Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایکس‘ صارفین ہوشیار، جعلی لاگ اِن ای میلز کے ذریعے اکاؤنٹس کو کیسے ہیک کیا جا رہا ہے؟

دھوکے بازوں کا اصل مقصد صارف کا ’ایکس‘ اکاؤنٹ اپنے قبضے میں لینا ہے (فائل فوٹو: پکسابے)
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے صارفین کو ہیکرز کی جانب سے جعلی ای میلز کے ذریعے نشانہ بنانے کی نئی مہم سامنے آئی ہے، جس کا مقصد صارفین کے اکاؤنٹس تک غیرقانونی طور پر رسائی حاصل کرنا ہے۔
برطانوی اخبار ’گارڈین‘ کے مطابق صارفین کو ایسی ای میلز موصول ہو رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ میں کسی نئے ڈیوائس یا کسی دوسرے مقام سے لاگ اِن کیا گیا ہے۔
ای میل میں صارف سے پوچھا جاتا ہے کہ ’کیا یہ لاگ اِن آپ نے کیا تھا؟‘ اور اگر جواب نفی میں ہو تو فوری طور پر پاس ورڈ تبدیل کرنے یا اکاؤنٹ کی سکیورٹی چیک کرنے کے لیے ایک لِنک پر کِلک کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ای میل میں دی گئی ہدایات بظاہر درست معلوم ہوتی ہیں، لیکن ان میں موجود لنکس جعلی ویب سائٹس پر لے جاتے ہیں، جہاں صارف کا پاس ورڈ یا دیگر حساس معلومات چوری کر لی جاتی ہیں، یا صارف سے دھوکے سے کسی ایسی ایپ کو اجازت دلوائی جاتی ہے جو براہِ راست اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔
سائبر سکیورٹی کمپنی ’ای سیٹ‘ کے مشیر جیک مور کے مطابق ’دھوکے بازوں کا اصل مقصد صارف کا ایکس اکاؤنٹ اپنے قبضے میں لینا ہے، جس کے بعد وہ اسے کرپٹو کرنسی فراڈ، فِشنگ حملوں، جعلی معلومات پھیلانے اور دیگر آن لائن جرائم کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘
ماہرین کے مطابق ’یہ جعلی ای میلز اصل ’ایکس‘ نوٹیفکیشن سے کافی حد تک مِلتی جُلتی ہوتی ہیں، جن میں ’ایکس‘ کا لوگو، رنگ، ڈیزائن اور زبان بھی قریباً یکساں ہوتی ہے، تاہم چند نشانیاں ان کی جعل سازی ظاہر کرتی ہیں۔
مثال کے طور پر ای میل میں صارف کے ایکس ہینڈل کا ذکر نہیں ہوتا، لاگ اِن کی لوکیشن مبہم ہوتی ہے اور ای میل ایسے پتے سے بھیجی جاتی ہے جو ایکس کے آفیشل ڈومین سے تعلق نہیں رکھتا۔‘
ایکس نے واضح کیا ہے کہ ’کمپنی صرف (@x.com) یا (@e.x.com) ڈومین سے ای میل بھیجتی ہے۔‘

’کمپنی کبھی بھی ای میل کے ذریعے صارف سے پاس ورڈ طلب نہیں کرتی، نہ ہی پاس ورڈ یا ون ٹائم کوڈ فراہم کرنے کی درخواست کرتی ہے۔‘
سائبر ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ ایسی کوئی بھی مشکوک ای میل موصول ہونے پر گھبرانے کے بجائے ای میل میں موجود لنکس پر کلک نہ کریں۔ اگر اکاؤنٹ کی سکیورٹی سے متعلق واقعی کوئی مسئلہ ہو تو اس کی اطلاع براہِ راست ایکس ایپ یا ویب سائٹ پر لاگ اِن کرنے کے بعد بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
اگر کسی صارف نے غلطی سے جعلی ویب سائٹ پر اپنا پاس ورڈ یا ون ٹائم پاس کوڈ درج کر دیا ہو تو فوری طور پر اپنا پاس ورڈ تبدیل کریں، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن فعال کریں اور اکاؤنٹ کی سکیورٹی سیٹنگز کا جائزہ لیں۔ اگر اکاؤنٹ ہیک ہونے کا شبہ ہو تو ایکس کی آفیشل ہیلپ سروس سے رابطہ کریں، کیونکہ کمپنی مشتبہ اکاؤنٹس کا پاس ورڈ ری سیٹ کر کے محفوظ طریقے سے نیا پاس ورڈ منتخب کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

شیئر: