Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مریم نواز کو چھوٹے کپڑوں پہننے والوں کیخلاف قانون سازی کا مشورہ، جو فلک شبیر کو ’مہنگا پڑ گیا‘

فلک شبیر پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے (فوٹو: سوشل میڈیا)
پاکستان کے مشہور گلوکار اور اداکارہ سارہ خان کے شوہر فلک شبیر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے عوامی مقامات پر مختصر لباس پہننے والوں کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔
فلک شبیر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی ایک سٹوری میں لکھا کہ ’دو بیٹیوں کے والد کی حیثیت سے میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ بازاروں اور سڑکوں پر مختصر لباس پہننے والوں کے خلاف قانون بنایا جائے، ورنہ ہم ثقافتی طور پر تباہ ہو جائیں گے۔‘
فلک شبیر کی اس پوسٹ نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے۔ متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ فلک شبیر کن علاقوں یا بازاروں کی بات کر رہے ہیں جہاں لوگ مختصر لباس میں گھومتے ہیں، جبکہ بعض افراد نے یہ بھی پوچھا کہ اس معاملے کا ان کی بیٹیوں سے کیا تعلق ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ آیا عوام کے لباس کے انتخاب کو قانون سازی کے ذریعے کنٹرول کیا جانا چاہیے یا نہیں۔ فلک شبیر کی پوسٹ کے بعد اس موضوع پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں اور معاملہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔
تاہم گلوکار نے اپنی پوسٹ میں نہ تو کسی مخصوص علاقے کا ذکر کیا اور نہ ہی اس حوالے سے مزید وضاحت کی کہ وہ کن حالات یا واقعات کے تناظر میں یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔
مسلم لیگ کی رکن پنجاب اسمبلی حنا بٹ نے ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’پتہ نہیں فلک شبیر جیسے لوگوں کا دماغ کب خواتین کے کپڑوں سے نکلے گا۔ آپ کبھی استنبول گئے ہوں تو وہاں خواتین کے لباس پر کوئی بات نہیں کرتا، یہاں پاکستان میں جس کا جو دل کرتا ہے سوشل میڈیا پر آکر بولنا شروع کر دیتا ہے۔ ایسی ذہنیت کی وجہ سے پاکستان آگے نہیں بڑھ رہا۔ خدارا اپنے کام سے کام رکھنا شروع کر دیں تو معاشرے کیلئے یہ ایک بڑی خدمت ہوگی۔‘
ایکس صارف سیدہ ماہین نے ایک سکرین شارٹ شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ’تو فلک شبیر دراصل ان دو وائرل خوش پوش لڑکیوں کے بارے میں بات کر رہے تھے جو اس طرح کے کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ ’عورتوں کے کپڑوں پر اعتراض کرنے والے یہ مرد دراصل اکثر خواتین کے لباس سے مسئلہ رکھتے ہیں۔‘
علشبہ نے لکھا کہ ’فلک شبیر نے جو بھی کہا ہے وہ 101 فیصد درست ہے۔ یہ نئی نسل اس بات کو نہیں سمجھتی اور فوراً فیمینسٹ قسم کے ڈرامے شروع کر دیتی ہے، لیکن وہ بالکل صحیح ہیں۔‘

اداکارہ علیرہ شاہ نے دعوی کیا کہ جب وہ فلک شبیر کے ساتھ میوزک ویڈیوز میں کام کر رہی تھیں، اُس وقت انہیں ایسے ملبوسات پہننے پر مجبور کیا گیا جو اُن کی پسند کے مطابق نہیں تھے۔
ان کے مطابق ’یہ لباس سارہ خان نے ڈیزائن کیے تھے اور میں خود انہیں پہننا نہیں چاہتی تھی، مگر مجھ پر اصرار کیا گیا، تب فلک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان یاد تو نہیں آیا۔‘

شیئر: