Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عالمی ڈیمانڈ اور پاکستان میں شدید ضرورت کے باوجود نرسنگ کا شعبہ زوال کا شکار کیوں؟

’پاکستان نرسنگ کونسل طویل عرصے سےشدید انتظامی و مالی بے ضابطگیوں کا شکار رہا ہے‘ (فوٹو: میڈیکل نیوز پاکستان)
دنیا بھر میں شعبہ صحت کی ترقی اور آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث نرسنگ کی ڈیمانڈ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی سطح پر پیدا ہونے والا یہ خلا پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک سنہری موقعے کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے ہنرمند افرادی قوت باہر بھیج کر اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان میں حالیہ عرصے کے دوران فارغ التحصیل ہونے والی نرسوں کی تعداد میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا، جس کے باعث ملک عالمی سطح پر موجود اس بڑے موقع کو حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔

طلب اور رسد کا فرق

اگر نرسنگ کے شعبے میں افرادی قوت اور پیداوار کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے، تو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر طلب اور رسد کا فرق واضح ہے۔
 سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کو اپنی موجودہ آبادی کی طبی ضروریات پوری کرنے کے لیے قریباً نو لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے اس کے برعکس، ملک میں اس وقت سالانہ صرف پانچ ہزار چھ سو کے قریب نرسنگ گریجویٹس پاس ہو کر نکل رہے ہیں، جو کہ ملکی ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
 اسی طرح انٹرنیشنل کونسل آف نرسز کی رپورٹ کے مطابق سال 2030 تک دنیا بھر میں 40 لاکھ سے زائد نرسوں کی کمی کا خدشہ ہے مغربی اور خلیجی ممالک اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ایشیائی ممالک کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
اتنی بڑی عالمی مارکیٹ کی موجودگی کے باوجود پاکستان کی صرف چھ ہزار نرسیں بیرونِ ملک برسرِ روزگار ہیں۔
دوسری جانب انڈیا  اور فلپائن جیسے ممالک اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کی تقریباً چھ لاکھ نرسیں عالمی مارکیٹ کا حصہ ہیں۔

پاکستان کے مقابلے میں انڈیا نرسز کی عالمی سطح پر مانگ کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے (فوٹو: ہیلتھ کیئر ورلڈ)

پاکستان لائسنس یافتہ نرسوں کی تعداد کیوں نہیں بڑھا پا رہا؟

طبی ماہرین اور عالمی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں نرسوں کی تعداد اور ان کے پیشہ ورانہ معیار میں اضافہ نہ ہونے کی کئی بنیادی وجوہات ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ نرسنگ کے شعبے کی نگرانی کرنے والا واحد ریگولیٹری ادارہ ’پاکستان نرسنگ کونسل‘ طویل عرصے سے شدید انتظامی و مالی بے ضابطگیوں اور اندرونی بحران کا شکار رہا ہے۔
ریگولیٹری کمزوریوں کے باعث ملک بھر میں ایسے غیر معیاری نرسنگ کالجز کی بھرمار ہو گئی جن کے پاس نہ تو کلینیکل ٹریننگ کے لیے ہسپتال موجود ہیں اور نہ ہی کوالیفائیڈ فیکلٹی، جس کے نتیجے میں کوالیفائیڈ نرسیں تیار کرنے کے بجائے محض ڈگریاں بانٹنے کا رجحان فروغ پا رہا ہے اور حقیقی ہنر مند افرادی قوت کا فقدان ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ خصوصاً امریکہ، برطانیہ یا کینیڈا جانے کے لیے نرسوں کو نیشنل کونسل لائسنسنگ ایگزامینیشن یا انگریزی زبان کے امتحانات پاس کرنا ہوتے ہیں۔
ملک کے روایتی تعلیمی نصاب میں ان امتحانات کے لیے کوئی خاص گائیڈ لائنز یا تربیت شامل نہیں ہے، جس کی وجہ سے گریجویٹس ان کو پاس کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

مغربی ممالک میں جانے کے لیے نیشنل کونسل لائسنسنگ ایگزامینیشن اور انگریزی زبان کے امتحانات پاس کرنا ہوتے ہیں (فوٹو: میگنٹا ہیلتھ)

’مافیا کا خاتمہ اور نظام کی ڈیجیٹلائزیشن‘

پاکستان کے وزیر صحت مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ پاکستان نرسنگ کونسل طویل عرصے سے ایک منظم مافیا کے چنگل میں تھی، جہاں نرسنگ کالجز کی رجسٹریشن کی مد میں کروڑوں روپے کی رشوت کا لین دین ہوتا تھا یہاں تک کہ کونسل کی سابقہ صدر خود جعلی ڈگری پر کام کر رہی تھیں۔
اُنہوں نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’اس پورے نظام کو چیلنج کے طور پر قبول کر رہے ہیں اور اسے مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے جا رہے ہیں، ہمارا ہدف صرف کونسل کو ٹھیک کرنا نہیں، بلکہ ملکی سطح پر نرسنگ کی کمی کو پورا کرنا اور ملکی افرادی قوت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کرنا ہے۔‘
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگر پاکستان اپنی تعلیمی صلاحیتوں میں اضافہ کر کے سالانہ گریجویٹس کی تعداد 15 سے 20 ہزار تک لے جائے تو ملکی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ سالانہ 5,000 سے 8,000 اعلیٰ تربیت یافتہ نرسیں بیرونِ ملک بھیجی جا سکتی ہیں۔
اس وقت دنیا بھر میں ہنر مند طبی عملے کی مانگ عروج پر ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کا ہیلتھ سسٹم بڑے پیمانے پر ایشیائی نرسوں کو ویزے اور پرکشش تنخواہیں دے رہا ہے جبکہ یورپی یونین میں جرمنی اور آئرلینڈ جیسے ممالک بھی اب غیر ملکی نرسوں کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔
اسی طرح خلیجی ممالک میں ٹیکس فری تنخواہوں اور رہائش کی سہولیات کے ساتھ پاکستانی عملے کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، جہاں عام نرسنگ کے علاوہ 'آئی سی یو سپیشلسٹس' اور 'نرس پریکٹیشنرز' کو زیادہ مراعات دی جا رہی ہیں۔

امریکہ و برطانیہ کے علاوہ خلیجی ممالک میں لائسنس یافتہ نرسز کی بہت مانگ ہے (فوٹو: اے ایف پی)

معروف ہیلتھ کیئر ایکسپرٹ اور ماہرِ معیشت ڈاکٹر شمائل داؤد جو 'ہیلتھ کیئر مینجمنٹ' اور 'ہیلتھ ایڈمنسٹریشن' میں اعلیٰ غیرملکی ڈگریاں رکھتے ہیں، نے اس بارے میں اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف بل پاس کرنے سے نرسنگ کا بحران حل نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو اپنے ریگولیٹری اداروں کی خامیاں دور کرکے نجی شعبے کو ساتھ ملانا ہوگا اور گراؤنڈ پر معیاری کالجز بنانے ہوں گے۔
ان کا ماننا ہے کہ اگر نرسنگ کے پیشے کو پرکشش مراعات دے کر اگلے پانچ برسوں میں سالانہ پیداوار 15 سے 20 ہزار تک بڑھا دی جائے تو ملک سالانہ 5 سے 6 ہزار نرسیں باہر بھیج کر صرف اسی ایک شعبے سے ایک ارب ڈالر کا خطیر زرمبادلہ کما سکتا ہے۔
اُنہوں کے مطابق ’عالمی ادارہ صحت کے طے کردہ معیار کے مطابق پاکستان میں جہاں ہر 10 ہزار افراد کے لیے 30 نرسیں ہونی چاہییں، وہاں ہمارے پاس محض 5.6 نرسیں دستیاب ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ہم سالانہ صرف 5 سے 6 ہزار نرسیں گریجویٹ کر رہے ہیں جو کہ ناکافی ہے۔
حکومت کی طرف سے حال ہی میں متعارف کروائے گئے آرڈیننس کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر شمائل داؤد کا کہنا تھا کہ وہ جتنے مرضی قوانین یا بل پاس کر لے، جب تک گراؤنڈ پر اچھے نرسنگ کالجز نہیں بنائے جائیں گے اور اس پیشے کو مراعات دے کر پرکشش نہیں بنایا جائے گا، تب تک یہ کمی پوری نہیں ہو سکتی۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ پاکستان نرسنگ کونسل کو بحال اور مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے (فوٹو: اے پی پی)

انہوں نے بحران سے نکلنے کے لیے نجی شعبے کو فروغ دینے اور متبادل کے طور پر سامنے لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ڈاکٹر شمائل داؤد کے مطابق ’اگر نجی شعبے میں نرسنگ کالجز کے مسائل یا بے ضابطگیاں موجود ہیں، تو وہ بھی دراصل سرکاری اداروں کی اپنی کوتاہیوں اور انتظامی کمزوریوں کا نتیجہ ہیں، اس لیے حکومت کو سب سے پہلے اپنے ریگولیٹری اداروں کی ان خرابیوں کو دور کرنا ہو گا۔‘

 

شیئر: