبتلا ہو اور اس کا بروقت علاج نہ ہو تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے رجسٹرڈ سینٹرز تمام رپورٹس کے جائزے اور مریض کی جسمانی حالت تسلی بخش ہونے کے بعد ہی علاج شروع کرتے ہیں۔‘
انہوں نے علاج کے مختلف مراحل کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’سب سے پہلا مرحلہ 'ڈی ٹاکسی فیکیشن'کا ہوتا ہے، جس میں ادویات اور طبی عملے کی زیرِ نگرانی جسم سے نشے کا اثر زائل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد سائیکولوجیکل کونسلنگ اور ’آفٹر کیئر‘ جیسے مراحل جاری رہتے ہیں۔‘
انہوں نے سینٹر میں موجود عملے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ’ایک معیاری ری ہیب سینٹر میں سائیکاٹرسٹ، کلینیکل سائیکالوجسٹ، میڈیکل آفیسرز، پیرامیڈیکل سٹاف، خصوصی تربیت یافتہ نرسنگ سٹاف، کچن سٹاف اور مذہبی تعلیمات کے لیے عالمِ دین بھی موجود ہوتے ہیں۔‘

کسی بھی ری ہیب سینٹر میں داخلے سے قبل مریض کے خون اور شوگر سمیت تمام ضروری طبی معائنے کیے جاتے ہیں (فوٹو: ایم ایچ انوویٹیو)

اس تاثر پر کہ ری ہیب سینٹرز میں مریضوں سے سخت رویہ رکھا جاتا ہے اور اہلِ خانہ سے بھی ملنے نہیں دیا جاتا، کفایت حسین نے وضاحت کی کہ ’علاج کے طریقۂ کار میں طبی ایس او پیز کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔ علاج کے پہلے مرحلے میں مریض کا بیرونی دنیا اور گھر والوں سے رابطہ محدود کیا جاتا ہے تاکہ وہ بحالی کے عمل میں یکسو ہو سکے، لیکن وقت کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتیں بھی کروائی جاتی ہیں۔‘ 
اُن کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی دنوں میں اگر مریض کو گھر جیسا ماحول یا لواحقین سے ملنے کی اجازت دے دی جائے تو علاج کے عمل میں خلل پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اسی لیے پہلے مرحلے میں ملاقات پر کچھ پابندی ہوتی ہے اور عام طور پر دو ہفتوں بعد ہی ملنے کی اجازت دی جاتی ہے۔‘
اُنہوں نے مزید کہا کہ ’ڈی ٹاکسی فیکیشن کے ابتدائی مرحلے میں مریض کو شدید طلب ہوتی ہے۔ اس دوران اگر اس کے ساتھ نرمی برتی جائے تو اسے اس بات کا احساس نہیں ہو پاتا کہ اس کا باقاعدہ علاج چل رہا ہے۔‘
’علاج مشکل تھا، لیکن نشے سے نجات مل گئی‘
’اردو نیوز‘ نے اسلام آباد کے ایک ایسے شہری سے بھی گفتگو کی جو حال ہی میں دارالحکومت کے ایک نجی ری ہیب سینٹر میں چھ ماہ گزارنے کے بعد واپس آئے ہیں۔
اسلام آباد کے سیکٹر جی 6  کے رہائشی علی قریشی (فرضی نام) نے بتایا کہ ’وہ اپنی یونیورسٹی کے دنوں میں نشے کی لَت میں مبتلا ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کے گھر والوں نے انہیں ایک بحالی مرکز منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

مریض کو اپنے اہلِ خانہ سے علاج کے عموماً دو ہفتوں کے بعد ملاقات کی اجازت دے دی جاتی ہے (فوٹو: دی یونیورسٹی آف فیصل آباد)

علی قریشی کے مطابق، مجھے سینٹر کا عملہ گھر سے زبردستی پکڑ کر لے گیا تھا۔ ابتدائی دنوں میں ڈی ٹاکسی فیکیشن کا عمل میرے لیے انتہائی دردناک اور مشکل تھا۔ میں نے بہت مزاحمت کی، جس کی وجہ سے میرے ساتھ سختی بھی کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ’بعض اوقات ادویات کھلانے کے لیے میرے ساتھ زبردستی کی جاتی تھی، تاہم مجھ پر کوئی شدید جسمانی تشدد نہیں ہوا، لیکن یہ پورا مرحلہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’ابتدائی تین ماہ کی سختی کے بعد اگلے تین مہینوں میں ان کی حالت میں بتدریج بہتری آنے لگی اور اب چھ ماہ کا دورانیہ مکمل کرنے کے بعد وہ خود کو کافی بہتر محسوس کر رہے ہیں۔‘

شیئر: