افغانستان کے حکمران طالبان سے فرار ہو کر گذشتہ کئی برسوں سے امریکہ میں آبادکاری کے فیصلے کے منتظر افغانوں کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے کے بعد واشنگٹن کی جانب سے تمام افغان امیگریشن کیسز منجمد کرنے سے ان کا آخری محفوظ راستہ بھی بند ہو گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی شہریت و امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) نے بدھ کی رات اعلان کیا کہ اس نے افغان شہریوں کے کیسز کی پراسیسنگ غیرمعینہ مدت کے لیے روک دی ہے۔ یہ اقدام اس واقعے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں ایک افغان شہری نے واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں کو گولی مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔
مزید پڑھیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کو ’دہشت گردی کا واقعہ‘ قرار دیتے ہوئے جو بائیڈن کے دور صدارت میں امریکہ میں داخل ہونے والے افغانوں کے بارے میں نظرِثانی کا حکم دیا ہے۔
پاکستان میں مقیم افغانوں کے لیے، جن میں سے لاکھوں امریکہ میں آبادکاری کے فیصلوں کے منتظر ہیں، اس اعلان نے یہ احساس مزید گہرا کر دیا کہ ان کی آخری محفوظ راہ بند ہو چکی ہے۔
’اگر میں واپس گیا تو آپ میری گرفتاری یا موت کی خبر سنیں گے‘
افغانستان کے صوبے پنجشیر سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ احمد سمیم نعیمی، جو سابق امریکی حمایت یافتہ حکومت میں ٹی وی پریزینٹر اور پریس ایڈوائزر رہ چکے ہیں، نے بتایا کہ ’یہ خبر سن کر میں شدید پریشان ہوا۔ ہم تمام ضروری مراحل مکمل کر چکے ہیں۔‘
وہ اس وقت پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق طالبان کے ہاتھوں صحافیوں اور سابق سرکاری ملازمین کی گرفتاریوں کے بعد وہ پاکستان آئے اور امریکہ میں آبادکاری کے لیے درخواست دی۔
احمد سمیم نعیمی نے کہا کہ ’اگر میں واپس گیا، تو ایک دن آپ میری گرفتاری یا موت کی خبر ضرور سنیں گے۔‘

پاکستان میں قیام بھی ان کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ حکام نے ایسے افغانوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے جن کے پاس باضابطہ پناہ گزین کا درجہ نہیں ہے۔ پاکستان گذشتہ برس کے دوران پانچ لاکھ سے زائد افغانوں کو ملک بدر کر چکا ہے اور بڑے شہروں میں گرفتاریوں کا سلسلہ بھی تیز ہوا ہے۔ حتیٰ کہ وہ افغان جن کے پاس ویزے یا یو این ایچ سی آر کارڈز موجود ہیں، انہیں بھی چیک پوسٹس پر روکنے، گھروں سے بے دخل یا رشوت طلب کرنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
پاکستان کی اطلاعات اور داخلہ وزارتیں، اور افغانستان کی پناہ گزین و خارجہ امور کی وزارتوں نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔ طالبان کا موقف ہے کہ افغانستان اب پُرامن ہے اور شہریوں کے لیے واپس جانا محفوظ ہے۔
’تباہی کے خطرے‘ کا اندیشہ
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سابق سرکاری ملازمین، صحافی، فوجی اور مغربی فورسز سے وابستہ افراد کو اب بھی طالبان کے ہاتھوں گرفتاری، گمشدگی یا پھانسی کے خطرات کا سامنا ہیں، جبکہ خواتین پر نقل و حرکت، ملازمت اور تعلیم پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔












