دنیا کی معروف ارب پتی شخصیت ایلون مسک نے ایک بار پھر اپنے مستقبل کے ایسے تصور پر بات کی ہے جس میں ان کے بقول مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ہیومنائیڈ روبوٹس کی بدولت دنیا میں اشیا اور خدمات کی اتنی فراوانی ہوگی کہ سنہ 2036 تک پیسے کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔
اس بیان کے بعد نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات نے انہیں اپنی دولت عطیہ کرنے کا چیلنج دیا، جس پر ایلون مسک نے بھی مثبت عندیہ دیا ہے۔
’بینزنگا‘ کے مطابق ’سپیس ایکس‘ اور ’ٹیسلا‘ کے چیف ایگزیکٹیو ایلون مسک نے اس سے قبل ’دی اکنامسٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’سنہ 2036 میں پیسے کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔‘
مزید پڑھیں
اسی بیان کی ویڈیو کو 2024 میں معاشیات کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے ماہرِ معاشیات ڈیرون ایسیموغلو نے ایکس پر شیئر کرتے ہوئے ایلون مسک کو چیلنج دیا کہ اگر واقعی 2036 میں پیسے کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی تو وہ اپنی موجودہ قریباً ایک ٹریلین ڈالر مالیت کی دولت 2036 سے پہلے خیرات کرنے کا وعدہ کریں۔
ڈیرون ایسیموغلو کا کہنا تھا کہ ’ایسا کرنے سے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ایلون مسک کے مؤقف پر لوگوں کا اعتماد بڑھے گا، جبکہ دنیا بھر میں ارب پتیوں اور کھرب پتیوں کے سیاسی اور سماجی اثر و رسوخ سے متعلق خدشات بھی کسی حد تک کم ہوں گے۔‘
ان کے اس بیان کا حوالہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی سابق ڈپٹی ڈائریکٹر گیتا گوپی ناتھ نے بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر 2036 میں پیسے کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی تو ممکن ہے اس وقت تک ایلون مسک کے پاس عطیہ کرنے کے لیے ایک ٹریلین ڈالر بھی نہ ہوں‘، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر آج اس دولت کی قدر ایک ٹریلین ڈالر کیوں ہے؟‘
’بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس‘ کے اعداد و شمار کے مطابق ’سپیس ایکس‘ اور ’ٹیسلا‘ کے حصص میں کمی کے بعد ایلون مسک کی دولت ایک ٹریلین ڈالر سے کم ہو کر قریباً سات 709 ڈالر رہ گئی ہے۔
بعد ازاں مصنف گیڈ سعد نے ڈیرون ایسیموغلو کی پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے دوبارہ شیئر کیا، جس پر ایلون مسک نے جواب دیا کہ ’میں حقیقت میں اس نوعیت کا کچھ کرنے جا رہا ہوں۔‘ ایلون مسک کے اس مختصر جواب کو ان کی جانب سے مستقبل میں بڑے پیمانے پر خیرات کرنے کا عندیہ سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایلون مسک اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور ہیومنائیڈ روبوٹس مستقبل میں اتنی زیادہ پیداواری صلاحیت حاصل کر لیں گے کہ دنیا سے قلت ختم ہو جائے گی، جبکہ ان کے مطابق اے آئی لوگوں کے لیے یونیورسل ہائی اِنکم کا باعث بھی بنے گی۔

تاہم ان کے اس مؤقف پر تنقید بھی کی گئی ہے۔ ماہرِ معاشیات سنجیو سنیال نے رواں سال اپریل میں کہا تھا کہ ’مصنوعی ذہانت کے باعث ملازمتوں میں کمی آئے گی اور یہ ٹیکنالوجی مہنگائی کو ختم نہیں کرے گی۔‘
اسی طرح امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے بھی ایلون مسک کے یونیورسل اِنکم کے تصور پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر وہ اپنی کثیر ارب ڈالر کی دولت پر ویلتھ ٹیکس کی حمایت نہیں کرتے تو پھر حکومت بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر لوگوں کو رقم کیسے فراہم کرے گی؟‘
دوسری جانب فوربز نے اسی انٹرویو کی مزید تفصیلات شائع کرتے ہوئے بتایا کہ ’ایلون مسک کے مطابق آئندہ 10 برسوں میں دنیا ناقابلِ یقین فراوانی کے دور میں داخل ہو جائے گی۔‘
فوربز کے مطابق ایلون مسک نے کہا کہ ’جب روبوٹس اور مصنوعی ذہانت انسانوں کی ضرورت سے کہیں زیادہ اشیا اور خدمات فراہم کر رہے ہوں گے تو پھر پیسے کی ضرورت ہی کیا رہ جائے گی۔‘
ان کے مطابق ’لوگ پیسے کا استعمال خوراک، رہائش، نقل و حمل اور تفریح جیسی ضروریات پوری کرنے کے لیے کرتے ہیں، لیکن اگر یہ تمام چیزیں اتنی وافر مقدار میں دستیاب ہوں کہ ہر انسان کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہوں تو پیسے کی اہمیت خود بخود ختم ہو جائے گی۔‘
فوربز نے جب یاد دلایا کہ ایلون مسک اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’توانائی ہی اصل کرنسی ہے۔‘ اس بیان کے بعد بٹ کوائن کے حامیوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں کہ شاید وہ خاموشی سے کرپٹو کرنسی کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ ان کی دونوں بڑی کمپنیاں، سپیس ایکس اور ٹیسلا، بٹ کوائن کے نمایاں ذخائر رکھتی ہیں۔













