Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بچوں کی خاموش آوازوں کو زبان دینے والی شہزاد رائے کی ’وال آف سیکریٹس‘

’وال آف سیکریٹس‘ بچوں کو بغیر شناخت ظاہر کیے اپنے جذبات اور احساسات بیان کرنے کا موقع دیتی ہے۔ (فوٹو: شہزاد رائے انسٹاگرام)
مشہور گلوکار، سماجی کارکن اور فلاحی شخصیت شہزاد رائے نے ماہرِ تعلیم انعم شکیل اور زندگی ٹرسٹ کے تعاون سے ایک منفرد اقدام ’وال آف سیکریٹس‘ متعارف کروایا ہے، جس کا مقصد بچوں کو اپنی مشکلات، احساسات اور تجربات محفوظ انداز میں بیان کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں شہزاد رائے نے اس منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اکثر بچے تشدد، بدسلوکی، ہراسانی یا دیگر حساس مسائل کے بارے میں کھل کر بات نہیں کر پاتے۔ ایسے حالات میں وہ اپنے جذبات اور تجربات کو الفاظ کے بجائے آرٹ، ڈرائنگ اور تخلیقی اظہار کے ذریعے سامنے لاتے ہیں۔ ’وال آف سیکریٹس‘ دراصل انہی خاموش آوازوں کو سننے اور سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکول کے مختلف مقامات پر ’دل کی بات کہہ دو‘ اور ’بولتے کیوں نہیں‘ جیسے عنوانات کے تحت گمنام فیڈبیک باکسز نصب کیے گئے ہیں، جہاں طلبہ بغیر اپنی شناخت ظاہر کیے اپنے خدشات، مسائل اور احساسات تحریر کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیوار پر آویزاں پینٹنگز، خاکے اور دیگر آرٹ ورک بچوں کی اندرونی دنیا، جذباتی کیفیت اور بعض اوقات ان مسائل کی بھی عکاسی کرتے ہیں جنہیں وہ براہِ راست بیان نہیں کر پاتے۔
شہزاد رائے کے مطابق بچوں کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات اور آرٹ ورک کا جائزہ تربیت یافتہ ماہرین اور کونسلرز لیتے ہیں، جو ممکنہ مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے حل کے لیے اقدامات تجویز کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طریقۂ کار کے ذریعے متعدد ایسے معاملات سامنے آئے جنہیں بروقت توجہ دے کر حل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچوں کو محفوظ اور غیر محفوظ رویوں کے بارے میں آگاہی دینا بھی اس تعلیمی ماڈل کا حصہ ہے تاکہ وہ اپنی حفاظت اور حقوق کے حوالے سے بہتر شعور حاصل کر سکیں۔ شہزاد رائے نے تمام تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ بھی اس طرز کے اقدامات اختیار کریں، کیونکہ یہ نہ صرف بچوں کو اظہارِ رائے کا محفوظ موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ اساتذہ اور والدین کو بھی یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ بچے کن ذہنی، جذباتی یا سماجی مسائل سے گزر رہے ہیں۔
شہزاد رائے کی اس کاوش کو سوشل میڈیا پر بھی خوب سراہا جا رہا ہے۔ متعدد فنکاروں اور سماجی شخصیات نے اسے بچوں کے تحفظ اور ذہنی صحت کے حوالے سے ایک مثبت اور مؤثر قدم قرار دیا ہے۔
ایک ایسے دور میں جب معاشرتی برائیاں، تشدد، ہراسانی اور ذہنی دباؤ بچوں کی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں، ’وال آف سیکریٹس‘ جیسے اقدامات امید کی ایک روشن کرن ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف بچوں کی خاموش کہانیوں کو آواز دیتے ہیں بلکہ انہیں ایک محفوظ، پُراعتماد اور بہتر مستقبل کی جانب بڑھنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔

شیئر: