Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چین کا ’کیمی کے تھری‘ کیا ہے اور امریکہ اس سے پریشان کیوں ہے؟

کیمی کے تھری کو غیر معمولی توجہ ملنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ماڈل مفت دستیاب ہے۔(فوٹو:اے ایف پی)
چین کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کمپنی ڈیپ سیک نے رواں برس اپنے اے آئی ماڈل سے امریکی ٹیکنالوجی انڈسٹری کو حیران کر دیا تھا۔ تاہم اب ایک اور چینی کمپنی ’مون شاٹ اے آئی‘  اپنے نئے اے آئی ماڈل ’کیمی کے تھری‘ کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
سی این این کے مطابق کیمی کے تھری کی لانچ کے صرف دو روز بعد مون شاٹ اے آئی کو نئے صارفین کی رجسٹریشن عارضی طور پر روکنا پڑی کیونکہ صارفین کی غیر معمولی دلچسپی کے باعث کمپنی کی کمپیوٹنگ صلاحیت جواب دے گئی۔
’کیمی کے تھری‘ کو غیر معمولی توجہ ملنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ماڈل مفت دستیاب ہے اور مختلف معیار جانچنے والے ٹیسٹوں میں اوپن اے آئی کے جدید ’جی پی ٹی‘ ماڈلز اور امریکی کمپنی ’انتھروپک‘ کے ’کلاڈ‘ ماڈلز کے برابر ہے، بلکہ بعض معاملات میں ان سے بہتر کارکردگی دکھانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت نے ایک بار پھر امریکہ اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی برتری کی دوڑ کو تیز کر دیا ہے۔ 
واشنگٹن گزشتہ چند برسوں سے چین پر جدید چپس اور اے آئی ٹیکنالوجی کی برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کرتا آ رہا ہے تاکہ ایسی ٹیکنالوجی کی ترقی کو سست کیا جا سکے جو مستقبل میں چین کی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
’کیمی کے تھری‘ کی کامیابی نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ آیا امریکی برآمدی پابندیاں واقعی اپنے مقاصد حاصل کر رہی ہیں یا نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس ماڈل نے اس تصور کو بھی چیلنج کیا ہے کہ جدید ترین اے آئی تیار کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، وسیع ڈیٹا سینٹرز اور جدید ترین چپس ناگزیر ہیں۔

کیمی کے تھری میں خاص بات کیا ہے؟

زیادہ تر امریکی اے آئی ماڈلز صرف ادائیگی کے بعد استعمال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ’کیمی کے تھری‘ کو ’اوپن ویٹ‘ ماڈل کے طور پر جاری کیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈویلپرز اسے مفت ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں، اپنی ضرورت کے مطابق اس میں تبدیلی کر سکتے ہیں اور اسے اپنے سرورز پر چلا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں اس ماڈل کو اپنانا نسبتاً آسان سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی کمپنیوں کے مقابلے میں چین کو جدید چپس اور سرمایہ کاری تک محدود رسائی حاصل ہے۔(فوٹو:گیٹی امیجز)

امریکی کمپنیوں کے مقابلے میں چین کو جدید چپس اور سرمایہ کاری تک محدود رسائی حاصل ہے، اسی لیے وہاں کی اے آئی کمپنیاں زیادہ تر اوپن ماڈلز تیار کرنے کی حکمت عملی اختیار کر رہی ہیں، جبکہ امریکہ کی بڑی کمپنیاں اپنی جدید سروسز زیادہ تر بامعاوضہ سبسکرپشن کے ذریعے فراہم کرتی ہیں۔
مالیاتی ادارے مارننگ سٹار کی سینئر تجزیہ کار چیلسی ٹام کے مطابق بہت سی کمپنیاں اوپن ماڈلز کو اس لیے ترجیح دیتی ہیں کیونکہ وہ انہیں اپنے سرورز پر چلا سکتی ہیں، جس سے حساس معلومات پر ان کا کنٹرول برقرار رہتا ہے اور انہیں بند ماڈلز پر مکمل انحصار نہیں کرنا پڑتا۔

مون شاٹ اے آئی کس نے قائم کی؟

مون شاٹ اے آئی صرف تین برس قبل قائم کی گئی تھی۔ اس کے بانی ’یانگ ژی لن‘ چین کے جنوب مشرقی شہر شانتو سے تعلق رکھنے والے نوجوان سافٹ ویئر انجینیئر ہیں۔
انہوں نے چین کی معروف سنگھوا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، جہاں ان کے استاد ’تانگ جے‘ بعد میں اے آئی کمپنی زیڈ اے آئی کے بانی بھی بنے۔ تانگ جے نے 2014 میں یانگ ژی لن کے لیے وظیفے کی سفارش کرتے ہوئے انہیں اپنے حالیہ برسوں کے سب سے باصلاحیت طالب علموں میں سے ایک قرار دیا تھا۔
بعد ازاں یانگ ژی لن نے امریکہ کی ’کارنیگی میلن یونیورسٹی‘ سے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کی، جہاں انہوں نے میٹا اور ایپل کے سابق اے آئی ایگزیکٹو ’رسلان صلاح الدینوف‘ کی نگرانی میں تحقیق کی۔
رسلان صلاح الدینوف کے مطابق یانگ ژی لن کو ایپل میں ملازمت کی پیشکش بھی ہوئی تھی، تاہم انہوں نے اپنی کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
رسلان کے بقول یانگ ژی لن نے انہیں بتایا تھا کہ اگر انہوں نے اپنی کمپنی بنانے کی کوشش نہ کی تو وہ ساری زندگی اس فیصلے پر پچھتائیں گے۔

بعد میں یانگ ژی لن نے چینی سرکاری میڈیا کو بتایا کہ چین واپس آنے کا فیصلہ انہوں نے دو وجوہات کی بنیاد پر کیا۔(فوٹو:اے پی)

بعد میں یانگ ژی لن نے چینی سرکاری میڈیا کو بتایا کہ چین واپس آنے کا فیصلہ انہوں نے دو وجوہات کی بنیاد پر کیا۔
ان کے مطابق پہلی وجہ حکومت، سرمایہ کاروں اور تعلیمی شعبے کی جانب سے اے آئی سٹارٹ اپس کے لیے سازگار ماحول تھا، جبکہ دوسری وجہ یہ یقین تھا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی سب سے بڑی کاروباری اور تکنیکی صنعت بننے جا رہی ہے۔
یانگ ژی لن نے صرف 32 برس کی عمر میں مون شاٹ اے آئی قائم کی، جس کی وجہ سے وہ چین کے کم عمر اے آئی کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
کمپنی نے 2023 میں اپنا پہلا کیمی ماڈل متعارف کرایا، جس کا نام یانگ ژی لن کے انگریزی نام ’کیمی‘ پر رکھا گیا تھا۔ اسی ماڈل کے بعد مون شاٹ اے آئی کو چین بھر میں نمایاں شہرت ملی۔
اسی سال کمپنی نے سرمایہ کاری کے ابتدائی دو مراحل میں تقریباً ’30 کروڑ امریکی ڈالر‘ کی فنڈنگ بھی حاصل کی۔
یانگ ژی لن نے 2024 میں ایک پوڈکاسٹ کے دوران بتایا کہ مون شاٹ کا نام برطانوی راک بینڈ پنک فلوئڈ کے مشہور البم ’ڈارک سائیڈ آف دی مون‘ سے متاثر ہو کر رکھا گیا۔ ان کے مطابق کمپنی کا مقصد ایسا کام کرنا تھا جو چاند پر پہنچنے جتنا مشکل ہو، لیکن کامیاب ہونے کی صورت میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ثابت ہو۔

کیا یہ ایک اور ’ڈیپ سیک لمحہ‘ ہے؟

کیمی کے تھری نے عالمی سطح پر وہی توجہ حاصل کی ہے جو 2025 کے آغاز میں چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کے ’آر ون‘ ماڈل کو ملی تھی، جس نے مصنوعی ذہانت کی عالمی صنعت کو حیران کر دیا تھا۔
سی این این کے مطابق مختلف معیار جانچنے والے ٹیسٹوں میں کیمی کے تھری کی کارکردگی اوپن اے آئی کے ’جی پی ٹی 5.6 سول‘ اور انتھروپک کے ’کلاڈ فیبل 5‘ جیسے جدید ماڈلز کے قریب دیکھی گئی، جس سے چینی اور امریکی اے آئی ماڈلز کے درمیان فرق مزید کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کیمی کے تھری کو ڈیپ سیک کے تناظر میں دیکھنا چاہیے، لیکن دونوں کی کامیابی کی نوعیت مختلف ہے۔
مالیاتی ادارے مارننگ سٹار کے ڈائریکٹر آئیون سو کے مطابق ڈیپ سیک نے یہ تصور بدل دیا تھا کہ جدید اے آئی ماڈل تیار کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور وسیع کمپیوٹنگ وسائل ناگزیر ہیں، جبکہ اس نے اپنی خدمات نسبتاً کم قیمت پر بھی فراہم کیں۔
ان کے مطابق کیمی کے تھری کی قیمت کا فرق ڈیپ سیک جتنا نمایاں نہیں، اس لیے اس کی لاگت میں برتری اتنی بڑی نہیں سمجھی جا سکتی۔

 ’ڈیپ سیک ایک حیرت تھی، جبکہ کیمی کے تھری اس بات کا ثبوت ہے کہ چین کی پیش رفت اب ایک مسلسل رجحان بنتی جا رہی ہے۔‘ (فوٹو:اے پی)

دوسری جانب ٹیکنالوجی نیوز لیٹر ہیلو چائنا ٹیک کے بانی اور تجزیہ کار پو ژاؤ کا کہنا ہے کہ کیمی کے تھری کی اصل اہمیت اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی کمپنیاں ڈیپ سیک کی کامیابی کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکی اور چینی اے آئی ماڈلز کے درمیان فرق کم کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ان کے بقول ’ڈیپ سیک ایک حیرت تھی، جبکہ کیمی کے تھری اس بات کا ثبوت ہے کہ چین کی پیش رفت اب ایک مسلسل رجحان بنتی جا رہی ہے۔‘
سی این این کے مطابق ڈیپ سیک کے بعد مون شاٹ اے آئی، علی بابا اور زیڈ اے آئی جیسی چینی کمپنیوں کے ہر نئے ماڈل کو عالمی سطح پر زیادہ توجہ مل رہی ہے، جبکہ نئے ماڈلز متعارف کرانے کی رفتار بھی تیز ہو گئی ہے۔
مارکیٹ ریسرچ کمپنی کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کی اے آئی تجزیہ کار وی سن کے مطابق مجموعی طور پر چینی اور امریکی اے آئی ماڈلز کے درمیان فرق اب تقریباً تین سے چھ ماہ رہ گیا ہے، اگرچہ مختلف شعبوں میں یہ فرق مختلف ہو سکتا ہے۔
مارننگ سٹار کے سینئر تجزیہ کار ملک احمد خان کے مطابق اگرچہ کیمی کے تھری ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم حقیقی زندگی میں اس کی کارکردگی کو ابھی امریکی جدید ماڈلز، خصوصاً کلاڈ فیبل 5 کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کے مطابق ماضی میں بعض اوپن ماڈلز تیار کرنے والی کمپنیاں مختلف معیار جانچنے والے ٹیسٹوں میں بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے اپنے ماڈلز کو مخصوص انداز میں بہتر بناتی رہی ہیں، اس لیے صرف ان ٹیسٹوں کی بنیاد پر مکمل برابری کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

امریکہ نے کیا الزامات لگائے ہیں؟

کیمی کے تھری کی کامیابی کے بعد امریکی کمپنی انتھروپک اور وائٹ ہاؤس کے بعض حکام نے مون شاٹ اے آئی پر الزام عائد کیا کہ اس نے امریکی اے آئی ماڈلز سے معلومات حاصل کر کے اپنا ماڈل تیار کیا۔
اس طریقہ کار کو ’ڈسٹلیشن‘ کہا جاتا ہے، جس میں ایک اے آئی ماڈل دوسرے ماڈل کے جوابات سے سیکھتا ہے۔
مون شاٹ اے آئی کے انٹرپرائز بزنس کے سربراہ ہوانگ ژین شن نے چینی سرکاری میڈیا سے گفتگو میں ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے اپنے ماڈل کی تیاری میں ایسا کوئی طریقہ استعمال نہیں کیا۔
تاہم اس وضاحت کے باوجود واشنگٹن میں خدشات کم نہیں ہوئے۔
وائٹ ہاؤس کے آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی کے ڈائریکٹر مائیکل کریٹسیوس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا کہ امریکی حکومت کے پاس ایسی معلومات موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مون شاٹ اے آئی نے کیمی کے تھری کی تیاری میں انتھروپک کے ماڈل سے استفادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیکنالوجی چوری کرنے اور تحقیق کو نقصان پہنچانے کی غرض سے بڑے پیمانے پر خفیہ انداز میں ڈسٹلیشن ناقابل قبول ہے۔

انتھروپک پالیسی سربراہ نے مون شاٹ پر املاک کی چوری اور صنعتی جاسوسی کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔(فوٹو:رائٹر)

انتھروپک کی پالیسی سربراہ سارہ ہیک نے بھی مون شاٹ پر دانشورانہ املاک کی چوری اور صنعتی جاسوسی کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
سی این این کے مطابق اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے مون شاٹ اے آئی سے بھی رابطہ کیا گیا۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بھی خبردار کیا کہ اگر چینی کمپنیاں امریکی دانشورانہ املاک چوری کرنے کی مرتکب پائی گئیں تو ان کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے ساتھ ساتھ انہیں امریکی ’اینٹیٹی لسٹ‘ میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے، جس سے ان کے لیے امریکی ٹیکنالوجی تک رسائی مزید محدود ہو سکتی ہے۔

ماہرین امریکی الزامات سے کیوں متفق نہیں؟

اگرچہ امریکی حکام نے مون شاٹ اے آئی پر سنگین الزامات لگائے ہیں، تاہم بیشتر آزاد تجزیہ کار ان دعوؤں سے اتفاق نہیں کرتے۔
کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کی وی سن کے مطابق کیمی کے تھری کی تیاری کے وقت کو دیکھتے ہوئے یہ امکان کم ہے کہ مون شاٹ اے آئی اپنے حریفوں کے جدید ترین ماڈلز سے اس حد تک تربیت حاصل کر سکی ہو، کیونکہ وہ ماڈلز کیمی کے تھری کی لانچ سے پہلے محدود پیمانے پر ہی دستیاب تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف ڈسٹلیشن کی مدد سے کیمی کے تھری کی بہتر کارکردگی کی وضاحت بھی نہیں کی جا سکتی۔
ان کے بقول، ’واقعات کی زمانی ترتیب اس دعوے کو قابلِ یقین نہیں بناتی۔‘ 

شیئر: